بے تاب پاس شمع کے پروانہ آ گیا

Kaifi Chirayyakoti (1890–1956)

بے تاب پاس شمع کے پروانہ آ گیا

کیا بات ہے کہ ہوش میں دیوانہ آ گیا

ساقی کی بارگاہ میں توبہ ہوئی قبول

خود ڈھونڈھتا ہوا مجھے مے خانہ آ گیا

سجدوں کا میرے ناز اٹھانے کے واسطے

کعبے کے سامنے در جانانہ آ گیا

دامن کو میرے دیکھ کے حسرت کے ہاتھ میں

یاد ان کو اپنا لطف کریمانہ آ گیا

مجھ کو مرے سوال پہ بخشا ہے دو جہاں

اب اعتبار طرز فقیرانہ آ گیا

تھی شیخ و برہمن کی مے و انگبیں پہ بحث

اتنے میں بڑھ کے کیفیؔ دیوانہ آ گیا