وہ کون ہے جو یہاں شادماں نہیں ملتا

Hadi Machlishahri (1890–1961)

وہ کون ہے جو یہاں شادماں نہیں ملتا

تری گلی میں کہیں آسماں نہیں ملتا

میں کس سے وادئ غربت میں راستہ پوچھوں

لٹا ہوا بھی کوئی کارواں نہیں ملتا

نگاہ یار بھی عقدہ کشائے دل نہ ہوئی

مری خلش کا کوئی رازداں نہیں ملتا

جبین شوق کی کم وسعتی کا بھی ہے قصور

یہی نہیں کہ ترا آستاں نہیں ملتا

جہاں میں کچھ بھی نہیں ماسوائے رنج و الم

مرے نصیب کا لکھا کہاں نہیں ملتا

زمین شعر کی دشواریوں کا خوف نہیں

میں اپنے رنگ میں ہادیؔ کہاں نہیں ملتا