Poetry
Hazaj Musamman Salim
ہزج مثمن سالم- میان کار دنیا ہم سے دل ناشاد کیا کرتےہمیں وہ یاد کب آیا اسے ہم یاد کیا کرتےPirzada Qasim
- میان کار فن لفظوں کی قسمت جاگ اٹھتی ہےبہت مسرور رہتا ہوں بہت چہرہ سجاتا ہوںPirzada Qasim
- بہت رک رک کے چلتی ہے ہوا خالی مکانوں میںبجھے ٹکڑے پڑے ہیں سگریٹوں کے راکھ دانوں میںAhmad Mushtaq
- تم آئے ہو تمہیں بھی آزما کر دیکھ لیتا ہوںتمہارے ساتھ بھی کچھ دور جا کر دیکھ لیتا ہوںAhmad Mushtaq
- لبھاتا ہے اگرچہ حسن دریا ڈر رہا ہوں میںسبب یہ ہے کہ اک مدت کنارے پر رہا ہوں میںAhmad Mushtaq
- یہ کہنا تو نہیں کافی کہ بس پیارے لگے ہم کوانہیں کیسے بتائیں ہم کہ وہ کیسے لگے ہم کوAhmad Mushtaq
- ستم ہے تیرے عاشق کے لئے بیمار ہو جانابڑی آفت ہے دل کے ہاتھ سے ناچار ہو جاناجمیلہ خدا بخش
- کہاں لے جائے گی دیکھوں یہ میری آرزو مجھ کولیے پھرتی ہے ہر جانب تمہاری جستجو مجھ کوجمیلہ خدا بخش
- پلا ساقی مئے گل رنگ پھر کالی گھٹا آئیچھپانے کو گنہ مستوں کے کعبہ کی ردا آئیHabeeb Moosavi
- کہا تخلیق فن بولے بہت دشوار تو ہوگیکہا مخلوق بولے باعث آزار تو ہوگیAitbar Sajid
- کہا دن کو بھی یہ گھر کس لیے ویران رہتا ہےیہاں کیا ہم سا کوئی بے سر و سامان رہتا ہےAitbar Sajid
- مجھے وہ کنج تنہائی سے آخر کب نکالے گااکیلے پن کا یہ احساس مجھ کو مار ڈالے گاAitbar Sajid
- مرا ہے کون دشمن میری چاہت کون رکھتا ہےاسی پر سوچتے رہنے کی فرصت کون رکھتا ہےAitbar Sajid
- یہ برسوں کا تعلق توڑ دینا چاہتے ہیں ہماب اپنے آپ کو بھی چھوڑ دینا چاہتے ہیں ہمAitbar Sajid
- یہ کیا حالت بنا رکھی ہے یہ آثار کیسے ہیںبہت اچھا بھلا چھوڑا تھا اب بیمار کیسےAitbar Sajid
- اگر ہو ظرف سے خالی تو کیا رکھا ہے دریا میںسمندر کو بھی میں نے ڈوبتے دیکھا ہے قطرہ میںFaheem Jogapuri
- بہ تسخیر بتاں تسبیح کیوں زاہد پھراتے ہیںیہ لوہے کے چنے واللہ عاشق ہی چباتے ہیںWaliullah Muhib
- دم رخصت جو ان سے کہہ کے میں اٹھا خدا حافظلگے جھنجھلا کے وہ کہنے بہت اچھا خدا حافظمرزا آسمان جاہ انجم
- نگہ کیا اور مژہ کیا اے صنم اس کو بھی اس کو بھیسمجھتے ہیں قضا کا تیر ہم اس کو بھی اس کو بھیمرزا آسمان جاہ انجم
- ترے آگے عدو کو نامہ بر مارا تو کیا مارانہ مارا جاں سے جس دم اس کو گر مارا تو کیا مارانظام رامپوری
- بگڑنے سے تمہارے کیا کہوں میں کیا بگڑتا ہےکلیجا منہ کو آ جاتا ہے دل ایسا بگڑتا ہےنظام رامپوری
- کبھی ملتے تھے وہ ہم سے زمانہ یاد آتا ہےبدل کر وضع چھپ کر شب کو آنا یاد آتا ہےنظام رامپوری
- کسی نے پکڑا دامن اور کسی نے آستیں پکڑینہ اٹھا میں ہی اس کوچے سے یہ میں نے زمیں پکڑینظام رامپوری
- اگر اس کا مرا جھگڑا یہیں طے ہو تو اچھا ہوخدا جانے خدا کے سامنے کل کیا نہ ہو کیا ہونوح ناروی
- بطور یادگار زہد مے خانے میں رکھ دینامری ٹوٹی ہوئی توبہ کو پیمانے میں رکھ دینانوح ناروی
- مرے دل کی خطائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیںخطاؤں پر سزائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیںنوح ناروی
- نکھر آئی نکھار آئی سنور آئی سنوار آئیگلوں کی زندگی لے کر گلستاں میں بہار آئینوح ناروی
- تکلف ہے مراد دل کا دل پر بار ہو جانامحبت کیا ہے مرنے کے لئے تیار ہو جاناثاقب لکھنوی
- خدا معلوم کس کی چاند سے تصویر مٹی کیجو گورستاں میں حسرت ہے گریباں گیر مٹی کیآغا حجو شرف
- رہا کرتے ہیں یوں عشاق تیری یاد و حسرت میںبسے رہتے ہیں جیسے پھول اپنی اپنی نکہت میںآغا حجو شرف
- ہوس گل زار کی مثل عنادل ہم بھی رکھتے تھےکبھی تھا شوق گل ہم کو کبھی دل ہم بھی رکھتے تھےآغا حجو شرف
- قدم رکھتا ہے جب رستوں پہ یار آہستہ آہستہتو چھٹ جاتا ہے سب گرد و غبار آہستہ آہستہTahzeeb Hafi
- کرے عاشق پہ وہ بیداد جتنا اس کا جی چاہےرکھے دل کو مرے ناشاد جتنا اس کا جی چاہےحسرت عظیم آبادی
- محبت کو سمجھنا ہے تو ناصح خود محبت کرکنارے سے کبھی اندازۂ طوفاں نہیں ہوتاKhumar Barabankavi
- میں یاں بیٹھا تو تم واں اٹھ گئے اے یار کیا باعثہوئے بے دل ہی اپنے آپ کیوں بیزار کیا باعثعبدالرحمان احسان دہلوی
- اگر ثابت قدم ہو عشق میں جیوں شمع جل سکیےمقابل تند خو کی تیغ ابرو کے سنبھل سکیےعشق اورنگ آبادی
- خیال گل بدن آ کر بسا ہو جس کے پہلو میںوہ بوئے غنچۂ گل کو نہیں گنتا کسی بو میںعشق اورنگ آبادی
- گزارش کر صبا خدمت میں تو اس لاابالی کےترے جانے سے گل مرجھا گئے ہیں نقش قالی کےعشق اورنگ آبادی
- اسے کیا رات دن جو طالب دیدار پھرتے ہیںغرض ہے تو غرض کے واسطے سو بار پھرتے ہیںصفی اورنگ آبادی
- بنے ہو خاک سے تو خاکساری ہو طبیعت میںطبیعت ایسی بنتی ہے تو بنتی ہے محبت میںصفی اورنگ آبادی
- چھٹی امید تو میں حال دل کہنے سے کیوں ڈرتامثل مشہور ہے سرکار مرتا کیا نہیں کرتاصفی اورنگ آبادی
- کسی دن تو ہمارا درد دل سوز جگر دیکھوکبھی تو بھول کر آؤ کبھی تو پوچھ کر دیکھوصفی اورنگ آبادی
- نہ روتا زار زار ایسا نہ کرتا شور و شر اتناالٰہی کیا کروں درد جگر اتنا جگر اتناصفی اورنگ آبادی
- وہی ہوتا ہے جو محبوب کو منظور ہوتا ہےمحبت کرنے والا ہر طرح مجبور ہوتا ہےصفی اورنگ آبادی
- بہت تھا خوف جس کا پھر وہی قصا نکل آیامرے دکھ سے کسی آواز کا رشتا نکل آیاBashar Nawaz
- تمہارے روز و شب سے اب کوئی نسبت نہیں لیکنتمہارا عکس ہر لمحے کے آئینے میں ملتا ہےBashar Nawaz
- ہم ایسے لوگ شیشے میں اتر جاتے ہیں دل داراچھنک کر ٹوٹ جاتے ہیں بکھر جاتے ہیں دل داراIdris Azad
- کسو کو مجھ سے نے مجھ کو کسو سے کام رہتا ہےمرے دل میں سوا تیرے خدا کا نام رہتا ہےمیر اثر
- کہوں کیا دل اڑانے کا ترا کچھ ڈھب نرالا تھاوگرنہ ہر طرح سے اب تلک تو میں سنبھالا تھامیر اثر
- یہاں کیا ہے وہاں کیا ہے ادھر کیا ہے ادھر کیا ہےکوئی سمجھے تو کیا سمجھے وہ نیرنگ نظر کیا ہےمبارک عظیم آبادی