Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Hazaj Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf

ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. اظہار صداقت میں اثر کیوں نہیں ہوتااب میری طرف ان کا گزر کیوں نہیں ہوتاEhsan Danish (1914–1982)
  2. رعنائی کونین سے بے زار ہمیں تھےہم تھے ترے جلووں کے طلب گار ہمیں تھےEhsan Danish (1914–1982)
  3. تم سادہ مزاجی سے مٹے پھرتے ہو جس پروہ شخص تو دنیا میں کسی کا بھی نہیں ہےEhsan Danish (1914–1982)
  4. رہتا نہیں انسان تو مٹ جاتا ہے غم بھیسو جائیں گے اک روز زمیں اوڑھ کے ہم بھیEhsan Danish (1914–1982)
  5. کس کس کی زباں روکنے جاؤں تری خاطرکس کس کی تباہی میں ترا ہاتھ نہیں ہےEhsan Danish (1914–1982)
  6. آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہوسایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہوJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  7. اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیںکچھ شعر فقط ان کو سنانے کے لیے ہیںJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  8. سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گیتم آئے تو اس رات کی اوقات بنے گیJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  9. وہ لوگ ہی ہر دور میں محبوب رہے ہیںجو عشق میں طالب نہیں مطلوب رہے ہیںJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  10. کب آپ کا در جلوہ گہ عام نہیں ہےکب شام و سحر دور میں واں جام نہیں ہےTahniyatunnisa Begam Tahniyat (b. 1915)
  11. ہم تذکرۂ لطف و کرم کرتے رہیں گےآسائش کونین بہم کرتے رہیں گےTahniyatunnisa Begam Tahniyat (b. 1915)
  12. دعویٰ تو کیا حسن جہاں سوز کا سب نےدنیا کا مگر روپ بڑھایا تری چھب نےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  13. سورج کو نکلنا ہے سو نکلے گا دوبارہاب دیکھیے کب ڈوبتا ہے صبح کا تارہAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  14. ہم دن کے پیامی ہیں مگر کشتۂ شب ہیںاس حال میں بھی رونق عالم کا سبب ہیںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  15. تصویر بناتا ہوں تری خون جگر سےدیکھا ہے تجھے میں نے محبت کی نظر سےShakeel Badayuni (1916–1970)
  16. جو دل پہ گزرتی ہے وہ سمجھا نہیں سکتےہم دیکھنے والوں کو نظر آ نہیں سکتےShakeel Badayuni (1916–1970)
  17. خوش ہوں کہ مرا حسن طلب کام تو آیاخالی ہی سہی میری طرف جام تو آیاShakeel Badayuni (1916–1970)
  18. پی شوق سے واعظ ارے کیا بات ہے ڈر کیدوزخ ترے قبضے میں ہے جنت ترے گھر کیShakeel Badayuni (1916–1970)
  19. سب کچھ مری قسمت کا تیرے در کے قریں ہےجینا بھی یہیں ہے مجھے مرنا بھی یہیں ہےYadgar Husain Nashtar Khairabadi (1916–1964)
  20. فریاد نہیں شکر ستم کرتے رہیں گےہم خود انہیں مجبور کرم کرتے رہیں گےYadgar Husain Nashtar Khairabadi (1916–1964)
  21. بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہےمیرے کسی پہلو میں قضا ہے کہ نہیں ہےKaif Bhopali (1917–1991)
  22. کہنے کو تو کیا کیا نہ دل زار میں آئےہر بات کہاں قالب‌‌ اظہار میں آئےJafar Tahir (1917–1977)
  23. جلوہ ترا اس طرح سے ناکام نہ ہوتاہم طور پہ ہوتے تو یہ انجام نہ ہوتاJagan Nath Azad (1918–2004)
  24. یوں اک سبق مہر و وفا چھوڑ گئے ہمہر راہ میں نقش کف پا چھوڑ گئے ہمJagan Nath Azad (1918–2004)
  25. آزادؔ! ذرا دیکھ تو یہ عالم ارژنگموسم کے یہ انداز بہاروں کے یہ نیرنگJagan Nath Azad (1918–2004)
  26. اس دور میں توفیق انا دی گئی مجھ کوکس جرم کی آخر یہ سزا دی گئی مجھ کوQateel Shifai (1919–2001)
  27. اندیشۂ ارباب حرم ساتھ رہے گاجنت بھی ملے گی تو یہ غم ساتھ رہے گاQateel Shifai (1919–2001)
  28. اے دوست! تری آنکھ جو نم ہے تو مجھے کیامیں خوب ہنسوں گا تجھے غم ہے تو مجھے کیاQateel Shifai (1919–2001)
  29. جو بیت گئی اس کی خبر ہے کہ نہیں ہےدیکھو مرے تن پر مرا سر ہے کہ نہیں ہےQateel Shifai (1919–2001)
  30. حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتاٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتاQateel Shifai (1919–2001)
  31. شرمندہ انہیں اور بھی اے میرے خدا کردستار جنہیں دی ہے انہیں سر بھی عطا کرQateel Shifai (1919–2001)
  32. کیا اس کا گلا کیجے اسے پیار ہی کب تھاوہ عہد فراموش وفادار ہی کب تھاQateel Shifai (1919–2001)
  33. وہ شخص کہ میں جس سے محبت نہیں کرتاہنستا ہے مجھے دیکھ کے نفرت نہیں کرتاQateel Shifai (1919–2001)
  34. یارو کسی قاتل سے کبھی پیار نہ مانگواپنے ہی گلے کے لیے تلوار نہ مانگوQateel Shifai (1919–2001)
  35. رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئیتم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئیKaifi Azmi (1919–2002)
  36. خنجر کی طرح بوئے سمن تیز بہت ہےموسم کی ہوا اب کے جنوں خیز بہت ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  37. گو رات مری صبح کی محرم تو نہیں ہےسورج سے ترا رنگ حنا کم تو نہیں ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  38. مانا کہ تری بزم میں چاند آئے ہوئے ہیںلیکن وہ ترے سامنے گہنائے ہوئے ہیںRaaz Layalpuri (b. 1920)
  39. کچھ لوگ جو نخوت سے مجھے گھور رہے ہیںماحول سے شاید یہ بہت دور رہے ہیںYawar Abbas (b. 1920)
  40. برباد محبت کی دعا ساتھ لیے جاٹوٹا ہوا اقرار وفا ساتھ لیے جاSahir Ludhianvi (1921–1980)
  41. ہر چند مری قوت گفتار ہے محبوسخاموش مگر طبع خود آرا نہیں ہوتیSahir Ludhianvi (1921–1980)
  42. ہر طرح کے جذبات کا اعلان ہیں آنکھیںشبنم کبھی شعلہ کبھی طوفان ہیں آنکھیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
  43. یہ زلف اگر کھل کے بکھر جائے تو اچھااس رات کی تقدیر سنور جائے تو اچھاSahir Ludhianvi (1921–1980)
  44. تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گاانسان کی اولاد ہے انسان بنے گاSahir Ludhianvi (1921–1980)
  45. تم میرے لیے اب کوئی الزام نہ ڈھونڈوچاہا تھا تمہیں اک یہی الزام بہت ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  46. ہم غم زدہ ہیں لائیں کہاں سے خوشی کے گیتدیں گے وہی جو پائیں گے اس زندگی سے ہمSahir Ludhianvi (1921–1980)
  47. مانا کہ میں اک نغمۂ بے صوت و صدا ہوںبھٹکے ہوئے لوگوں کے لئے بانگ درا ہوںKaleem Saronji (b. 1921)
  48. اب کھل کے کہو بات تو کچھ بات بنے گییہ دور اشارات و کنایات نہیں ہےHafeez Merathi (1922–2000)
  49. بے قصد سفر جاتے ہیں معلوم نہیں کیوںپھر خود ہی ٹھہر جاتے ہیں معلوم نہیں کیوںLais Quraishi (b. 1922)
  50. جو بات رہے دل میں وہی بات بڑی ہےالفت کا تقاضا بھی یہی کم سخنی ہےBaldev singh Hamdam (b. 1922)