Poetry
Hazaj Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف- اظہار صداقت میں اثر کیوں نہیں ہوتااب میری طرف ان کا گزر کیوں نہیں ہوتاEhsan Danish (1914–1982)
- رعنائی کونین سے بے زار ہمیں تھےہم تھے ترے جلووں کے طلب گار ہمیں تھےEhsan Danish (1914–1982)
- تم سادہ مزاجی سے مٹے پھرتے ہو جس پروہ شخص تو دنیا میں کسی کا بھی نہیں ہےEhsan Danish (1914–1982)
- رہتا نہیں انسان تو مٹ جاتا ہے غم بھیسو جائیں گے اک روز زمیں اوڑھ کے ہم بھیEhsan Danish (1914–1982)
- کس کس کی زباں روکنے جاؤں تری خاطرکس کس کی تباہی میں ترا ہاتھ نہیں ہےEhsan Danish (1914–1982)
- آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہوسایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہوJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیںکچھ شعر فقط ان کو سنانے کے لیے ہیںJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گیتم آئے تو اس رات کی اوقات بنے گیJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- وہ لوگ ہی ہر دور میں محبوب رہے ہیںجو عشق میں طالب نہیں مطلوب رہے ہیںJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- کب آپ کا در جلوہ گہ عام نہیں ہےکب شام و سحر دور میں واں جام نہیں ہےTahniyatunnisa Begam Tahniyat (b. 1915)
- ہم تذکرۂ لطف و کرم کرتے رہیں گےآسائش کونین بہم کرتے رہیں گےTahniyatunnisa Begam Tahniyat (b. 1915)
- دعویٰ تو کیا حسن جہاں سوز کا سب نےدنیا کا مگر روپ بڑھایا تری چھب نےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- سورج کو نکلنا ہے سو نکلے گا دوبارہاب دیکھیے کب ڈوبتا ہے صبح کا تارہAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- ہم دن کے پیامی ہیں مگر کشتۂ شب ہیںاس حال میں بھی رونق عالم کا سبب ہیںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- تصویر بناتا ہوں تری خون جگر سےدیکھا ہے تجھے میں نے محبت کی نظر سےShakeel Badayuni (1916–1970)
- جو دل پہ گزرتی ہے وہ سمجھا نہیں سکتےہم دیکھنے والوں کو نظر آ نہیں سکتےShakeel Badayuni (1916–1970)
- خوش ہوں کہ مرا حسن طلب کام تو آیاخالی ہی سہی میری طرف جام تو آیاShakeel Badayuni (1916–1970)
- پی شوق سے واعظ ارے کیا بات ہے ڈر کیدوزخ ترے قبضے میں ہے جنت ترے گھر کیShakeel Badayuni (1916–1970)
- سب کچھ مری قسمت کا تیرے در کے قریں ہےجینا بھی یہیں ہے مجھے مرنا بھی یہیں ہےYadgar Husain Nashtar Khairabadi (1916–1964)
- فریاد نہیں شکر ستم کرتے رہیں گےہم خود انہیں مجبور کرم کرتے رہیں گےYadgar Husain Nashtar Khairabadi (1916–1964)
- بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہےمیرے کسی پہلو میں قضا ہے کہ نہیں ہےKaif Bhopali (1917–1991)
- کہنے کو تو کیا کیا نہ دل زار میں آئےہر بات کہاں قالب اظہار میں آئےJafar Tahir (1917–1977)
- جلوہ ترا اس طرح سے ناکام نہ ہوتاہم طور پہ ہوتے تو یہ انجام نہ ہوتاJagan Nath Azad (1918–2004)
- یوں اک سبق مہر و وفا چھوڑ گئے ہمہر راہ میں نقش کف پا چھوڑ گئے ہمJagan Nath Azad (1918–2004)
- آزادؔ! ذرا دیکھ تو یہ عالم ارژنگموسم کے یہ انداز بہاروں کے یہ نیرنگJagan Nath Azad (1918–2004)
- اس دور میں توفیق انا دی گئی مجھ کوکس جرم کی آخر یہ سزا دی گئی مجھ کوQateel Shifai (1919–2001)
- اندیشۂ ارباب حرم ساتھ رہے گاجنت بھی ملے گی تو یہ غم ساتھ رہے گاQateel Shifai (1919–2001)
- اے دوست! تری آنکھ جو نم ہے تو مجھے کیامیں خوب ہنسوں گا تجھے غم ہے تو مجھے کیاQateel Shifai (1919–2001)
- جو بیت گئی اس کی خبر ہے کہ نہیں ہےدیکھو مرے تن پر مرا سر ہے کہ نہیں ہےQateel Shifai (1919–2001)
- حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتاٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتاQateel Shifai (1919–2001)
- شرمندہ انہیں اور بھی اے میرے خدا کردستار جنہیں دی ہے انہیں سر بھی عطا کرQateel Shifai (1919–2001)
- کیا اس کا گلا کیجے اسے پیار ہی کب تھاوہ عہد فراموش وفادار ہی کب تھاQateel Shifai (1919–2001)
- وہ شخص کہ میں جس سے محبت نہیں کرتاہنستا ہے مجھے دیکھ کے نفرت نہیں کرتاQateel Shifai (1919–2001)
- یارو کسی قاتل سے کبھی پیار نہ مانگواپنے ہی گلے کے لیے تلوار نہ مانگوQateel Shifai (1919–2001)
- رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئیتم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئیKaifi Azmi (1919–2002)
- خنجر کی طرح بوئے سمن تیز بہت ہےموسم کی ہوا اب کے جنوں خیز بہت ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- گو رات مری صبح کی محرم تو نہیں ہےسورج سے ترا رنگ حنا کم تو نہیں ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- مانا کہ تری بزم میں چاند آئے ہوئے ہیںلیکن وہ ترے سامنے گہنائے ہوئے ہیںRaaz Layalpuri (b. 1920)
- کچھ لوگ جو نخوت سے مجھے گھور رہے ہیںماحول سے شاید یہ بہت دور رہے ہیںYawar Abbas (b. 1920)
- برباد محبت کی دعا ساتھ لیے جاٹوٹا ہوا اقرار وفا ساتھ لیے جاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- ہر چند مری قوت گفتار ہے محبوسخاموش مگر طبع خود آرا نہیں ہوتیSahir Ludhianvi (1921–1980)
- ہر طرح کے جذبات کا اعلان ہیں آنکھیںشبنم کبھی شعلہ کبھی طوفان ہیں آنکھیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- یہ زلف اگر کھل کے بکھر جائے تو اچھااس رات کی تقدیر سنور جائے تو اچھاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گاانسان کی اولاد ہے انسان بنے گاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- تم میرے لیے اب کوئی الزام نہ ڈھونڈوچاہا تھا تمہیں اک یہی الزام بہت ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- ہم غم زدہ ہیں لائیں کہاں سے خوشی کے گیتدیں گے وہی جو پائیں گے اس زندگی سے ہمSahir Ludhianvi (1921–1980)
- مانا کہ میں اک نغمۂ بے صوت و صدا ہوںبھٹکے ہوئے لوگوں کے لئے بانگ درا ہوںKaleem Saronji (b. 1921)
- اب کھل کے کہو بات تو کچھ بات بنے گییہ دور اشارات و کنایات نہیں ہےHafeez Merathi (1922–2000)
- بے قصد سفر جاتے ہیں معلوم نہیں کیوںپھر خود ہی ٹھہر جاتے ہیں معلوم نہیں کیوںLais Quraishi (b. 1922)
- جو بات رہے دل میں وہی بات بڑی ہےالفت کا تقاضا بھی یہی کم سخنی ہےBaldev singh Hamdam (b. 1922)