کب آپ کا در جلوہ گہ عام نہیں ہے
Tahniyatunnisa Begam Tahniyat (b. 1915)کب آپ کا در جلوہ گہ عام نہیں ہے
کب شام و سحر دور میں واں جام نہیں ہے
بخشا ہے شرف ہم کو حضوری کا تم ہی نے
اب ہم کو کسی اور سے کچھ کام نہیں ہے
وہ صبح نہیں جس میں نہ ہو ذکر تمہارا
جو یاد سے خالی رہے وہ شام نہیں ہے
پھر پاس بلا لیجئے اے شاہ مدینہ
ہم ہند میں جیتے تو ہیں آرام نہیں ہے
طیبہ سے بہت دور ہیں بے لطف ہے جینا
وہ صبح میسر نہیں وہ شام نہیں ہے
ہو پیش نظر گنبد خضرا دم آخر
اس سے تو کوئی اور خوش انجام نہیں ہے
ہر شعر مرا تہنیتؔ اک نالۂ دل ہے
اس سے مجھے منظور کوئی نام نہیں ہے