Poetry
Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف- خوابوں کی چاندنی کا سراپا کہاں سے آئےجب جسم ہی نہیں ہے تو سایا کہاں سے آئےTahir Tilhari (b. 1936)
- سورج کی طرح اپنے ہی محور میں قید ہوںصدیوں سے روشنی کے سمندر میں قید ہوںTahir Tilhari (b. 1936)
- سائے میں آبلوں کی جلن اور بڑھ گئیتھک کر جو بیٹھے ہم تو تھکن اور بڑھ گئیEjaz Rahmani (1936–2019)
- ظالم سے مصطفیٰ کا عمل چاہتے ہیں لوگسوکھے ہوئے درخت سے پھل چاہتے ہیں لوگEjaz Rahmani (1936–2019)
- موسم عجیب رہتا ہے دل کے دیار کاآگے ہیں لو کے جھونکے بھی ٹھنڈی ہوا کے بعدQaisar Shameem (1936–2021)
- جینے کے ڈھب جب آئے تو مرنا پڑا مجھےکس غم سے رم کیا کہ ٹھہرنا پڑا مجھےUrfi Aafaqi (b. 1936)
- کہتے ہو کچھ کہوں تو غلط سربسر غلطکیوں کر بنے کہو جو ہر اک بات پر غلطUrfi Aafaqi (b. 1936)
- سینہ لہولہان ہے کالی چٹان کاپتھر میں بھی گمان سا ہوتا ہے جان کاAajiz Hengan Ghati (1936–2008)
- منہ پھیر کر وہ سب سے گیا بھی تو کیا گیاکم بخت سارے شہر کو پاگل بنا گیاQaisar Siddiqi (1937–2018)
- پردیس میں ہوں اور گھنی تیرگی تو ہےپر مطمئن ہوں رات ترے شہر کی تو ہےAabid Adeeb (b. 1937)
- جب جب بھی دیکھیے اسے خوں بار سی لگےدنیا ہمیشہ برسر پیکار سی لگےAabid Adeeb (b. 1937)
- وہ حادثے بھی دہر میں ہم پر گزر گئےجینے کی آرزو میں کئی بار مر گئےUnwan Chishti (1937–2004)
- دیوار و در پہ خون کے چھینٹے ہیں جا بہ جابکھرا ہوا ہے رنگ حنا تیرے شہر میںKaif Azimabadi (b. 1937)
- جب سے کسی سے درد کا رشتہ نہیں رہاجینا ہمارا تب سے ہی جینا نہیں رہاdarvesh bharti (b. 1937)
- خوش فہمیٔ ہنر نے سنبھلنے نہیں دیامجھ کو مری انا ہی نے پھلنے نہیں دیاdarvesh bharti (b. 1937)
- آئے گا کوئی چل کے خزاں سے بہار میںصدیاں گزر گئی ہیں اسی انتظار میںNida Fazli (1938–2016)
- تنہا ہوئے خراب ہوئے آئنہ ہوئےچاہا تھا آدمی بنیں لیکن خدا ہوئےNida Fazli (1938–2016)
- جب سے قریب ہو کے چلے زندگی سے ہمخود اپنے آئنے کو لگے اجنبی سے ہمNida Fazli (1938–2016)
- دریا ہو یا پہاڑ ہو ٹکرانا چاہئےجب تک نہ سانس ٹوٹے جیے جانا چاہئےNida Fazli (1938–2016)
- دو چار گام راہ کو ہموار دیکھناپھر ہر قدم پہ اک نئی دیوار دیکھناNida Fazli (1938–2016)
- دیکھا ہوا سا کچھ ہے تو سوچا ہوا سا کچھہر وقت میرے ساتھ ہے الجھا ہوا سا کچھNida Fazli (1938–2016)
- کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئیآؤ کہیں شراب پئیں رات ہو گئیNida Fazli (1938–2016)
- کوشش کے باوجود یہ الزام رہ گیاہر کام میں ہمیشہ کوئی کام رہ گیاNida Fazli (1938–2016)
- گرجا میں مندروں میں اذانوں میں بٹ گیاہوتے ہی صبح آدمی خانوں میں بٹ گیاNida Fazli (1938–2016)
- میں اپنے اختیار میں ہوں بھی نہیں بھی ہوںدنیا کے کاروبار میں ہوں بھی نہیں بھی ہوںNida Fazli (1938–2016)
- نزدیکیوں میں دور کا منظر تلاش کرجو ہاتھ میں نہیں ہے وہ پتھر تلاش کرNida Fazli (1938–2016)
- یوں لگ رہا ہے جیسے کوئی آس پاس ہےوہ کون ہے جو ہے بھی نہیں اور اداس ہےNida Fazli (1938–2016)
- بدلا نہ اپنے آپ کو جو تھے وہی رہےملتے رہے سبھی سے مگر اجنبی رہےNida Fazli (1938–2016)
- رشتوں کا اعتبار وفاؤں کا انتظارہم بھی چراغ لے کے ہواؤں میں آئے ہیںNida Fazli (1938–2016)
- حاصل ہمیں بھی قربتیں تھی آپ کی کبھییعنی ہمیں بھی راس تھی یہ زندگی کبھیPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- نا آشنائے درد دل بیقرار لوگکیا جانیں آبروئے غم انتظار لوگPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- ہم پر نگاہ لطف کبھی ہے کبھی نہیںتم ہی کہو یہ کیا ہے مگر دل لگی نہیںPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- سورج بھی سر پہ ہو تو اسے سائباں کہیںاب دشت ہی کو آؤ ہم اپنا مکاں کہیںBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- ان جھلملاتے چاند ستاروں کی چھاؤں میںدھیمے سروں میں گائے جو بابل تو ہم سنیںOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- پہلے گھرے تھے بے خبروں کے ہجوم میںاب آ گئے ہیں دیدہ وروں کے ہجوم میںOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- تم آ گئے ہو جب سے کھٹکنے لگی ہے شامساغر کی طرح روز چھلکنے لگی ہے شامOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- غمگیں ہیں دل فگار ہیں میرے یہاں کے لوگدامان تار تار ہیں میرے یہاں کے لوگOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- تیرے بھی دل میں ہوک سی اٹھے خدا کرےتو بھی ہماری یاد میں تڑپے خدا کرےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- رونے کی عمر ہے نہ سسکنے کی عمر ہےجام نشاط بن کے چھلکنے کی عمر ہےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- پھولا پھلا شجر تو ثمر پر بھی آئے گالیکن اسی لحاظ سے پتھر بھی آئے گاZafar Kaleem (b. 1938)
- گھر سے نکالے پاؤں تو رستے سمٹ گئےہم یوں چلے کہ راہ کے پتھر بھی ہٹ گئےZafar Kaleem (b. 1938)
- ہم پر جو ہنس رہا تھا وہ رویا ہوا سا ہےشاید کہ اس کے ساتھ بھی دھوکا ہوا سا ہےZafar Kaleem (b. 1938)
- ہر آدمی کو خواب دکھانا محال ہےشعلوں میں جیسے پھول کھلانا محال ہےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- دونوں جہاں کو زینت داماں کئے ہوئےبیٹھا ہوں دل میں آپ کو مہماں کئے ہوئےJafar Abbas Safvi (b. 1938)
- کچھ تو بتاؤ شاعر بیدار کیا ہواکس کی تلاش ہے تمہیں اور کون کھو گیاObaidullah Aleem (1939–1998)
- گزرو نہ اس طرح کہ تماشا نہیں ہوں میںسمجھو کہ اب ہوں اور دوبارہ نہیں ہوں میںObaidullah Aleem (1939–1998)
- میں جس میں کھو گیا ہوں مرا خواب ہی تو ہےیک دو نفس نمود سہی زندگی تو ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
- وہ رات بے پناہ تھی اور میں غریب تھاوہ جس نے یہ چراغ جلایا عجیب تھاObaidullah Aleem (1939–1998)
- انسان ہو کسی بھی صدی کا کہیں کا ہویہ جب اٹھا ضمیر کی آواز سے اٹھاObaidullah Aleem (1939–1998)
- جو دل کو ہے خبر کہیں ملتی نہیں خبرہر صبح اک عذاب ہے اخبار دیکھناObaidullah Aleem (1939–1998)