خوابوں کی چاندنی کا سراپا کہاں سے آئے

Tahir Tilhari (b. 1936)

خوابوں کی چاندنی کا سراپا کہاں سے آئے

جب جسم ہی نہیں ہے تو سایا کہاں سے آئے

ہونٹوں کو سی لیا ہے تو نغموں کا ذکر کیا

پانی بندھا ہوا ہے تو دھارا کہاں سے آئے

سورج تو شش جہت سے دکھاتا ہے آئنہ

دیوار مل بھی جائے تو سایا کہاں سے آئے

یہ رات یہ تھکن یہ اداسی یہ تیرگی

ایسے میں کوئی چاند کا ٹکڑا کہاں سے آئے

احساس تو مجھے بھی ہے سورج کی پیاس کا

جب خون ہی نہیں تو پسینا کہاں سے آئے

طاہرؔ یہ رہزنوں کا لٹیروں کا شہر ہے

تم اس اندھیری رات میں تنہا کہاں سے آئے