Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن- جو دیکھتی ہیں نگاہیں وہی نہیں سب کچھیہ احتیاط بھی اپنے بیان میں رکھاNida Fazli (1938–2016)
- زمانے بھر میں بہت معتبر اجالا ہےیہ دیکھنا ہے مگر کس کے گھر اجالا ہےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- جسے بھی دیکھیے پیاسا دکھائی دیتا ہےکوئی مقام ہو صحرا دکھائی دیتا ہےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- جلے ہیں دل نہ چراغوں نے روشنی کی ہےوہ شب پرستوں نے محفل میں تیرگی کی ہےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- سحر کے ساتھ وہ خاموش ہو چکا ہے مگرشراب نور مسلسل پلا رہا ٔہے مجھےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- کسی سے اپنی خبر ہم وصول کیا کرتےخود آئینوں کا بھی احساں قبول کیا کرتےEhsan Akbar (b. 1938)
- ہر ایک گام پہ حد ہر قدم در و دیوارفضائے شہر بنی بیش و کم در و دیوارEhsan Akbar (b. 1938)
- گمان تک میں نہ تھا محو یاس کر دے گاوہ یوں ملے گا کہ مجھ کو اداس کر دے گاZafar Kaleem (b. 1938)
- کچھ ایسے اہل نظر زیر آسماں گزرےکہ جن کے فرش پہ بھی عرش کا گماں گزرےJafar Abbas Safvi (b. 1938)
- بنا گلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخصہوا چراغ تو گھر ہی جلا گیا اک شخصObaidullah Aleem (1939–1998)
- خیال و خواب ہوئی ہیں محبتیں کیسیلہو میں ناچ رہی ہیں یہ وحشتیں کیسیObaidullah Aleem (1939–1998)
- شکست جاں سے سوا بھی ہے کار فن کیا کیاعذاب کھینچ رہا ہے مرا بدن کیا کیاObaidullah Aleem (1939–1998)
- شکستہ حال سا بے آسرا سا لگتا ہےیہ شہر دل سے زیادہ دکھا سا لگتا ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
- عجیب تھی وہ عجب طرح چاہتا تھا میںوہ بات کرتی تھی اور خواب دیکھتا تھا میںObaidullah Aleem (1939–1998)
- مرے خدا مجھے وہ تاب نے نوائی دےمیں چپ رہوں بھی تو نغمہ مرا سنائی دےObaidullah Aleem (1939–1998)
- وہ خواب خواب فضائے طرب نہیں آئیعجیب ہی تھی وہ شب پھر وہ شب نہیں آئیObaidullah Aleem (1939–1998)
- یہ اور بات کہ اس عہد کی نظر میں ہوںابھی میں کیا کہ ابھی منزل سفر میں ہوںObaidullah Aleem (1939–1998)
- اگر ہوں کچے گھروندوں میں آدمی آبادتو ایک ابر بھی سیلاب کے برابر ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
- جزیرے ہوں کہ وہ صحرا ہوں خواب ہونا ہےسمندروں کو کسی دن سراب ہونا ہےGhayas Mateen (b. 1939)
- زمیں کے ساتھ فلک کے سفر میں ہم بھی ہیںقفس نصیب سہی بال و پر میں ہم بھی ہیںGhayas Mateen (b. 1939)
- حریم ذات کے پردے میں جستجو یاراںزہے نصیب مجھے میری آرزو یاراںJafar Raza (1939–2022)
- ہجوم یاس میں بھی آس جاوداں ٹھہرییہ اپنی دھرتی کی بوباس بے کراں ٹھہریJafar Raza (1939–2022)
- ہم اپنے آپ سے کرتے رہے بیاں تنہاتمہاری بزم میں بیٹھے کہاں کہاں تنہاJafar Raza (1939–2022)
- حرم کی راہ میں ساقی کا گھر بھی آتا ہےسفر میں لمحۂ تر کہ سفر بھی آتا ہےEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)
- نگاہ یوں ہی نہ بس رہ گزر سے واپس آمرصع ہو کے حدوں کی خبر سے واپس آEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)
- اداسیوں میں بھی رستے نکال لیتا ہےعجیب دل ہے گروں تو سنبھال لیتا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
- اسے سمجھنے کا کوئی تو راستہ نکلےمیں چاہتا بھی یہی تھا وہ بے وفا نکلےWaseem Barelvi (b. 1940)
- بھلا غموں سے کہاں ہار جانے والے تھےہم آنسوؤں کی طرح مسکرانے والے تھےWaseem Barelvi (b. 1940)
- تمہاری راہ میں مٹی کے گھر نہیں آتےاسی لئے تو تمہیں ہم نظر نہیں آتےWaseem Barelvi (b. 1940)
- ذرا سا قطرہ کہیں آج اگر ابھرتا ہےسمندروں ہی کے لہجے میں بات کرتا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
- سبھی کا دھوپ سے بچنے کو سر نہیں ہوتاہر آدمی کے مقدر میں گھر نہیں ہوتاWaseem Barelvi (b. 1940)
- کہاں ثواب کہاں کیا عذاب ہوتا ہےمحبتوں میں کب اتنا حساب ہوتا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
- لہو نہ ہو تو قلم ترجماں نہیں ہوتاہمارے دور میں آنسو زباں نہیں ہوتاWaseem Barelvi (b. 1940)
- مجھے تو قطرہ ہی ہونا بہت ستاتا ہےاسی لیے تو سمندر پہ رحم آتا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
- مری وفاؤں کا نشہ اتارنے والاکہاں گیا مجھے ہنس ہنس کے ہارنے والاWaseem Barelvi (b. 1940)
- میں آسماں پہ بہت دیر رہ نہیں سکتامگر یہ بات زمیں سے تو کہہ نہیں سکتاWaseem Barelvi (b. 1940)
- میں اپنے خواب سے بچھڑا نظر نہیں آتاتو اس صدی میں اکیلا نظر نہیں آتاWaseem Barelvi (b. 1940)
- میں اس امید پہ ڈوبا کہ تو بچا لے گااب اس کے بعد مرا امتحان کیا لے گاWaseem Barelvi (b. 1940)
- نہیں کہ اپنا زمانہ بھی تو نہیں آیاہمیں کسی سے نبھانا بھی تو نہیں آیاWaseem Barelvi (b. 1940)
- ہمارا عزم سفر کب کدھر کا ہو جائےیہ وہ نہیں جو کسی رہ گزر کا ہو جائےWaseem Barelvi (b. 1940)
- یہ ہے تو سب کے لیے ہو یہ ضد ہماری ہےاس ایک بات پہ دنیا سے جنگ جاری ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
- وہ جھوٹ بول رہا تھا بڑے سلیقے سےمیں اعتبار نہ کرتا تو اور کیا کرتاWaseem Barelvi (b. 1940)
- وہ دن گئے کہ محبت تھی جان کی بازیکسی سے اب کوئی بچھڑے تو مر نہیں جاتاWaseem Barelvi (b. 1940)
- یہ حادثہ بھی ترے شہر میں ہوا ہوگاتمام شہر مجھے ڈھونڈھتا پھرا ہوگاKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- یہ حادثہ تو ہوا ہی نہیں ہے تیرے بعدہے پر سکون سمندر کچھ اس طرح دل کاKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- ابھی سے ان کے لیے اتنی بے قرار نہ ہوکیا ہے مجھ کو بہت بے قرار چھیڑا ہےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- کسی کی یاد ستاتی ہے رات دن تم کوکسی کے پیار سے مجبور ہو گئی ہو تمKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- ہر ایک شام مجھے یوں خیال آتا ہےکہ جیسے ٹاٹ کا میلا پھٹا ہوا پردہKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- دل و نگاہ کو ویران کر دیا میں نےشکست خواب کا اعلان کر دیا میں نےzafar iqbal zafar (b. 1940)
- کنیز وقت کو نیلام کر دیا سب نےیہ وہم کیا ہے بڑا کام کر دیا سب نےzafar iqbal zafar (b. 1940)