Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن- تمہارا ذکر مری داستان بن بیٹھامیں ایک ذرہ تھا اور آسمان بن بیٹھاJagdish Prakash (b. 1935)
- مرا وجود مرے اعتبار جیسا ہےکبھی وصال کبھی انتظار جیسا ہےJagdish Prakash (b. 1935)
- جلے گا چاند ستارے دھواں اڑائیں گےہمارے خواب تری آنکھ میں جب آئیں گےM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- عقاب فکر اکیلا ہے برف زاروں میںکہ چاند جاڑے کا جیسے لرزتے تاروں میںM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- غموں سے رشتہ ہے اپنا بھی دوستی کی طرحملے ہیں اشک بھی ہم کو یہاں ہنسی کی طرحRaees Akhtar (b. 1935)
- ہمیں تو ایک ہی چہرہ دکھائی دیتا ہےجسے بھی دیکھیے اپنا دکھائی دیتا ہےRaees Akhtar (b. 1935)
- جہاں میں ہونے کو اے دوست یوں تو سب ہوگاترے لبوں پہ مرے لب ہوں ایسا کب ہوگاShahryar (1936–2012)
- سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کاکہ کھیل ختم ہوا کشتیاں ڈبونے کاShahryar (1936–2012)
- سیاہ رات نہیں لیتی نام ڈھلنے کایہی تو وقت ہے سورج ترے نکلنے کاShahryar (1936–2012)
- شدید پیاس تھی پھر بھی چھوا نہ پانی کومیں دیکھتا رہا دریا تری روانی کوShahryar (1936–2012)
- عجیب سانحہ مجھ پر گزر گیا یارومیں اپنے سائے سے کل رات ڈر گیا یاروShahryar (1936–2012)
- نظر جو کوئی بھی تجھ سا حسیں نہیں آتاکسی کو کیا مجھے خود بھی یقیں نہیں آتاShahryar (1936–2012)
- وہ بے وفا ہے ہمیشہ ہی دل دکھاتا ہےمگر ہمیں تو وہی ایک شخص بھاتا ہےShahryar (1936–2012)
- ہوا کا زور ہی کافی بہانہ ہوتا ہےاگر چراغ کسی کو جلانا ہوتا ہےShahryar (1936–2012)
- یہ کیا ہوا کہ طبیعت سنبھلتی جاتی ہےترے بغیر بھی یہ رات ڈھلتی جاتی ہےShahryar (1936–2012)
- ابھی نہیں ابھی زنجیر خواب برہم ہےابھی نہیں ابھی دامن کے چاک کا غم ہےShahryar (1936–2012)
- اداس شہر کی گلیوں میں رقص کرتے ہیںبلائیں لیتے ہیں آوارہ گرد خوابوں کیShahryar (1936–2012)
- مہیب لمبے گھنے پیڑوں کی ہری شاخیںکبھی کبھی کوئی اشلوک گنگناتی تھیںShahryar (1936–2012)
- نہ کوئی روک سکا خواب کے سفیروں کواداس کر گئے نیندوں کے راہگیروں کوAdil Mansuri (1936–2008)
- سیاہ چاند کے ٹکڑوں کو میں چبا جاؤںسفید سایوں کے چہروں سے تیرگی ٹپکےAdil Mansuri (1936–2008)
- لہو کو سرخ گلابوں میں بند رہنے دوشکستہ خواب کے شیشوں پہ اس کا عکس پڑےAdil Mansuri (1936–2008)
- جو ہم کہیں وہی طرز بیان رکھتا ہےوہ اپنے منہ میں ہماری زبان رکھتا ہےTahir Tilhari (b. 1936)
- حیات و موت کی الجھن میں ڈالتا کیوں ہےیہ تہمتیں مرے اوپر اچھالتا کیوں ہےTahir Tilhari (b. 1936)
- دل بشر ہے عجب دو رخی سے وابستہکسی کے سائے سے نفرت کسی سے وابستہTahir Tilhari (b. 1936)
- ہنسی لبوں پہ سجائے اداس رہتا ہےیہ کون ہے جو مرے گھر کے پاس رہتا ہےEjaz Rahmani (1936–2019)
- ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوںدیا جلا کے سر شام چھوڑ آیا ہوںEjaz Rahmani (1936–2019)
- وہ ایک پل کی رفاقت بھی کیا رفاقت تھیجو دے گئی ہے مجھے عمر بھر کی تنہائیEjaz Rahmani (1936–2019)
- سلگ رہی ہے زمیں یا سپہر آنکھوں میںدھواں دھواں سا ہے کیوں تیرا شہر آنکھوں میںQaisar Shameem (1936–2021)
- شکستہ خواب کے ملبے میں ڈھونڈھتا کیا ہےکھنڈر کھنڈر ہے یہاں دھول کے سوا کیا ہےQaisar Shameem (1936–2021)
- کہاں ہے کوئی خدا کا خدا کے بندوں میںگھرا ہوا ہوں ابھی تک انا کے بندوں میںQaisar Shameem (1936–2021)
- صبا سے آتی ہے کچھ بوئے آشنا مجھ کوبلا رہا ہے مرے خوں کا ذائقہ مجھ کوUrfi Aafaqi (b. 1936)
- انا کو اپنے ہی ہاتھوں سے قتل کر جاتااگر میں ٹوٹ نہ جاتا بکھر بکھر جاتاQaisar Siddiqi (1937–2018)
- سفر کا شوق نہ منزل کی جستجو باقیمسافروں کے بدن میں نہیں لہو باقیAabid Adeeb (b. 1937)
- سفر میں ایسے کئی مرحلے بھی آتے ہیںہر ایک موڑ پہ کچھ لوگ چھوٹ جاتے ہیںAabid Adeeb (b. 1937)
- شریک عالم کیف و سرور میں بھی تھاکہ رات جشن میں تیرے حضور میں بھی تھاAabid Adeeb (b. 1937)
- میں اپنے جسم میں کچھ اس طرح سے بکھرا ہوںکہ یہ بھی کہہ نہیں سکتا میں کون ہوں کیا ہوںAabid Adeeb (b. 1937)
- یہ میرے شہر کا اک اور حادثہ ہوگاوہ کل یہاں مرا مہمان بن چکا ہوگاAabid Adeeb (b. 1937)
- وہ مسکرا کے محبت سے جب بھی ملتے ہیںمری نظر میں ہزاروں گلاب کھلتے ہیںUnwan Chishti (1937–2004)
- تلاش کر نہ زمیں آسمان سے باہرنہیں ہے راہ کوئی اس مکان سے باہرNida Fazli (1938–2016)
- دعا سلام میں لپٹی ضرورتیں مانگےقدم قدم پہ یہ بستی تجارتیں مانگےNida Fazli (1938–2016)
- کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتاکہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتاNida Fazli (1938–2016)
- کسی سے خوش ہے کسی سے خفا خفا سا ہےوہ شہر میں ابھی شاید نیا نیا سا ہےNida Fazli (1938–2016)
- کوئی کسی کی طرف ہے کوئی کسی کی طرفکہاں ہے شہر میں اب کوئی زندگی کی طرفNida Fazli (1938–2016)
- نشہ نشہ کے لئے ہے عذاب میں شاملکسی کی یاد کو کیجے شراب میں شاملNida Fazli (1938–2016)
- نہ جانے کون سا منظر نظر میں رہتا ہےتمام عمر مسافر سفر میں رہتا ہےNida Fazli (1938–2016)
- وہ خوش لباس بھی خوش دل بھی خوش ادا بھی ہےمگر وہ ایک ہے کیوں اس سے یہ گلہ بھی ہےNida Fazli (1938–2016)
- ہر ایک بات کو چپ چاپ کیوں سنا جائےکبھی تو حوصلہ کر کے نہیں کہا جائےNida Fazli (1938–2016)
- سفر کو جب بھی کسی داستان میں رکھناقدم یقین میں منزل گمان میں رکھناNida Fazli (1938–2016)
- وہ ایک خواب جو چہرہ کبھی نہیں بنتابنا کے چاند اسے آسمان میں رکھناNida Fazli (1938–2016)
- تو اس طرح سے مری زندگی میں شامل ہےجہاں بھی جاؤں یہ لگتا ہے تیری محفل ہےNida Fazli (1938–2016)