دل بشر ہے عجب دو رخی سے وابستہ

Tahir Tilhari (b. 1936)

دل بشر ہے عجب دو رخی سے وابستہ

کسی کے سائے سے نفرت کسی سے وابستہ

میں سایہ ہوں مجھے تاریکیوں سے کیا لینا

مری حیات تو ہے روشنی سے وابستہ

مرا وجود ہے جیسے کٹی پتنگ کوئی

نہ مجھ سے کوئی نہ میں ہوں کسی سے وابستہ

چراغ زخم پہ یارو نظر جمائے رہو

ہر اک سحر ہے اسی روشنی سے وابستہ

میں اب طلوع سحر سے بھی کانپ اٹھتا ہوں

یہ روشنی بھی نہ ہو تیرگی سے وابستہ

جراحتیں ہوں مرے جسم کی کہ روح کا کرب

ہر اک عذاب ہے احساس ہی سے وابستہ

میں اپنی سوچ کے دھارے پہ بہتا رہتا ہوں

یہ ناؤ رہتی ہے ہر دم ندی سے وابستہ