Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf
مجتث مثمن مخبون محذوف- امید سے تھا تصور امید ہی نہ رہیشب فراق میں پہلی سی بے کلی نہ رہیEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- شکن جبیں پہ نہ لائے نظر جھکا کے چلےخودی کی لاش اٹھانی ہی تھی اٹھا کے چلےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- ستم کی تیغ یہ کہتی ہے سر نہ اونچا کرپکارتی ہے بلندی کہ زندگی ہے ادھرHafeez Merathi (1922–2000)
- لہو سے اپنے زمیں لالہ زار دیکھتے تھےبہار دیکھنے والے بہار دیکھتے تھےHafeez Merathi (1922–2000)
- جو اتفاق سے ہم صاحب فراش ہوئےتو ہم پہ راز عزیزاں بھی خوب فاش ہوئےLais Quraishi (b. 1922)
- کئی پیام برائے سکون جاں تو ملےمگر تمام ہوئی اپنی داستاں تو ملےLais Quraishi (b. 1922)
- نہیں یہ بات کہ پرواز کا ارادہ نہیںفضائے گلشن ہستی مگر کشادہ نہیںLais Quraishi (b. 1922)
- مری سمجھ میں نہ آیا یہ کاروبار حیاتکہاں ہے نفع کہاں ہے ضرر نہیں معلومLais Quraishi (b. 1922)
- یہی بہت ہے کہ زندہ ہیں قید زیست میں ہمیہ کیسی شام ہے کیسی سحر نہیں معلومLais Quraishi (b. 1922)
- ہجوم یاس میں جینا بھی اک عذاب ہوایہی ہوا کہ محبت میں دل خراب ہواBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- حجاب اٹھے ہیں لیکن وہ رو بہ رو تو نہیںشریک عشق کہیں کوئی آرزو تو نہیںUmmeed Fazli (1923–2005)
- یہ سرد رات یہ آوارگی یہ نیند کا بوجھہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر گئے ہوتےUmmeed Fazli (1923–2005)
- رہے ہمیشہ مخاطب بس اپنی ذات سے ہمرجوع ہوتے بھی کیا حسن کائنات سے ہمQadir Siddiqi (b. 1923)
- گیا وہ دور تو خوابوں کے سلسلے بھی گئےدل و نگاہ کے پر کیف حوصلے بھی گئےQadir Siddiqi (b. 1923)
- نگاہ اوٹ رہوں کاسۂ خبر میں رہوںمیں بجھتے بجھتے بھی پیراہن شرر میں رہوںAda Jafri (1924–2015)
- نہ بام و دشت نہ دریا نہ کوہسار ملےجنوں کی راہ تھی حالات سازگار ملےAda Jafri (1924–2015)
- یہ حکم ہے تری راہوں میں دوسرا نہ ملےشمیم جاں تجھے پیراہن صبا نہ ملےAda Jafri (1924–2015)
- مرے سکون کی دنیا میں اضطرار نہیںنہیں نہیں مجھے اب تیرا انتظار نہیںBaldev Raaj (b. 1924)
- فریب وقت نہ کر خود سری کی بات نہ کرتو ایک لمحہ ہے مجھ سے صدی کی بات نہ کرUmar Quraishi (1924–2010)
- تم آ گئے ہو تو کیوں انتظار شام کریںکہو تو کیوں نہ ابھی سے کچھ اہتمام کریںNasir Kazmi (1925–1972)
- کسی کلی نے بھی دیکھا نہ آنکھ بھر کے مجھےگزر گئی جرس گل اداس کر کے مجھےNasir Kazmi (1925–1972)
- وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیںمرا علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیںNasir Kazmi (1925–1972)
- بلاؤں گا نہ ملوں گا نہ خط لکھوں گا تجھےتری خوشی کے لیے خود کو یہ سزا دوں گاNasir Kazmi (1925–1972)
- اسے خلاؤں کی وسعتوں کا تجربہ ہی نہیںوہ میرے ساتھ کبھی عرش تک گیا ہی نہیںOm Krishn Rahat (b. 1925)
- کہیں بھی آپ کا راحتؔ کوئی مقام نہیںگناہ گاروں کی فہرست میں بھی نام نہیںOm Krishn Rahat (b. 1925)
- معانی لفظوں کے پیری میں کچھ شباب میں کچھاور اس کے بارے میں لکھا نہیں کتاب میں کچھOm Krishn Rahat (b. 1925)
- ترے جواب کا اتنا مجھے ملال نہیںمگر سوال جو پیدا ہوا جواب کے بعدGhani Dehlvi (b. 1925)
- تری گلی میں تماشا کیے زمانہ ہواپھر اس کے بعد نہ آنا ہوا نہ جانا ہواQaisarul Jafri (1926–2005)
- تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگےمیں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگےQaisarul Jafri (1926–2005)
- جہاں دھواں تھا وہیں روشنی کے داغ بھی تھےمرے مکان کے ملبے میں کچھ چراغ بھی تھےQaisarul Jafri (1926–2005)
- یہ زندگی ہے کہ آسیب کا سفر ہے میاںچراغ لے کے نکلنا بڑا ہنر ہے میاںQaisarul Jafri (1926–2005)
- خوش آمدید کہوں کیا یہ شب عذاب کی ہےیہاں ملی ہو جو منزل شکست خواب کیQaisarul Jafri (1926–2005)
- تجھے کلیمؔ کوئی کیسے خوش کلام کہےجو دن کو رات بتائے سحر کو شام کہےKaleem Aajiz (1926–2015)
- ابھی گلوں میں کوئی جوشش نمو تو نہیںابھی بہار پہ دنیائے رنگ و بو تو نہیںSaadat Nazeer (b. 1926)
- حیات عشق کو اتنا تو نور فام کریںمہہ و نجوم ادب سے جسے سلام کریںGhaus Mohammad Ghausi (b. 1927)
- بس ایک ماہ جنوں خیز کی ضیا کے سوانگر میں کچھ نہیں باقی رہا ہوا کے سواMunir Niazi (1928–2006)
- تھکن سے راہ میں چلنا محال بھی ہے مجھےکمال پر بھی تھا میں ہی زوال بھی ہے مجھےMunir Niazi (1928–2006)
- سفر میں ہے جو ازل سے یہ وہ بلا ہی نہ ہوکواڑ کھول کے دیکھو کہیں ہوا ہی نہ ہوMunir Niazi (1928–2006)
- نشیب وہم فراز گریز پا کے لیےحصار خاک ہے حد پر ہر انتہا کے لیےMunir Niazi (1928–2006)
- ہنسی چھپا بھی گیا اور نظر ملا بھی گیایہ اک جھلک کا تماشا جگر جلا بھی گیاMunir Niazi (1928–2006)
- یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوںتو آ کے جا بھی چکا ہے میں انتظار میں ہوںMunir Niazi (1928–2006)
- میں اس کو دیکھ کے چپ تھا اسی کی شادی میںمزا تو سارا اسی رسم کے نباہ میں تھاMunir Niazi (1928–2006)
- یہ ایک عہد سزا ہے جزا کی بات نہ کردعا سے ہاتھ اٹھا رکھ دوا کی بات نہ کرHabib Jalib (1928–1993)
- یہ کہہ رہا ہے دل بے قرار تیز چلوبہت اداس ہیں زنجیر و دار تیز چلوHabib Jalib (1928–1993)
- نظر نظر سے ملی دل پکار اٹھا کہ نہیںنہیں خبر مجھے اس وقت ہوش تھا کہ نہیںGhalib Ahmad (b. 1928)
- بڑے غضب کا ہے یارو بڑے عذاب کا زخماگر شباب ہی ٹھہرا مرے شباب کا زخمIbn-e-Safi (1928–1980)
- پرندہ حد نظر تک جو آسمان میں ہےپروں میں زور کہاں حوصلہ اڑان میں ہےGhani Ejaz (1929–2010)
- سکون دل کو نظر کو مری قرار نہیںیہ ایک مرگ مسلسل ہے انتظار نہیںDaud Nishat (1929–1992)
- ہجوم گردش دوراں ہے کیا غزل کہیےدل و دماغ پریشاں ہے کیا غزل کہیےRaaz Allahabadi (1929–1996)
- یہی وفا کا صلہ ہے تو کوئی بات نہیںیہ درد تم نے دیا ہے تو کوئی بات نہیںRaaz Allahabadi (1929–1996)