شکن جبیں پہ نہ لائے نظر جھکا کے چلے

Ehsan Darbhangavi (1922–1998)

شکن جبیں پہ نہ لائے نظر جھکا کے چلے

خودی کی لاش اٹھانی ہی تھی اٹھا کے چلے

یہ مے کدہ ہے یہاں لغزشوں سے رونق ہے

کوئی بہک کے چلے کوئی لڑکھڑا کے چلے

ٹھہر گئے تو زمانے کو ساتھ ٹھہرایا

چلے تو ہوش اڑاتے ہوئے ہوا کے چلے

غم حیات کو سمجھے تھے اہل دل بھاری

ہمیں ہے ناز کہ یہ بوجھ بھی اٹھا کے چلے

وہ بادہ خوار نہیں اور کچھ ہے اے ساقی

شراب پی کے جو مانند پارسا کے چلے

رہ جنوں میں ہزاروں تھے ہم سفر لیکن

چراغ لے کے ہم ہی سامنے ہوا کے چلے

وہ جام مے ہو کہ ہو جام انگبیں احساںؔ

چلے جو دور بھی وہ ظرف آزما کے چلے