جو اتفاق سے ہم صاحب فراش ہوئے

Lais Quraishi (b. 1922)

جو اتفاق سے ہم صاحب فراش ہوئے

تو ہم پہ راز عزیزاں بھی خوب فاش ہوئے

ہم آئنہ تو نہیں پھر بھی رات بستر پر

گرے جو آ کے تو گرتے ہی پاش پاش ہوئے

کسے سنائیے آزادگان شہر کا حال

کہ رفتہ رفتہ سبھی کشتۂ معاش ہوئے

نہ پوچھ اشک ریا کار کا مآل اے دوست

وہ اشک تو رخ احساس کی خراش ہوئے

تمام عمر تلاش سکوں رہی ہم کو

تمام عمر نہ آسودۂ تلاش ہوئے

کہاں کی نغمہ سرائی کہ ساز ہستی کے

تمام تار ہی محروم ارتعاش ہوئے

جناب لیثؔ جو احباب سے گریزاں تھے

یہ انقلاب تو دیکھو کہ یار باش ہوئے