Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf
مجتث مثمن مخبون محذوف- اب اپنی روح کے چھالوں کا کچھ حساب کروںمیں چاہتا تھا چراغوں کو آفتاب کروںRahat Indori (1950–2020)
- اندھیرے چاروں طرف سائیں سائیں کرنے لگےچراغ ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرنے لگےRahat Indori (1950–2020)
- کبھی دماغ کبھی دل کبھی نظر میں رہویہ سب تمہارے ہی گھر ہیں کسی بھی گھر میں رہوRahat Indori (1950–2020)
- کہیں اکیلے میں مل کر جھنجھوڑ دوں گا اسےجہاں جہاں سے وہ ٹوٹا ہے جوڑ دوں گا اسےRahat Indori (1950–2020)
- یہ خاک زادے جو رہتے ہیں بے زبان پڑےاشارہ کر دیں تو سورج زمیں پہ آن پڑےRahat Indori (1950–2020)
- اب اس کے ملنے کا کوئی گمان بھی تو نہیںکہ میرے شہر میں اس کا مکان بھی تو نہیںZafar Zaidi (1950–1983)
- جو تاب دید ملی بھی تو کیا دکھائی دیادلوں کے بیچ عجب فاصلہ دکھائی دیاZafar Zaidi (1950–1983)
- دل و دماغ میں پھر مشورہ سا ہونے لگامیں اپنے آپ سے خود ہی لپٹ کے رونے لگاZafar Zaidi (1950–1983)
- یہ سیل اشک مجھے گفتگو کی تاب تو دےجو یہ کہوں کہ وفا کا مری حساب تو دےSabiha Saba (b. 1950)
- فضا میں کرب کا احساس گھولتی ہوئی راتہوس کی کھڑکیاں دروازے کھولتی ہوئی راتP P Srivastava Rind (b. 1950)
- اسے میں اور یہ میرا عصا ہی طے کرے گایہ راہ عشق مرا حوصلہ ہی طے کرے گاTahseen Firaqi (b. 1950)
- تری گلی میں گئے کتنے ماہ و سال ہوئےگزر گئے کئی موسم ہمیں بحال ہوئےTahseen Firaqi (b. 1950)
- عدو کا ذکر نہیں دوستوں کا نام نہیںزباں پہ آج کوئی حرف انتقام نہیںLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- زمانوں بعد ملے ہیں تو کیسے منہ پھیروںمرے لیے تو پرانی شراب ہیں مرے دوستLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- مثال عکس مرے آئنے میں ڈھلتا رہاوہ خد و خال بھی اپنے مگر بدلتا رہاYasmeen Hameed (b. 1951)
- مسلسل ایک ہی تصویر چشم تر میں رہیچراغ بجھ بھی گیا روشنی سفر میں رہیYasmeen Hameed (b. 1951)
- ہمیں خبر تھی بچانے کا اس میں یارا نہیںسو ہم بھی ڈوب گئے اور اسے پکارا نہیںYasmeen Hameed (b. 1951)
- انا نے ٹوٹ کے کچھ فیصلہ کیا ہی نہیںبیان اپنا کبھی مدعا کیا ہی نہیںIbrahim Ashk (b. 1951)
- کریں سلام اسے تو کوئی جواب نہ دےالٰہی اتنا بھی اس شخص کو حجاب نہ دےIbrahim Ashk (b. 1951)
- محبتوں میں جو مٹ مٹ کے شاہکار ہواوہ شخص کتنا زمانے میں یادگار ہواIbrahim Ashk (b. 1951)
- نہ کوئے یار میں ٹھہرا نہ انجمن میں رہاادائے ناز سے یہ دل سرائے فن میں رہاIbrahim Ashk (b. 1951)
- کسی نے کیسے خزانے میں رکھ لیا ہے مجھےاٹھا کے اگلے زمانے میں رکھ لیا ہے مجھےFaisal Ajmi (b. 1951)
- میں زخم کھا کے گرا تھا کہ تھام اس نے لیامعاف کر کے مجھے انتقام اس نے لیاFaisal Ajmi (b. 1951)
- تکوگے راہ سہاروں کی تم میاں کب تکقدم اٹھاؤ کہ تقدیر انتظار میں ہےTabish Mehdi (b. 1951)
- بڑھے کچھ اور کسی التجا سے کم نہ ہوئےمرے حریف تمہاری دعا سے کم نہ ہوئےZafar Moradabadi (b. 1951)
- کبھی دعا تو کبھی بد دعا سے لڑتے ہوئےتمام عمر گزاری ہوا سے لڑتے ہوئےZafar Moradabadi (b. 1951)
- نقاب اس نے رخ حسن زر پہ ڈال دیاکہ جیسے شب کا اندھیرا سحر پہ ڈال دیاZafar Moradabadi (b. 1951)
- زمانے بھر کو نئی تاب و تب دکھا نہ سکےوہ شخص کیا جو غموں میں بھی مسکرا نہ سکےGauhar Shaikh Purwi (b. 1951)
- کوئی درخت کوئی سائباں رہے نہ رہےبزرگ زندہ رہیں آسماں رہے نہ رہےRaees Ansari (b. 1951)
- وہ رنجشیں وہ مراسم کا سلسلہ ہی نہیںیہاں کسی میں وہ پہلا سا رابطہ ہی نہیںRaees Ansari (b. 1951)
- میں چپ رہوں تو بھی اندر پکارتا ہے کوئیمرے غرور کی پگڑی اتارتا ہے کوئیLateef Saani (b. 1951)
- اگرچہ تجھ سے بہت اختلاف بھی نہ ہوامگر یہ دل تری جانب سے صاف بھی نہ ہواParveen Shakir (1952–1994)
- بجا کہ آنکھ میں نیندوں کے سلسلے بھی نہیںشکست خواب کے اب مجھ میں حوصلے بھی نہیںParveen Shakir (1952–1994)
- تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیاہوا کے پاس برہنہ کمان چھوڑ گیاParveen Shakir (1952–1994)
- جلا دیا شجر جاں کہ سبز بخت نہ تھاکسی بھی رت میں ہرا ہو یہ وہ درخت نہ تھاParveen Shakir (1952–1994)
- چراغ راہ بجھا کیا کہ رہنما بھی گیاہوا کے ساتھ مسافر کا نقش پا بھی گیاParveen Shakir (1952–1994)
- دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہےتری جدائی کا منظر ابھی نگاہ میں ہےParveen Shakir (1952–1994)
- بہت سے لوگ تھے مہمان میرے گھر لیکنوہ جانتا تھا کہ ہے اہتمام کس کے لئےParveen Shakir (1952–1994)
- تجھے مناؤں کہ اپنی انا کی بات سنوںالجھ رہا ہے مرے فیصلوں کا ریشم پھرParveen Shakir (1952–1994)
- مری دعاؤں کی سب نغمگی تمام ہوئیسحر تو ہو نہ سکی اور پھر سے شام ہوئیYaqoob Yawar (b. 1952)
- زمیں کی خاک کو خاک شفا بناتے ہوئےسناں تک آ گئے انسانیت بچاتے ہوئےRafi Sirsivi (1952–2019)
- عجب چلن ہے یہ بازار عشق کا کہ یہاںچونی چلتی ہے روپیے میں حسن والوں کیDeepak Purohit (b. 1954)
- ہے خوب منظر چارہ گری کہ ہم نے یہاںدعا کے در پہ ہے دیکھا دوا کو سجدے میںDeepak Purohit (b. 1954)
- تمام شہر میں کوئی بھی روشناس نہ تھاخطا یہی تھی کہ لہجہ پر التماس نہ تھاZafar Siddiqui (b. 1954)
- وجود اس سے ہمارا کہیں جدا نہ لگےوہ ساتھ ساتھ رہے اور ہمیں پتا نہ لگےdagh Niyazi (b. 1954)
- وہی ہے مے وہی شیشہ وہی ہے پیمانہپہ مے کشی کے جو آداب تھے وہ بدلے گئےNaeema Jafri Pasha (b. 1954)
- مرے بدن پہ سجا ہے برہنگی کا لباسیہی لباس ہوا میری زندگی کا لباسTahir Hanfi (b. 1955)
- بچھڑ کے تجھ سے مجھے دکھ تو ہے ملال تو ہےمگر یہ پیار نبھانا بھی اک کمال تو ہےEjaz Ansari (b. 1955)
- پرکھ سکو تو محبت کا اک مزاج ہیں ہمکل اس طرح نہیں مل پائیں گے جو آج ہیں ہمVazahat Nseem (b. 1956)
- کہاں ہوا کے مخالف ہیں بادبان کہوکہیں ملے ہیں محبت کو سائبان کہوVazahat Nseem (b. 1956)