Poetry
Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع- غیر کے گھر ہیں وہ مہمان بڑی مشکل ہےجان جانے کے ہیں سامان بڑی مشکل ہےنسیم بھرتپوری
- جس زمیں پر ترا نقش کف پا ہوتا ہےایک اک ذرہ وہاں قبلہ نما ہوتا ہےپنڈت ہری چند اختر
- کس سے گرمی کا رکھا جائے یہ بھاری روزہسردی ہووے تو رکھے مجھ سی بچاری روزہسعادت یار خان رنگین
- نیند آتی نہیں کم بخت دوانی آ جااپنی بیتی کوئی کہہ آج کہانی آ جاسعادت یار خان رنگین
- در مے خانہ سے دیوار چمن تک پہنچےہم غزالوں کے تعاقب میں ختن تک پہنچےسراج الدین ظفر
- شوق راتوں کو ہے درپئے کہ تپاں ہو جاؤںرقص وحشت میں اٹھوں اور دھواں ہو جاؤںسراج الدین ظفر
- عشوہ ہے ناز ہے غمزہ ہے ادا ہے کیا ہےقہر ہے سحر ہے جادو ہے بلا ہے کیا ہےبیاں احسن اللہ خان
- بے طلب ایک قدم گھر سے نہ باہر جاؤںورنہ میں پھاند کے ہی سات سمندر جاؤںیوسف ظفر
- میں ہوں تیرے لیے بے نام و نشاں آوارہزندگی میرے لیے تو ہے کہاں آوارہیوسف ظفر
- ہے گلو گیر بہت رات کی پہنائی بھیتیرا غم بھی ہے مجھے اور غم تنہائی بھییوسف ظفر
- احساس غیرتاحمق پھپھوندوی
- لب جاں بخش پہ دم اپنا فنا ہوتا ہےآج عیسیٰ سے یہ بیمار جدا ہوتا ہےگویا فقیر محمد
- کچھ حسینوں کی محبت بھی بری ہوتی ہےکچھ یہ بے چپن طبیعت بھی بری ہوتی ہےحسن بریلوی
- چشم ظاہر سے رخ یار کا پردہ دیکھاآنکھیں جب پھوٹ گئیں تب یہ تماشا دیکھاحسن بریلوی
- کیا مزا ہو جو کسی سے تجھے الفت ہو جائےجی کڑھے فکر رہے میری سی حالت ہو جائےمرزا محمد تقی ہوس
- میں کہا بولنا شب غیر سے تھا تم کو کیامسکرا کہنے لگا شوق مرا تم کو کیامرزا محمد تقی ہوس
- ہم سے وارفتہ الفت ہیں بہت کم پیداہاتھ سے کھو نہ ہمیں ہوں گے نہ پھر ہم پیدامرزا محمد تقی ہوس
- لب رنگیں سے اگر تو گہر افشاں ہوتالکھنؤ لعلوں کے معدن سے بدخشاں ہوتامرزارضا برق
- میں اگر رونے لگوں رتبۂ والا بڑھ جائےپانی دینے سے نہال قد بالا بڑھ جائےمرزارضا برق
- نہ رہے نامہ و پیغام کے لانے والےخاک کے نیچے گئے عرش کے جانے والےمرزارضا برق
- جان دیتے ہی بنی عشق کے دیوانے سےشمع کا حال نہ دیکھا گیا پروانے سےآغا شاعر قزلباش
- مجھ کو آتا ہے تیمم نہ وضو آتا ہےسجدہ کر لیتا ہوں جب سامنے تو آتا ہےآغا شاعر قزلباش
- دشت پیمائی کا گر قصد مکرر ہوگاہر سر خار پئے آبلہ نشتر ہوگابھارتیندو ہریش چندر
- بخت نے پھر مجھے اس سال کھلائی ہولیسوز فرقت سے ز بس مجھ کو نہ بھائی ہولیبھارتیندو ہریش چندر
- دور تک پھیلے ہوئے ایک گھنے جنگل میںدو شجر کھینچ کے سایوں کو جہاں ملتے ہیںFaisal Hashmi
- رات کی راہ سے ہٹ کر کسی غم خانے سےچاند چپکے سے نکل آیا تھاFaisal Hashmi
- میں کہ گفتار کا ماہر تھا جہاں دیدہ تھالوگ سنتے تھے مری اور سناتے بھی تھےFaisal Hashmi
- آئنہ ہے یہ جہاں اس میں جمال اپنا ہےصورت غیر کہاں ہے یہ خیال اپنا ہےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- ہر شجر کے تئیں ہوتا ہے ثمر سے پیوندآہ کو کیوں نہیں ہوتا ہے اثر سے پیوندغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- رونق دامن صد چاک کہاں سے لائیںشہر میں دشت کی پوشاک کہاں سے لائیںLiaqat Jafri
- سر پہ سجنے کو جو تیار ہے میرے اندرگرد آلود سی دستار ہے میرے اندرLiaqat Jafri
- کتنا دشوار ہے جذبوں کی تجارت کرناایک ہی شخص سے دو بار محبت کرناLiaqat Jafri
- ایک آسیب تعاقب میں لگا رہتا ہےمیں جو رکتا ہوں تو پھر اس کی صدا چلتی ہےLiaqat Jafri
- عشق تو نے بڑا نقصان کیا ہے میرامیں تو اس شخص سے نفرت بھی نہیں کر سکتاLiaqat Jafri
- داد ملتی نظر اہل نظر سے پہلےموت آتی جو کہیں دل کو جگر سے پہلےمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- گھر کے گھبراتے نہ تھے ہجر کے آزاروں میںجب کہ طاقت تھی کبھی آپ کے بیماروں میںمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- نہ فلک ہوگا نہ یہ کوچۂ قاتل ہوگامرے کہنے میں کسی دن جو مرا دل ہوگامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- ہو چکا جو کہ مقدر میں تھا درماں ہونااب ترے ہاتھ ہے مشکل مری آساں ہونامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- مجھ میں سوئے ہوئے ماہتاب سے کم واقف ہےتو مری آنکھ کے تالاب سے کم واقف ہےNadiya ambar lodhi
- پا بہ جولاں تو ہر اک شخص یہاں ہے عنبرؔتری زنجیر ہی کیوں شور بپا کرتی ہےNadiya ambar lodhi
- آپ کیا جانیں محبت کا تماشا کیا ہےشعلۂ عشق کسے کہتے ہیں سودا کیا ہےUrooj Qadri
- آ گیا وقت کہ ہو دعوت عام اے ساقیبھیج دے چاروں طرف اپنا پیام اے ساقیUrooj Qadri
- چاہیئے عشق میں اس طرح فنا ہو جاناجس طرح آنکھ اٹھے محو ادا ہو جانااحسن مارہروی
- کشش حسن کی یہ انجمن آرائی ہےساری دنیا ترے کوچے میں سمٹ آئی ہےاحسن مارہروی
- مطمئن اپنے یقیں پر اگر انساں ہو جائےسو حجابوں میں جو پنہاں ہے نمایاں ہو جائےاحسن مارہروی
- جھلملاتی ہوئی چلمن جو سجا رکھی ہےتشنگی دید کی کچھ اور بڑھا رکھی ہےDard Sironji
- دل کے بجھتے ہوئے شعلوں کو ہوا دیتا ہےکون ماضی کے دریچوں سے صدا دیتا ہےDard Sironji
- عیش و عشرت بھرے ایام سے ڈر لگتا ہےزندگانی ترے انجام سے ڈر لگتا ہےDard Sironji
- ہم نشیں جس کو سمجھتا تھا ستم گر نکلاآستیں میں وہ چھپائے ہوئے خنجر نکلاDard Sironji
- جذبۂ عشق اگر دل میں نہ پیدا ہوتامیں سمجھتا ہوں مرے حق میں یہ اچھا ہوتاPanna Lal Noor