جذبۂ عشق اگر دل میں نہ پیدا ہوتا
Panna Lal Noorجذبۂ عشق اگر دل میں نہ پیدا ہوتا
میں سمجھتا ہوں مرے حق میں یہ اچھا ہوتا
اس قدر شدت غم پر تو یہی لازم تھا
دل نہ ہوتا مرا پتھر کا کلیجہ ہوتا
بے خودی ہے کہ تری بزم میں لے آئی ہے
ہوش ہوتا تو یہاں کس لیے رسوا ہوتا
اک نظر دیکھ کے کچھ اور بڑھا دی وحشت
اس سے اچھا تو یہی تھا کہ نہ دیکھا ہوتا
مجھ کو منظور نہ تھی اپنی ہی شہرت ورنہ
میں تو وہ تھا کہ مرا عرش پہ چرچا ہوتا
زیست بھی موت بھی دونوں کے تمہیں ہو مالک
منصفی یہ تھی کہ حق ایک پہ میرا ہوتا
کچھ حقیقت نہ سہی حسن عقیدت ہی سہی
نورؔ جینے کے لیے کچھ تو سہارا ہوتا