سر پہ سجنے کو جو تیار ہے میرے اندر
Liaqat Jafriسر پہ سجنے کو جو تیار ہے میرے اندر
گرد آلود سی دستار ہے میرے اندر
جس کے مر جانے کا احساس بنا رہتا ہے
مجھ سے بڑھ کر کوئی بیمار ہے میرے اندر
روز اشکوں کی نئی فصل اگا دیتا ہے
ایک بوڑھا سا زمیندار ہے میرے اندر
کتنا گھنگھور اندھیرا ہے مری رگ رگ میں
اس قدر روشنی درکار ہے میرے اندر
دب کے مر جاؤں گا اک روز میں اپنے نیچے
ایک گرتی ہوئی دیوار ہے میرے اندر
کون دیتا ہے یہ ہر وقت گواہی میری
کون یہ میرا طرف دار ہے میرے اندر
میرے لکھے ہوئے ہر لفظ کو جھٹلاتا ہے
مجھ سے بڑھ کر کوئی فن کار ہے میرے اندر