Poetry
Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع- تو سمجھتا ہے کہ رشتوں کی دہائی دیں گےہم تو وہ ہیں ترے چہرے سے دکھائی دیں گےWaseem Barelvi (b. 1940)
- چاند کا خواب اجالوں کی نظر لگتا ہےتو جدھر ہو کے گزر جائے خبر لگتا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
- رنگ بے رنگ ہوں خوشبو کا بھروسہ جائےمیری آنکھوں سے جو دنیا تجھے دیکھا جائےWaseem Barelvi (b. 1940)
- زندگی تجھ پہ اب الزام کوئی کیا رکھےاپنا احساس ہی ایسا ہے جو تنہا رکھےWaseem Barelvi (b. 1940)
- شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیںاتنے سمجھوتوں پہ جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیںWaseem Barelvi (b. 1940)
- کتنا دشوار تھا دنیا یہ ہنر آنا بھیتجھ سے ہی فاصلہ رکھنا تجھے اپنانا بھیWaseem Barelvi (b. 1940)
- میں تری یاد کو سینے سے لگائے گزرااجنبی شہر کی مشغول گزر گاہوں سےWaseem Barelvi (b. 1940)
- میں نے مدت سے کوئی خواب نہیں دیکھا ہےرات کھلنے کا گلابوں سے مہک آنے کاWaseem Barelvi (b. 1940)
- آسماں اتنی بلندی پہ جو اتراتا ہےبھول جاتا ہے زمیں سے ہی نظر آتا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
- ان سے کہہ دو مجھے خاموش ہی رہنے دے وسیمؔلب پہ آئے گی تو ہر بات گراں گزرے گیWaseem Barelvi (b. 1940)
- پھول تو پھول ہیں آنکھوں سے گھرے رہتے ہیںکانٹے بیکار حفاظت میں لگے رہتے ہیںWaseem Barelvi (b. 1940)
- رات تو وقت کی پابند ہے ڈھل جائے گیدیکھنا یہ ہے چراغوں کا سفر کتنا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
- میں نے چاہا ہے تجھے عام سے انساں کی طرحتو مرا خواب نہیں ہے جو بکھر جائے گاWaseem Barelvi (b. 1940)
- آج میں نے اسے نزدیک سے جا دیکھا ہےوہ دریچہ تو مرے قد سے بہت اونچا ہےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- رات کے دشت میں پھیلا ہوا سناٹا ہوںاپنے سائے سے بچھڑنے کی سزا پاتا ہوںKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- کوئی منزل نہیں ملتی تو ٹھہر جاتے ہیںاشک آنکھوں میں مسافر کی طرح آتے ہیںKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- مجھ سے اب تک یہ گلہ ہے مرے غم خواروں کوکیوں چھوا میں نے تری یاد کے انگاروں کوKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- ہم نے جب کوئی بھی دروازہ کھلا پایا ہےکتنی گزری ہوئی باتوں کا خیال آیا ہےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- اے مرے نور نظر لخت جگر جان سکوںنیند آنا تجھے دشوار نہیں ہے سو جاKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گیلوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- کن خیالات میں یوں رہتی ہو کھوئی کھوئیچائے کا پانی پتیلی میں ابل جاتا ہےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- کیسی خاموشی ہے ویرانی ہے سناٹا ہےکوئی آہٹ ہے نہ آواز نہ کوئی دھڑکنKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- میں نے سوچا تھا کہ اس بار تمہاری باہیںمیری گردن میں بصد شوق حمائل ہوں گیKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- آئنہ دیکھیں نہ ہم عکس ہی اپنا دیکھیںجب بھی دیکھیں تو ہم اپنے کو اکیلا دیکھیںzafar iqbal zafar (b. 1940)
- ایک اک پل ترا نایاب بھی ہو سکتا ہےحوصلہ ہو تو ظفر یاب بھی ہو سکتا ہےzafar iqbal zafar (b. 1940)
- پیر مے خانہ پہ مرتے ہیں مریدوں کی طرحجان دیتے ہیں محبت میں شہیدوں کی طرحSaba Naqvi (b. 1940)
- ایک معصوم تمنا کی فضا تھی کل تکزندگی ایسی کہاں ہوش ربا تھی کل تکJafar Sahni (1941–2018)
- طشت میں دھوپ کے ہر سمت زمیں ہے روشنجگمگاتا ہے مکاں اور مکیں ہے روشنJafar Sahni (1941–2018)
- ہر طرف موج بلا کی سی روانی دیکھیاشک کی گود میں مجبور کہانی دیکھیJafar Sahni (1941–2018)
- باغ دل میں کوئی غنچہ نہ کھلا تیرے بعدبھول کر آئی نہ اس سمت صبا تیرے بعدBadnam Nazar (1941–2023)
- میری آواز سے آواز ملانے والےہیں کہاں شہر میں طوفان اٹھانے والےBadnam Nazar (1941–2023)
- چند الفاظ کچھ احوال بچا رکھے ہیںہم نے دو ایک ہی اعمال بچا رکھے ہیںOm Prabhakar (b. 1941)
- اتنا چپ چاپ تعلق پہ زوال آیا تھادل ہی رویا تھا نہ چہرے پہ ملال آیا تھاLutf-ur-rahman (b. 1941)
- تو ہی اس شہر میں ہے ایک شناسا میریاب کہیں لے کے مجھے چل شب تنہا میریLutf-ur-rahman (b. 1941)
- سنگ طفلاں کا ہدف جسم ہمارا نکلاہم تو جس شہر گئے شہر تمہارا نکلاLutf-ur-rahman (b. 1941)
- یوں نکلتی ہے مری بات دہن سے اس کےجیسے برسوں کا تعارف ہو بدن سے اس کےLutf-ur-rahman (b. 1941)
- کیا خبر تھی کہ خطا یوں بھی نشانے ہوں گےیہ نئی نسل کے بھی لوگ پرانے ہوں گےHafeez Aatish (b. 1942)
- ایک جیسے ہیں زمانے کے پریشاں صورتوہی ویرانیٔ دل اور وہی ویراں صورتUrooj Akhtar Zaidi (1942–2021)
- اب بھی توہین اطاعت نہیں ہوگی ہم سےدل نہیں ہوگا تو بیعت نہیں ہوگی ہم سےIftikhar Arif (b. 1943)
- خواب خس خانہ و برفاب کے پیچھے پیچھےگرمئ شہر مقدر کے ستائے ہوئے لوگIftikhar Arif (b. 1943)
- گھر سے نکلے ہوئے بیٹوں کا مقدر معلومماں کے قدموں میں بھی جنت نہیں ملنے والیIftikhar Arif (b. 1943)
- کتنی محنت سے پڑھاتے ہیں ہمارے استادہم کو ہر علم سکھاتے ہیں ہمارے استادKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- ابر چھایا تھا فضاؤں میں تری باتوں کاکتنا دل کش تھا وہ منظر بھری برساتوں کاRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- ایک اک کر کے سبھی لوگ بچھڑ جاتے ہیںدل کے جنگل یوں ہی بستے ہیں اجڑ جاتے ہیںRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- بھول جاتے ہیں تقدس کے حسیں پل کتنےلوگ جذبات میں ہو جاتے ہیں پاگل کتنےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- خود فریبی ہے دغا بازی ہے عیاری ہےآج کے دور میں جینا بھی اداکاری ہےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- ذات کے کرب کو لفظوں میں دبائے رکھامیز پر تیری کتابوں کو سجائے رکھاRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- روز اٹھتا ہے دھواں کوہ ندا کے اس پارچاند چپ چاپ سلگتا ہے فضا کے اس پارRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- نارسائی کا چلو جشن منائیں ہم لوگشاید اس طرح سے کچھ کھوئیں تو پائیں ہم لوگRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- آج بھی کوئی کہیں گوش بر آواز نہ تھاآج بھی چاروں طرف لوگ تھے اندھے بہرےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)