Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'

رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
Poet
Meter
Clear
  1. تو سمجھتا ہے کہ رشتوں کی دہائی دیں گےہم تو وہ ہیں ترے چہرے سے دکھائی دیں گےWaseem Barelvi (b. 1940)
  2. چاند کا خواب اجالوں کی نظر لگتا ہےتو جدھر ہو کے گزر جائے خبر لگتا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
  3. رنگ بے رنگ ہوں خوشبو کا بھروسہ جائےمیری آنکھوں سے جو دنیا تجھے دیکھا جائےWaseem Barelvi (b. 1940)
  4. زندگی تجھ پہ اب الزام کوئی کیا رکھےاپنا احساس ہی ایسا ہے جو تنہا رکھےWaseem Barelvi (b. 1940)
  5. شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیںاتنے سمجھوتوں پہ جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیںWaseem Barelvi (b. 1940)
  6. کتنا دشوار تھا دنیا یہ ہنر آنا بھیتجھ سے ہی فاصلہ رکھنا تجھے اپنانا بھیWaseem Barelvi (b. 1940)
  7. میں تری یاد کو سینے سے لگائے گزرااجنبی شہر کی مشغول گزر گاہوں سےWaseem Barelvi (b. 1940)
  8. میں نے مدت سے کوئی خواب نہیں دیکھا ہےرات کھلنے کا گلابوں سے مہک آنے کاWaseem Barelvi (b. 1940)
  9. آسماں اتنی بلندی پہ جو اتراتا ہےبھول جاتا ہے زمیں سے ہی نظر آتا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
  10. ان سے کہہ دو مجھے خاموش ہی رہنے دے وسیمؔلب پہ آئے گی تو ہر بات گراں گزرے گیWaseem Barelvi (b. 1940)
  11. پھول تو پھول ہیں آنکھوں سے گھرے رہتے ہیںکانٹے بیکار حفاظت میں لگے رہتے ہیںWaseem Barelvi (b. 1940)
  12. رات تو وقت کی پابند ہے ڈھل جائے گیدیکھنا یہ ہے چراغوں کا سفر کتنا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
  13. میں نے چاہا ہے تجھے عام سے انساں کی طرحتو مرا خواب نہیں ہے جو بکھر جائے گاWaseem Barelvi (b. 1940)
  14. آج میں نے اسے نزدیک سے جا دیکھا ہےوہ دریچہ تو مرے قد سے بہت اونچا ہےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  15. رات کے دشت میں پھیلا ہوا سناٹا ہوںاپنے سائے سے بچھڑنے کی سزا پاتا ہوںKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  16. کوئی منزل نہیں ملتی تو ٹھہر جاتے ہیںاشک آنکھوں میں مسافر کی طرح آتے ہیںKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  17. مجھ سے اب تک یہ گلہ ہے مرے غم خواروں کوکیوں چھوا میں نے تری یاد کے انگاروں کوKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  18. ہم نے جب کوئی بھی دروازہ کھلا پایا ہےکتنی گزری ہوئی باتوں کا خیال آیا ہےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  19. اے مرے نور نظر لخت جگر جان سکوںنیند آنا تجھے دشوار نہیں ہے سو جاKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  20. بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گیلوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  21. کن خیالات میں یوں رہتی ہو کھوئی کھوئیچائے کا پانی پتیلی میں ابل جاتا ہےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  22. کیسی خاموشی ہے ویرانی ہے سناٹا ہےکوئی آہٹ ہے نہ آواز نہ کوئی دھڑکنKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  23. میں نے سوچا تھا کہ اس بار تمہاری باہیںمیری گردن میں بصد شوق حمائل ہوں گیKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  24. آئنہ دیکھیں نہ ہم عکس ہی اپنا دیکھیںجب بھی دیکھیں تو ہم اپنے کو اکیلا دیکھیںzafar iqbal zafar (b. 1940)
  25. ایک اک پل ترا نایاب بھی ہو سکتا ہےحوصلہ ہو تو ظفر یاب بھی ہو سکتا ہےzafar iqbal zafar (b. 1940)
  26. پیر مے خانہ پہ مرتے ہیں مریدوں کی طرحجان دیتے ہیں محبت میں شہیدوں کی طرحSaba Naqvi (b. 1940)
  27. ایک معصوم تمنا کی فضا تھی کل تکزندگی ایسی کہاں ہوش ربا تھی کل تکJafar Sahni (1941–2018)
  28. طشت میں دھوپ کے ہر سمت زمیں ہے روشنجگمگاتا ہے مکاں اور مکیں ہے روشنJafar Sahni (1941–2018)
  29. ہر طرف موج بلا کی سی روانی دیکھیاشک کی گود میں مجبور کہانی دیکھیJafar Sahni (1941–2018)
  30. باغ دل میں کوئی غنچہ نہ کھلا تیرے بعدبھول کر آئی نہ اس سمت صبا تیرے بعدBadnam Nazar (1941–2023)
  31. میری آواز سے آواز ملانے والےہیں کہاں شہر میں طوفان اٹھانے والےBadnam Nazar (1941–2023)
  32. چند الفاظ کچھ احوال بچا رکھے ہیںہم نے دو ایک ہی اعمال بچا رکھے ہیںOm Prabhakar (b. 1941)
  33. اتنا چپ چاپ تعلق پہ زوال آیا تھادل ہی رویا تھا نہ چہرے پہ ملال آیا تھاLutf-ur-rahman (b. 1941)
  34. تو ہی اس شہر میں ہے ایک شناسا میریاب کہیں لے کے مجھے چل شب تنہا میریLutf-ur-rahman (b. 1941)
  35. سنگ طفلاں کا ہدف جسم ہمارا نکلاہم تو جس شہر گئے شہر تمہارا نکلاLutf-ur-rahman (b. 1941)
  36. یوں نکلتی ہے مری بات دہن سے اس کےجیسے برسوں کا تعارف ہو بدن سے اس کےLutf-ur-rahman (b. 1941)
  37. کیا خبر تھی کہ خطا یوں بھی نشانے ہوں گےیہ نئی نسل کے بھی لوگ پرانے ہوں گےHafeez Aatish (b. 1942)
  38. ایک جیسے ہیں زمانے کے پریشاں صورتوہی ویرانیٔ دل اور وہی ویراں صورتUrooj Akhtar Zaidi (1942–2021)
  39. اب بھی توہین اطاعت نہیں ہوگی ہم سےدل نہیں ہوگا تو بیعت نہیں ہوگی ہم سےIftikhar Arif (b. 1943)
  40. خواب خس خانہ و برفاب کے پیچھے پیچھےگرمئ شہر مقدر کے ستائے ہوئے لوگIftikhar Arif (b. 1943)
  41. گھر سے نکلے ہوئے بیٹوں کا مقدر معلومماں کے قدموں میں بھی جنت نہیں ملنے والیIftikhar Arif (b. 1943)
  42. کتنی محنت سے پڑھاتے ہیں ہمارے استادہم کو ہر علم سکھاتے ہیں ہمارے استادKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  43. ابر چھایا تھا فضاؤں میں تری باتوں کاکتنا دل کش تھا وہ منظر بھری برساتوں کاRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  44. ایک اک کر کے سبھی لوگ بچھڑ جاتے ہیںدل کے جنگل یوں ہی بستے ہیں اجڑ جاتے ہیںRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  45. بھول جاتے ہیں تقدس کے حسیں پل کتنےلوگ جذبات میں ہو جاتے ہیں پاگل کتنےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  46. خود فریبی ہے دغا بازی ہے عیاری ہےآج کے دور میں جینا بھی اداکاری ہےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  47. ذات کے کرب کو لفظوں میں دبائے رکھامیز پر تیری کتابوں کو سجائے رکھاRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  48. روز اٹھتا ہے دھواں کوہ ندا کے اس پارچاند چپ چاپ سلگتا ہے فضا کے اس پارRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  49. نارسائی کا چلو جشن منائیں ہم لوگشاید اس طرح سے کچھ کھوئیں تو پائیں ہم لوگRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
  50. آج بھی کوئی کہیں گوش بر آواز نہ تھاآج بھی چاروں طرف لوگ تھے اندھے بہرےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)