کیا خبر تھی کہ خطا یوں بھی نشانے ہوں گے
Hafeez Aatish (b. 1942)کیا خبر تھی کہ خطا یوں بھی نشانے ہوں گے
یہ نئی نسل کے بھی لوگ پرانے ہوں گے
سخت سکوں کی کھنک گونج رہی ہے ہر سو
نرم پیروں کو ابھی رقص دکھانے ہوں گے
دل بھی چاہے ہے کہ بھر جاؤں کوئی اونچی اڑان
گھٹ کے رہ جانے میں بھی کون ٹھکانے ہوں گے
اتنی آسانی سے یہ ختم نہ ہوں گی سانسیں
زندگی اور تجھے خواب دکھانے ہوں گے
سرخ شعلوں کی زباں چاٹ نہ جائے بستی
شہر در شہر یہ احساس جگانے ہوں گے