Poetry
Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع- درد بن جائے جو درماں تو غزل ہوتی ہےچارہ گر بھی لگے حیراں تو غزل ہوتی ہےRafeeq Pilibhiti (b. 1933)
- پیڑ احساس کا جذبات کا پھل دیتا ہےیہ شجر آج کا حاصل ہمیں کل دیتا ہےSaadullah Khan Asar Malkapur (b. 1933)
- ایسا خاموش تو منظر نہ فنا کا ہوتامیری تصویر بھی گرتی تو چھناکا ہوتاGulzar (b. 1934)
- ذکر ہوتا ہے جہاں بھی مرے افسانے کاایک دروازہ سا کھلتا ہے کتب خانے کاGulzar (b. 1934)
- ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتےوقت کی شاخ سے لمحے نہیں توڑا کرتےGulzar (b. 1934)
- دیکھو آہستہ چلو اور بھی آہستہ ذرادیکھنا سوچ سنبھل کر ذرا پاؤں رکھناGulzar (b. 1934)
- رات بھر سرد ہوا چلتی رہیرات بھر ہم نے الاؤ تاپاGulzar (b. 1934)
- رات چپ چاپ دبے پاؤں چلے جاتی ہےرات خاموش ہے روتی نہیں ہنستی بھی نہیںGulzar (b. 1934)
- دل کے ویرانے میں اک پھول کھلا رہتا ہےکوئی موسم ہو مرا زخم ہرا رہتا ہےShakeb Jalali (1934–1966)
- مجھ سے ملنے شب غم اور تو کون آئے گامیرا سایہ ہے جو دیوار پہ جم جائے گاShakeb Jalali (1934–1966)
- موج غم اس لیے شاید نہیں گزری سر سےمیں جو ڈوبا تو نہ ابھروں گا کبھی ساگر سےShakeb Jalali (1934–1966)
- مجرمShakeb Jalali (1934–1966)
- رت نہ بدلے تو بھی افسردہ شجر لگتا ہےاور موسم کے تغیر سے بھی ڈر لگتا ہےBakhsh Layalpuri (1934–2002)
- کبھی آنکھوں پہ کبھی سر پہ بٹھائے رکھنازندگی تلخ سہی دل سے لگائے رکھناBakhsh Layalpuri (1934–2002)
- آج ہر گام پہ رقصاں یہ ستارے کیوں ہیںجذبۂ شوق یہ بے نام سہارے کیوں ہیںKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
- اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کاابر چھٹ جائیں وہ منظر بھی نہیں آنے کاZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- بیچ منجدھار دیا بڑھ کے سہارا کس نےہم تو تنہا تھے ہمیں پار اتارا کس نےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے مرے کمرے میںسایہ آتے ہوئے ڈرتا ہے مرے کمرے میںZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- کتنی آسانی سے مشہور کیا ہے خود کومیں نے اپنے سے بڑے شخص کو گالی دے کرZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- جانے کس واسطے دل چشم کرم مانگے ہےزندگی آپ سے پھر دیدۂ نم مانگے ہےRaees Akhtar (b. 1935)
- کہیں شرمندہ نہ ہو رسم وفا میرے بعدمیرے ماضی کو نہ دو میری سزا میرے بعدRaees Akhtar (b. 1935)
- لب پہ اک نام جب آتا ہے تو رو لیتے ہیںکوئی جی بھر کے رلاتا ہے تو رو لیتے ہیںRaees Akhtar (b. 1935)
- وقت کی تیز روی دیکھ کے ڈر جاتے ہیںلوگ جیتے ہیں کچھ اس طرح کہ مر جاتے ہیںRaees Akhtar (b. 1935)
- سونا چاندی ہی نہ لائے ہو نہ گوہر لائےجا کے تم چاند سے لائے بھی تو پتھر لائےDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
- کر گئے اتنا نکما ترے احساں ہم کوفائدے سے بھی زیادہ ہوا نقصاں ہم کوDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
- جب بھی ملتی ہے مجھے اجنبی لگتی کیوں ہےزندگی روز نئے رنگ بدلتی کیوں ہےShahryar (1936–2012)
- جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نےاس بہانے سے مگر دیکھ لی دنیا ہم نےShahryar (1936–2012)
- دل میں اترے گی تو پوچھے گی جنوں کتنا ہےنوک خنجر ہی بتائے گی کہ خوں کتنا ہےShahryar (1936–2012)
- زندگی جیسی توقع تھی نہیں کچھ کم ہےہر گھڑی ہوتا ہے احساس کہیں کچھ کم ہےShahryar (1936–2012)
- مشعل درد پھر ایک بار جلا لی جائےجشن ہو جائے ذرا دھوم مچا لی جائےShahryar (1936–2012)
- یہ جگہ اہل جنوں اب نہیں رہنے والیفرصت عشق میسر کہاں پہلے والیShahryar (1936–2012)
- ہم جدا ہو گئے آغاز سفر سے پہلےجانے کس سمت ہمیں راہ وفا لے جاتیShahryar (1936–2012)
- پھر کسی خواب کے پردے سے پکارا جاؤںپھر کسی یاد کی تلوار سے مارا جاؤںAdil Mansuri (1936–2008)
- اب نہ زنجیر کھڑکنے کی صدا آئے گیزنداں مہکے گا نہ اب باد صبا آئے گیAdil Mansuri (1936–2008)
- درد تنہائی کی پسلی سے نکل کر آیارات کا ہاتھ لگا اور ہوا ٹوٹ گئیAdil Mansuri (1936–2008)
- رات داڑھی کے اندھیرے سے تکلف برتےعرش کے سامنے رسوائی کی گردن نہ اٹھےAdil Mansuri (1936–2008)
- وقت کی ریت پہ سورج نے لہو تھوکا پھرساعتیں کوڑا کے داغوں میں نہا کر نکلیںAdil Mansuri (1936–2008)
- اہل غم آؤ ذرا سیر گلستاں کر لیںگر خزاں ہے تو چلو شغل بہاراں کر لیںParveen Fana Syed (1936–2010)
- بھول کر تجھ کو بھرا شہر بھی تنہا دیکھوںیاد آ جائے تو خود اپنا تماشا دیکھوںParveen Fana Syed (1936–2010)
- درد کی رات نے یہ رنگ بھی دکھلائے ہیںمیری پلکوں پہ ستارے سے اتر آئے ہیںParveen Fana Syed (1936–2010)
- کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتاڈوب جاتا بھی تو موجوں نے ابھارا ہوتاParveen Fana Syed (1936–2010)
- کوئی دیکھے تو یہ انداز ستانے والامجھ سے غافل ہے مرے خواب میں آنے والاTahir Tilhari (b. 1936)
- ہوتا ہر قید سے آزاد تو اچھا ہوتاکاش میں پیڑ سے ٹوٹا ہوا پتا ہوتاTahir Tilhari (b. 1936)
- ایک پودا جو اگا ہے اسے پانی دینااپنے آنگن کو نئی رت کی کہانی دیناQaisar Shameem (1936–2021)
- عمر بے وجہ نہ بے ربط گزاری جائےآئنہ دیکھ کے تصویر اتاری جائےAajiz Hengan Ghati (1936–2008)
- غنچے غنچے پہ گلستاں کے نکھار آ جائےجس طرف سے وہ گزر جائیں بہار آ جائےNaaz Muradabadi (b. 1936)
- دل کی ہر آرزو ناکام ہوئی جاتی ہےزندگی درد کا پیغام ہوئی جاتی ہےBal Swaroop Rahi (b. 1936)
- تیرے لہجے کا تری بات کا آئینہ ہےمیرا ہر شعر تری ذات کا آئینہ ہےQaisar Siddiqi (1937–2018)
- جب تری یادوں کی پروائی غزل گاتی ہےپھول کھل اٹھتے ہیں تنہائی غزل گاتی ہےQaisar Siddiqi (1937–2018)
- خواب جو دیکھے ہیں میں نے انہیں پیکر دے گامیرا صحرا مجھے اک روز سمندر دے گاQaisar Siddiqi (1937–2018)