Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Mahzuf

رمل مثمن محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. تیرہ رنگوں کے ہوا حق میں یہ تپ کرنا دواتیرگی جاتی رہی چہرے کی اور اپچی صفاShah Mubarak Abru (1683–1733)
  2. حسن پر ہے خوب رویاں میں وفا کی خو نہیںپھول ہیں یہ سب پہ ان پھولوں میں ہرگز بو نہیںShah Mubarak Abru (1683–1733)
  3. کیوں ملامت اس قدر کرتے ہو بے حاصل ہے یہلگ چکا اب چھوٹنا مشکل ہے اس کا دل ہے یہShah Mubarak Abru (1683–1733)
  4. خط نے آ کر کی ہے شاید رحم فرمانے کی عرضتب تو اب سنتا ہے ہنس کر مجھ سے دیوانے کی عرضWali Uzlat (1692–1775)
  5. پھر خبر اس فصل میں یارو بہار آنے کی ہےاب بجز زنجیر کیا تدبیر دیوانے کی ہےShah Hatim (1699–1783)
  6. جو مرے ہم عصر ہم صحبت تھے سو سب مر گئےاپنی اپنی عمر کا پیمانہ ہر یک بھر گئےShah Hatim (1699–1783)
  7. دیکھنا اس کی تجلی کا جسے منظور ہےسنگ ریزہ بھی نظر میں اس کی کوہ طور ہےShah Hatim (1699–1783)
  8. سچ اگر پوچھو تو نا پیدا ہے یک رو آشناسارے عالم میں جو ہوں شاید تو یک دو آشناShah Hatim (1699–1783)
  9. عاشقوں کے سیر کرنے کا جہاں ہی اور ہےان کے عالم کا زمین و آسماں ہی اور ہےShah Hatim (1699–1783)
  10. گر بھلا مانس ہے تو خندوں سے تو مل مل نہ ہنسمسکرا جوں غنچہ پر گل کی طرح کھل کھل نہ ہنسShah Hatim (1699–1783)
  11. گل کی اور بلبل کی صحبت کو چمن کا شانہ ہےسرو ہے جوں شمع تس پر فاختہ پروانہ ہےShah Hatim (1699–1783)
  12. ہو رہا ہے ابر اور کرتا ہے وہ جانانہ رقصبرق گرد اس کے کرے ہے آ کے بے تابانہ رقصShah Hatim (1699–1783)
  13. دن بدن اب لطف تیرا ہم پہ کم ہونے لگایا تو تھا ویسا کرم یا یہ ستم ہونے لگاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
  14. مان مت کر عاشق بے تاب کا ارمان مانجان کر انجان مت ہو مج کوں تو بے جان جانSiraj Aurangabadi (1712–1764)
  15. مسکرا کر عاشقوں پر مہربانی کیجئےبلبلوں کی پاس خاطر گل فشانی کیجئےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
  16. دھوم سے سنتے ہیں اب کی سال آتی ہے بہاردیکھیے کیا کچھ ہمارے سر پہ لاتی ہے بہارMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  17. آرزو ہے میں رکھوں تیرے قدم پر گر جبیںتو اٹھاوے ناز سے ظالم لگا ٹھوکر جبیںTaban Abdul Hai (1715–1749)
  18. دیکھ اس کو خواب میں جب آنکھ کھل جاتی ہے صبحکیا کہوں میں کیا قیامت مجھ پہ تب لاتی ہے صبحTaban Abdul Hai (1715–1749)
  19. کس سے پوچھوں ہائے میں اس دل کے سمجھانے کی طرحساتھ طفلاں کے لگا پھرتا ہے دیوانے کی طرحTaban Abdul Hai (1715–1749)
  20. کیا کریں کیوں کر رہیں دنیا میں یارو ہم خوشیہم کو رہنے ہی نہیں دیتا ہے ہرگز غم خوشیTaban Abdul Hai (1715–1749)
  21. یار روٹھا ہے مرا اس کو مناؤں کس طرحمنتیں کر پاؤں پڑ اس کے لے آؤں کس طرحTaban Abdul Hai (1715–1749)
  22. آج جی میں ہے کہ کھل کر مے پرستی کیجئےخوب سی مے پیجئے اور دیر مستی کیجئےQaem Chandpuri (1722–1793)
  23. پڑھ کے قاصد خط مرا اس بد زباں نے کیا کہاکیا کہا پھر کہہ بت نامہرباں نے کیا کہاQaem Chandpuri (1722–1793)
  24. خط کے آتے ہی وہ مکھڑے کی صفائی کیا ہوئیوہ منش کیدھر گئے وہ میرزائی کیا ہوئیQaem Chandpuri (1722–1793)
  25. بے کسانہ جی گرفتاری سے شیون میں رہااک دل غم خوار رکھتے تھے سو گلشن میں رہاMir Taqi Mir (1723–1810)
  26. خوب تھے وے دن کہ ہم تیرے گرفتاروں میں تھےغم زدوں اندوہ گینوں ظلم کے ماروں میں تھےMir Taqi Mir (1723–1810)
  27. دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلاآ پڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلاMir Taqi Mir (1723–1810)
  28. دل کے معمورے کی مت کر فکر فرصت چاہیےایسے ویرانے کے اب بسنے کو مدت چاہیےMir Taqi Mir (1723–1810)
  29. سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کاجس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کاMir Taqi Mir (1723–1810)
  30. شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہےتیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
  31. شعر کے پردے میں میں نے غم سنایا ہے بہتمرثیے نے دل کے میرے بھی رلایا ہے بہتMir Taqi Mir (1723–1810)
  32. عشق میں ذلت ہوئی خفت ہوئی تہمت ہوئیآخر آخر جان دی یاروں نے یہ صحبت ہوئیMir Taqi Mir (1723–1810)
  33. کیا طرح ہے آشنا گاہے گہے نا آشنایا تو بیگانے ہی رہیے ہوجیے یا آشناMir Taqi Mir (1723–1810)
  34. کیا کہوں کیسا ستم غفلت سے مجھ پر ہو گیاقافلہ جاتا رہا میں صبح ہوتے سو گیاMir Taqi Mir (1723–1810)
  35. نا کسی سے پاس میرے یار کا آنا گیابس گیا میں جان سے اب اس سے یہ جانا گیاMir Taqi Mir (1723–1810)
  36. یوں ہی حیران و خفا جوں غنچۂ تصویر ہوںعمر گزری پر نہ جانا میں کہ کیوں دلگیر ہوںMir Taqi Mir (1723–1810)
  37. وائے اس جینے پر اے مستی کہ دور چرخ میںجام مے پر گردش آوے اور مے خانہ خرابMir Taqi Mir (1723–1810)
  38. خاک تیرے فرق پر اے بے مروت آسماںایک قطرہ آب کو ابن علی دیتا ہے جاںMir Taqi Mir (1723–1810)
  39. دیکھ دروازے سے مجھ کو وہ پری رو ہٹ گئیدیکھتے ہی اس کے میری جان بس چٹ پٹ گئیMir Hasan (1727–1786)
  40. سب کو ہے منظور اس رخسار گل گوں کی طرفدیکھتا ہے کون میری چشم پر خوں کی طرفMir Hasan (1727–1786)
  41. سوز دل کا ذکر اپنے منہ پہ جب لاتے ہیں ہمشمع ساں اپنی زباں سے آپ جل جاتے ہیں ہمMir Hasan (1727–1786)
  42. شب کو تم ہم سے خفا ہو کر سحر کو اٹھ گئےشمع ساں رو رو کے ہم بھی دل جگر کو اٹھ گئےMir Hasan (1727–1786)
  43. وصل بھی ہوگا حسنؔ تو ٹک تو استقلال کرحال اپنا ہم سے کہہ کہہ ہم کو مت بے حال کرMir Hasan (1727–1786)
  44. ہم نہ تنہا اس گلی سے جاں کو کھو کر اٹھ گئےسیکڑوں یاں زندگی سے ہاتھ دھو کر اٹھ گئےMir Hasan (1727–1786)
  45. دور سے باغ جہاں دکھلا کے دیوانہ کیامتصل جانے نہ پایا میں کہ ویرانہ کیاMir Hasan (1727–1786)
  46. دور سے آئے تھے ساقی سن کے مے خانے کو ہمبس ترستے ہی چلے افسوس پیمانے کو ہمNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  47. دیکھ کر کرتی گلے میں سبز دھانی آپ کیدھان کے بھی کھیت نے اب آن مانی آپ کیNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  48. عشق کا مارا نہ صحرا ہی میں کچھ چوپٹ پڑاہے جہاں اس کا عمل وہ شہر بھی ہے پٹ پڑاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  49. عیش کر خوباں میں اے دل شادمانی پھر کہاںشادمانی گر ہوئی تو زندگانی پھر کہاںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  50. کچھ تو ہو کر دو بدو کچھ ڈرتے ڈرتے کہہ دیادل پہ جو گزرا تھا ہم نے آگے اس کے کہہ دیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)