Poetry
Ramal Musamman Mahzuf
رمل مثمن محذوف- تیرہ رنگوں کے ہوا حق میں یہ تپ کرنا دواتیرگی جاتی رہی چہرے کی اور اپچی صفاShah Mubarak Abru (1683–1733)
- حسن پر ہے خوب رویاں میں وفا کی خو نہیںپھول ہیں یہ سب پہ ان پھولوں میں ہرگز بو نہیںShah Mubarak Abru (1683–1733)
- کیوں ملامت اس قدر کرتے ہو بے حاصل ہے یہلگ چکا اب چھوٹنا مشکل ہے اس کا دل ہے یہShah Mubarak Abru (1683–1733)
- خط نے آ کر کی ہے شاید رحم فرمانے کی عرضتب تو اب سنتا ہے ہنس کر مجھ سے دیوانے کی عرضWali Uzlat (1692–1775)
- پھر خبر اس فصل میں یارو بہار آنے کی ہےاب بجز زنجیر کیا تدبیر دیوانے کی ہےShah Hatim (1699–1783)
- جو مرے ہم عصر ہم صحبت تھے سو سب مر گئےاپنی اپنی عمر کا پیمانہ ہر یک بھر گئےShah Hatim (1699–1783)
- دیکھنا اس کی تجلی کا جسے منظور ہےسنگ ریزہ بھی نظر میں اس کی کوہ طور ہےShah Hatim (1699–1783)
- سچ اگر پوچھو تو نا پیدا ہے یک رو آشناسارے عالم میں جو ہوں شاید تو یک دو آشناShah Hatim (1699–1783)
- عاشقوں کے سیر کرنے کا جہاں ہی اور ہےان کے عالم کا زمین و آسماں ہی اور ہےShah Hatim (1699–1783)
- گر بھلا مانس ہے تو خندوں سے تو مل مل نہ ہنسمسکرا جوں غنچہ پر گل کی طرح کھل کھل نہ ہنسShah Hatim (1699–1783)
- گل کی اور بلبل کی صحبت کو چمن کا شانہ ہےسرو ہے جوں شمع تس پر فاختہ پروانہ ہےShah Hatim (1699–1783)
- ہو رہا ہے ابر اور کرتا ہے وہ جانانہ رقصبرق گرد اس کے کرے ہے آ کے بے تابانہ رقصShah Hatim (1699–1783)
- دن بدن اب لطف تیرا ہم پہ کم ہونے لگایا تو تھا ویسا کرم یا یہ ستم ہونے لگاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- مان مت کر عاشق بے تاب کا ارمان مانجان کر انجان مت ہو مج کوں تو بے جان جانSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- مسکرا کر عاشقوں پر مہربانی کیجئےبلبلوں کی پاس خاطر گل فشانی کیجئےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- دھوم سے سنتے ہیں اب کی سال آتی ہے بہاردیکھیے کیا کچھ ہمارے سر پہ لاتی ہے بہارMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- آرزو ہے میں رکھوں تیرے قدم پر گر جبیںتو اٹھاوے ناز سے ظالم لگا ٹھوکر جبیںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- دیکھ اس کو خواب میں جب آنکھ کھل جاتی ہے صبحکیا کہوں میں کیا قیامت مجھ پہ تب لاتی ہے صبحTaban Abdul Hai (1715–1749)
- کس سے پوچھوں ہائے میں اس دل کے سمجھانے کی طرحساتھ طفلاں کے لگا پھرتا ہے دیوانے کی طرحTaban Abdul Hai (1715–1749)
- کیا کریں کیوں کر رہیں دنیا میں یارو ہم خوشیہم کو رہنے ہی نہیں دیتا ہے ہرگز غم خوشیTaban Abdul Hai (1715–1749)
- یار روٹھا ہے مرا اس کو مناؤں کس طرحمنتیں کر پاؤں پڑ اس کے لے آؤں کس طرحTaban Abdul Hai (1715–1749)
- آج جی میں ہے کہ کھل کر مے پرستی کیجئےخوب سی مے پیجئے اور دیر مستی کیجئےQaem Chandpuri (1722–1793)
- پڑھ کے قاصد خط مرا اس بد زباں نے کیا کہاکیا کہا پھر کہہ بت نامہرباں نے کیا کہاQaem Chandpuri (1722–1793)
- خط کے آتے ہی وہ مکھڑے کی صفائی کیا ہوئیوہ منش کیدھر گئے وہ میرزائی کیا ہوئیQaem Chandpuri (1722–1793)
- بے کسانہ جی گرفتاری سے شیون میں رہااک دل غم خوار رکھتے تھے سو گلشن میں رہاMir Taqi Mir (1723–1810)
- خوب تھے وے دن کہ ہم تیرے گرفتاروں میں تھےغم زدوں اندوہ گینوں ظلم کے ماروں میں تھےMir Taqi Mir (1723–1810)
- دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلاآ پڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلاMir Taqi Mir (1723–1810)
- دل کے معمورے کی مت کر فکر فرصت چاہیےایسے ویرانے کے اب بسنے کو مدت چاہیےMir Taqi Mir (1723–1810)
- سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کاجس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کاMir Taqi Mir (1723–1810)
- شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہےتیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
- شعر کے پردے میں میں نے غم سنایا ہے بہتمرثیے نے دل کے میرے بھی رلایا ہے بہتMir Taqi Mir (1723–1810)
- عشق میں ذلت ہوئی خفت ہوئی تہمت ہوئیآخر آخر جان دی یاروں نے یہ صحبت ہوئیMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا طرح ہے آشنا گاہے گہے نا آشنایا تو بیگانے ہی رہیے ہوجیے یا آشناMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا کہوں کیسا ستم غفلت سے مجھ پر ہو گیاقافلہ جاتا رہا میں صبح ہوتے سو گیاMir Taqi Mir (1723–1810)
- نا کسی سے پاس میرے یار کا آنا گیابس گیا میں جان سے اب اس سے یہ جانا گیاMir Taqi Mir (1723–1810)
- یوں ہی حیران و خفا جوں غنچۂ تصویر ہوںعمر گزری پر نہ جانا میں کہ کیوں دلگیر ہوںMir Taqi Mir (1723–1810)
- وائے اس جینے پر اے مستی کہ دور چرخ میںجام مے پر گردش آوے اور مے خانہ خرابMir Taqi Mir (1723–1810)
- خاک تیرے فرق پر اے بے مروت آسماںایک قطرہ آب کو ابن علی دیتا ہے جاںMir Taqi Mir (1723–1810)
- دیکھ دروازے سے مجھ کو وہ پری رو ہٹ گئیدیکھتے ہی اس کے میری جان بس چٹ پٹ گئیMir Hasan (1727–1786)
- سب کو ہے منظور اس رخسار گل گوں کی طرفدیکھتا ہے کون میری چشم پر خوں کی طرفMir Hasan (1727–1786)
- سوز دل کا ذکر اپنے منہ پہ جب لاتے ہیں ہمشمع ساں اپنی زباں سے آپ جل جاتے ہیں ہمMir Hasan (1727–1786)
- شب کو تم ہم سے خفا ہو کر سحر کو اٹھ گئےشمع ساں رو رو کے ہم بھی دل جگر کو اٹھ گئےMir Hasan (1727–1786)
- وصل بھی ہوگا حسنؔ تو ٹک تو استقلال کرحال اپنا ہم سے کہہ کہہ ہم کو مت بے حال کرMir Hasan (1727–1786)
- ہم نہ تنہا اس گلی سے جاں کو کھو کر اٹھ گئےسیکڑوں یاں زندگی سے ہاتھ دھو کر اٹھ گئےMir Hasan (1727–1786)
- دور سے باغ جہاں دکھلا کے دیوانہ کیامتصل جانے نہ پایا میں کہ ویرانہ کیاMir Hasan (1727–1786)
- دور سے آئے تھے ساقی سن کے مے خانے کو ہمبس ترستے ہی چلے افسوس پیمانے کو ہمNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- دیکھ کر کرتی گلے میں سبز دھانی آپ کیدھان کے بھی کھیت نے اب آن مانی آپ کیNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- عشق کا مارا نہ صحرا ہی میں کچھ چوپٹ پڑاہے جہاں اس کا عمل وہ شہر بھی ہے پٹ پڑاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- عیش کر خوباں میں اے دل شادمانی پھر کہاںشادمانی گر ہوئی تو زندگانی پھر کہاںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- کچھ تو ہو کر دو بدو کچھ ڈرتے ڈرتے کہہ دیادل پہ جو گزرا تھا ہم نے آگے اس کے کہہ دیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)