Poetry
Rajaz Musamman Matwi Makhbun
رجز مثمن مطوی مخبون- شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئیدل تھا کہ پھر بہل گیا جاں تھی کہ پھر سنبھل گئیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- آج بھیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- اب کوئی آرزو نہیں ذوق پیام کے سوااب کوئی جستجو نہیں شوق سلام کے سواHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- زخم پہ زخم کھا کے جی اپنے لہو کے گھونٹ پیآہ نہ کر لبوں کو سی عشق ہے دل لگی نہیںEhsan Danish (1914–1982)
- تم نے یہ کیا ستم کیا ضبط سے کام لے لیاترک وفا کے بعد بھی میرا سلام لے لیاShakeel Badayuni (1916–1970)
- تاب نظر کی قید ہے سخت حریم ذات میںدیکھوں کسی کو ہر گھڑی بزم تصورات میںVafa Barahi (1917–1993)
- ہجر کی شب دراز ہے دور ابھی سحر بھی ہےاور ہماری زندگی شمع سے مختصر بھی ہےZabih Allahabadi (1918–1987)
- شوق کے ممکنات کو دونوں ہی آزما چکےتم بھی فریب کھا چکے ہم بھی فریب کھا چکےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- کھلتی ہے چاندنی جہاں وہ کوئی بام اور ہےدل کو جہاں سکوں ملے وہ تو مقام اور ہےD. Raj Kanwal (b. 1923)
- آئیں گے وہ کبھی مگر زیست کا اعتبار کیالائے گا رنگ دیکھیے عالم انتظار کیاSaadat Nazeer (b. 1926)
- شام عجیب شام تھی جس میں کوئی افق نہ تھاپھول بھی کیسے پھول تھے جن کو سخن کا حق نہ تھاQamar Jameel (1927–2000)
- آپ ہیں کیا ملک صفت آپ ہیں کیا پتا نہیںہم تو گناہ گار ہیں ہم کوئی پارسا نہیںYas Chandpuri (b. 1930)
- اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیاہجر کی رات بام پر ماہ تمام رکھ دیاAhmad Faraz (1931–2008)
- ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہےکس نے عذاب جاں سہا کون عذاب جاں میں ہےJaun Elia (1931–2002)
- بات کوئی امید کی مجھ سے نہیں کہی گئیسو مرے خواب بھی گئے سو میری نیند بھی گئیJaun Elia (1931–2002)
- جاؤ قرار بے دلاں شام بخیر شب بخیرصحن ہوا دھواں دھواں شام بخیر شب بخیرJaun Elia (1931–2002)
- حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئیشوق میں کچھ نہیں گیا شوق کی زندگی گئیJaun Elia (1931–2002)
- خواب کی حالتوں کے ساتھ تیری حکایتوں میں ہیںہم بھی دیار اہل دل تیری روایتوں میں ہیںJaun Elia (1931–2002)
- دل کا دیار خواب میں دور تلک گزر رہاپاؤں نہیں تھے درمیاں آج بڑا سفر رہاJaun Elia (1931–2002)
- دل نے وفا کے نام پر کار وفا نہیں کیاخود کو ہلاک کر لیا خود کو فدا نہیں کیاJaun Elia (1931–2002)
- دید کی ایک آن میں کار دوام ہو گیاوہ بھی تمام ہو گیا میں بھی تمام ہو گیاJaun Elia (1931–2002)
- شوق کا رنگ بجھ گیا یاد کے زخم بھر گئےکیا مری فصل ہو چکی کیا مرے دن گزر گئےJaun Elia (1931–2002)
- شہر بہ شہر کر سفر زاد سفر لیے بغیرکوئی اثر کیے بغیر کوئی اثر لیے بغیرJaun Elia (1931–2002)
- نام ہی کیا نشاں ہی کیا خواب و خیال ہو گئےتیری مثال دے کے ہم تیری مثال ہو گئےJaun Elia (1931–2002)
- نشۂ شوق رنگ میں تجھ سے جدائی کی گئیایک لکیر خون کی بیچ میں کھینچ دی گئیJaun Elia (1931–2002)
- میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بسخود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیںJaun Elia (1931–2002)
- جسم کے ریگزار میں شام و سحر صدا کروںمنزل جاں تو دور ہے طے یہی فاصلا کروںZafar Iqbal (b. 1932)
- سانسوں کی جل ترنگ پر نغمۂ عشق گائے جااے مری جان آرزو تو یوں ہی مسکرائے جاGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
- پردۂ شب کی اوٹ میں زہرہ جمال کھو گئےدل کا کنول بجھا تو شہر تیرہ و تار ہو گئےShakeb Jalali (1934–1966)
- موج صبا رواں ہوئی رقص جنوں بھی چاہئےخیمۂ گل کے پاس ہی دجلۂ خوں بھی چاہئےShakeb Jalali (1934–1966)
- اپنا تو خیر ذکر کیا کوئی نہیں نگاہ میںعمر تمام ہو گئی چھوٹے سے اک گناہ میںKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
- گھوم رہا تھا ایک شخص رات کے خارزار میںاس کا لہو بھی مر گیا صبح کے انتظار میںAdil Mansuri (1936–2008)
- اچھی نہیں یہ خامشی شکوہ کرو گلہ کرویوں بھی نہ کر سکو تو پھر گھر میں خدا خدا کروNida Fazli (1938–2016)
- دل ہی تھے ہم دکھے ہوئے تم نے دکھا لیا تو کیاتم بھی تو بے اماں ہوئے ہم کو ستا لیا تو کیاObaidullah Aleem (1939–1998)
- نام لکھا لیا تو پھر کرتے ہو ہائے ہائے کیوںپڑھنا نہ تھا تمہیں اگر درجے میں پڑھنے آئے کیوںKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھیدل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھیParveen Shakir (1952–1994)
- بیٹھے بٹھائے آج پھر کس کا خیال آ گیاچہرے کا رنگ اڑ گیا رنگ ملال آ گیاObaid Siddiqi (1957–2020)
- دل میں ہے اتفاق سے دشت بھی گھر کے ساتھ ساتھاس میں قیام بھی کریں آپ سفر کے ساتھ ساتھIdris Babar (b. 1973)
- دیکھ نہ اس طرح گزار عرصۂ چشم سے مجھےفرصت دید ہو نہ ہو مہلت خواب دے مجھےIdris Babar (b. 1973)
- آج تو جیسے دن کے ساتھ دل بھی غروب ہو گیاشام کی چائے بھی گئی موت کے ڈر کے ساتھ ساتھIdris Babar (b. 1973)
- اپنے خلا میں لا کہ یہ تم کو دکھا رہا ہوں میںوہ جو خلا نورد ہیں ان کے لیے خلا ہوں میںFaizan Hashmi (b. 1986)
- دونوں جہاں سے آ گیا کر کے ادھر ادھر کی سیرپوچھو نہ جا رہا ہوں میں کرنے کو اب کدھر کی سیرFaizan Hashmi (b. 1986)
- اے شب ہجر اب مجھے صبح وصال چاہئےتازہ غزل کے واسطے تازہ خیال چاہئےSaleem Kausar
- ایک سے سلسلے ہیں سب ہجر کی رت بتا گئیپھر وہی صبح آئے گی پھر وہی شام آ گئیPirzada Qasim
- خون سے جب جلا دیا ایک دیا بجھا ہواپھر مجھے دے دیا گیا ایک دیا بجھا ہواPirzada Qasim
- زخم دبے تو پھر نیا تیر چلا دیا کرودوستو اپنا لطف خاص یاد دلا دیا کروPirzada Qasim
- غم سے بہل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیںدرد میں ڈھل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیںPirzada Qasim
- کار خلوص یار کا مجھ کو یقین آ گیااتنا شدید وار تھا مجھ کو یقین آ گیاPirzada Qasim
- کون گماں یقیں بنا کون سا گھاؤ بھر گیاجیسے سبھی گزر گئے جونؔ بھی کل گزر گیاPirzada Qasim
- ہم سے نہ پوچھ جائے گی ہجر کی رہ گزر کہاںشام ہوئی تو تھی کہیں صبح ہوئی مگر کہاںPirzada Qasim