بیٹھے بٹھائے آج پھر کس کا خیال آ گیا

Obaid Siddiqi (1957–2020)

بیٹھے بٹھائے آج پھر کس کا خیال آ گیا

چہرے کا رنگ اڑ گیا رنگ ملال آ گیا

الجھن میں پڑ گیا ہوں میں دل کا کروں تو کیا کروں

شیشہ نہیں یہ کام کا اس میں تو بال آ گیا

پورا نہ کر سکوں گا اب تجھ سے کبھی مکالمہ

آنکھیں تھیں محو گفتگو دل کا سوال آ گیا

کرنی ہے ترک جس جگہ تیری تلاش و آرزو

صحرا میں اب مقام وہ میرے غزال آ گیا

روئی کی طرح شہر میں اڑنے لگی ہے یہ خبر

اس کو ہی بس پتہ نہیں اس کا زوال آ گیا

میں نے تو اپنا آئینہ رکھا تھا اس کے روبرو

اتنی سی ایک بات تھی اس کو جلال آ گیا