Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Bahr-e Zamzama Mutadarik Musaddas Muza'af

بحرِ زمزمہ/ متدارک مسدس مضاعف
Poet
Meter
Clear
  1. عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیںدو چار گھڑی رونا دو چار گھڑی باتیںMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  2. اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کیاس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کیMir Taqi Mir (1723–1810)
  3. اب میرؔ جی تو اچھے زندیق ہی بن بیٹھےپیشانی پہ دے قشقہ زنار پہن بیٹھےMir Taqi Mir (1723–1810)
  4. اے دوست کوئی مجھ سا رسوا نہ ہوا ہوگادشمن کے بھی دشمن پر ایسا نہ ہوا ہوگاMir Taqi Mir (1723–1810)
  5. پھر اس سے طرح کچھ جو دعوے کی سی ڈالی ہےکیا تازہ کوئی گل نے اب شاخ نکالی ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
  6. دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھیاس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھیMir Taqi Mir (1723–1810)
  7. کل میرؔ نے کیا کیا کی مے کے لیے بیتابیآخر کو گرو رکھا سجادۂ محرابیMir Taqi Mir (1723–1810)
  8. کہتے ہیں بہار آئی گل پھول نکلتے ہیںہم کنج قفس میں ہیں دل سینوں میں جلتے ہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
  9. لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جاناکب خضر و مسیحا نے مرنے کا مزہ جاناMir Taqi Mir (1723–1810)
  10. مر رہتے جو گل بن تو سارا یہ خلل جاتانکلا ہی نہ جی ورنہ کانٹا سا نکل جاتاMir Taqi Mir (1723–1810)
  11. ایمان یہ کیسا تھا کیسی یہ مسلمانیکی آل پیمبر سے جو دشمنی جانیMir Taqi Mir (1723–1810)
  12. حیدر کا جگر پارہ وہ فاطمہ کا پیارانکلا تھا مدینے سے ناموس لیے ساراMir Taqi Mir (1723–1810)
  13. نے فقہ نہ منطق نے حکمت کا رسالہ ہےاس فن محبت کا نسخہ ہی نرالا ہےMir Hasan (1727–1786)
  14. آغوش تصور میں جب میں نے اسے مسکالب ہائے مبارک سے اک شور تھا "بس بس" کاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  15. چتون میں شرارت ہے اور سین بھی چنچل ہےکافر تری نظروں میں کچھ اور ہی چھل بل ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  16. ہے اب تو یہ دھن اس سے میں آنکھ لڑا لوں گااور چوم کے منہ اس کا سینے سے لگا لوں گاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  17. اس گوشۂ عزلت میں تنہائی ہے اور میں ہوںمعشوق تصور سے یکجائی ہے اور میں ہوںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  18. مشتاق ہی دل برسوں اس غنچہ دہن کا تھایارو مرے اور اس کے کب ربط سخن کا تھاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  19. نے بت ہے نہ سجدہ ہے نے بادہ نہ مستی ہےیاں شعر پرستی ہے یا حسن پرستی ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  20. ہر روز ہمیں گھر سے صحرا کو نکل جاناکھیتوں کا مزہ لینا جنگل کو نکل جاناMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  21. شب خواب میں دیکھا تھا مجنوں کو کہیں اپنےدل سے جو کراہ اٹھی لیلیٰ کو لیا تپ نےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  22. جاتا ہے مرے گھر سے دل دار خدا حافظہے زندگی اب مشکل بے یار خدا حافظMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  23. مت پوچھ تو جانے دے احوال کو فرقت کےجس طور کٹے کاٹے ایام مصیبت کےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  24. الفاظ و معانی کی کروٹ جو بدلتے ہیںپہلو مرے مطلب کے پہلو سے نکلتے ہیںNaseem Dehlvi (1794–1864)
  25. جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانااے باد صبا میری کروٹ تو بدل جاناMomin Khan Momin (1800–1852)
  26. ہم زاد ہے غم اپنا شاداں کسے کہتے ہیںواقف نہیں عشرت کا ساماں کسے کہتے ہیںImdad Ali Bahr (1810–1878)
  27. دنیا سے الگ ہم نے میخانے کا در دیکھامیخانے کا در دیکھا اللہ کا گھر دیکھاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  28. اس بت کی محبت میں آخر یہی کرنا تھااپنے سے گزرنا تھا سو جان سے مرنا تھاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
  29. مجنوں کا جو اے لیلیٰ جوتا نہ پھٹا ہوتاپیچھے ترے ناقہ کے کیوں برہنہ پا ہوتاZarif Lakhnavi (1870–1937)
  30. ہر سانس ہے اک نغمہ ہر نغمہ ہے مستانہکس درجہ دکھے دل کا رنگین ہے افسانہArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  31. ہم عاشق فاسق تھے ہم صوفی صافی ہیںپی لیں جو کہیں اب بھی در خورد معافی ہیںHasrat Mohani (1875–1951)
  32. ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھیاک طرفہ تماشا ہے حسرتؔ کی طبیعت بھیHasrat Mohani (1875–1951)
  33. شادی و الم سب سے حاصل ہے سبکدوشیسو ہوش مرے صدقے تجھ پر مری بے ہوشیBedam Warsi (1876–1936)
  34. کھینچی ہے تصور میں تصویر ہم آغوشیاب ہوش نہ آنے دے مجھ کو مری بے ہوشیBedam Warsi (1876–1936)
  35. یوں گلشن ہستی کی مالی نے بنا ڈالیپھولوں سے جدا کلیاں کلیوں سے جدا ڈالیBedam Warsi (1876–1936)
  36. انسانAllama Iqbal (1877–1938)
  37. جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہیکھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہیAllama Iqbal (1877–1938)
  38. یوں ہاتھ نہیں آتا وہ گوہرِ یک دانہیک رنگی و آزادی اے ہمّتِ مردانہ!Allama Iqbal (1877–1938)
  39. فقرAllama Iqbal (1877–1938)
  40. لا دینی و لاطینی، کس پیچ میں اُلجھا تُوداَرو ہے ضعیفوں کا ’لَاغَالِبَ اِلّاَ ھُوْ‘Allama Iqbal (1877–1938)
  41. بے جُرأتِ رِندانہ ہر عشق ہے رُوباہیبازُو ہے قوی جس کا، وہ عشق یدُاللّٰہیAllama Iqbal (1877–1938)
  42. جن خاک کے ذروں پر وہ سایۂ محمل تھاجو خاک کا ذرہ تھا وحشت کدۂ دل تھاFani Badayuni (1879–1941)
  43. محتاج اجل کیوں ہے خود اپنی قضا ہو جاغیرت ہو تو مرنے سے پہلے ہی فنا ہو جاFani Badayuni (1879–1941)
  44. دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی ہےموت ملے تو مفت نہ لوں ہستی کی کیا ہستی ہےFani Badayuni (1879–1941)
  45. جب تک غم الفت کا عنصر نہ ملا ہوگاانسان کے پہلو میں دل بن نہ سکا ہوگاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  46. یہ عشق نے دیکھا ہے یہ عقل سے پنہاں ہےقطرہ میں سمندر ہے ذرہ میں بیاباں ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
  47. جو نقش ہے ہستی کا دھوکا نظر آتا ہےپردے پہ مصور ہی تنہا نظر آتا ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
  48. اس عشق کے ہاتھوں سے ہرگز نہ مفر دیکھااتنی ہی بڑھی حسرت جتنا ہی ادھر دیکھاJigar Moradabadi (1890–1960)
  49. اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہےسمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  50. دیدار میں اک طرفہ دیدار نظر آیاہر بار چھپا کوئی ہر بار نظر آیاFiraq Gorakhpuri (1896–1982)