Poetry
Bahr-e Zamzama Mutadarik Musaddas Muza'af
بحرِ زمزمہ/ متدارک مسدس مضاعف- عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیںدو چار گھڑی رونا دو چار گھڑی باتیںMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کیاس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کیMir Taqi Mir (1723–1810)
- اب میرؔ جی تو اچھے زندیق ہی بن بیٹھےپیشانی پہ دے قشقہ زنار پہن بیٹھےMir Taqi Mir (1723–1810)
- اے دوست کوئی مجھ سا رسوا نہ ہوا ہوگادشمن کے بھی دشمن پر ایسا نہ ہوا ہوگاMir Taqi Mir (1723–1810)
- پھر اس سے طرح کچھ جو دعوے کی سی ڈالی ہےکیا تازہ کوئی گل نے اب شاخ نکالی ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
- دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھیاس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھیMir Taqi Mir (1723–1810)
- کل میرؔ نے کیا کیا کی مے کے لیے بیتابیآخر کو گرو رکھا سجادۂ محرابیMir Taqi Mir (1723–1810)
- کہتے ہیں بہار آئی گل پھول نکلتے ہیںہم کنج قفس میں ہیں دل سینوں میں جلتے ہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
- لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جاناکب خضر و مسیحا نے مرنے کا مزہ جاناMir Taqi Mir (1723–1810)
- مر رہتے جو گل بن تو سارا یہ خلل جاتانکلا ہی نہ جی ورنہ کانٹا سا نکل جاتاMir Taqi Mir (1723–1810)
- ایمان یہ کیسا تھا کیسی یہ مسلمانیکی آل پیمبر سے جو دشمنی جانیMir Taqi Mir (1723–1810)
- حیدر کا جگر پارہ وہ فاطمہ کا پیارانکلا تھا مدینے سے ناموس لیے ساراMir Taqi Mir (1723–1810)
- نے فقہ نہ منطق نے حکمت کا رسالہ ہےاس فن محبت کا نسخہ ہی نرالا ہےMir Hasan (1727–1786)
- آغوش تصور میں جب میں نے اسے مسکالب ہائے مبارک سے اک شور تھا "بس بس" کاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- چتون میں شرارت ہے اور سین بھی چنچل ہےکافر تری نظروں میں کچھ اور ہی چھل بل ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- ہے اب تو یہ دھن اس سے میں آنکھ لڑا لوں گااور چوم کے منہ اس کا سینے سے لگا لوں گاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- اس گوشۂ عزلت میں تنہائی ہے اور میں ہوںمعشوق تصور سے یکجائی ہے اور میں ہوںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- مشتاق ہی دل برسوں اس غنچہ دہن کا تھایارو مرے اور اس کے کب ربط سخن کا تھاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- نے بت ہے نہ سجدہ ہے نے بادہ نہ مستی ہےیاں شعر پرستی ہے یا حسن پرستی ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- ہر روز ہمیں گھر سے صحرا کو نکل جاناکھیتوں کا مزہ لینا جنگل کو نکل جاناMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- شب خواب میں دیکھا تھا مجنوں کو کہیں اپنےدل سے جو کراہ اٹھی لیلیٰ کو لیا تپ نےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- جاتا ہے مرے گھر سے دل دار خدا حافظہے زندگی اب مشکل بے یار خدا حافظMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- مت پوچھ تو جانے دے احوال کو فرقت کےجس طور کٹے کاٹے ایام مصیبت کےMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- الفاظ و معانی کی کروٹ جو بدلتے ہیںپہلو مرے مطلب کے پہلو سے نکلتے ہیںNaseem Dehlvi (1794–1864)
- جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانااے باد صبا میری کروٹ تو بدل جاناMomin Khan Momin (1800–1852)
- ہم زاد ہے غم اپنا شاداں کسے کہتے ہیںواقف نہیں عشرت کا ساماں کسے کہتے ہیںImdad Ali Bahr (1810–1878)
- دنیا سے الگ ہم نے میخانے کا در دیکھامیخانے کا در دیکھا اللہ کا گھر دیکھاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- اس بت کی محبت میں آخر یہی کرنا تھااپنے سے گزرنا تھا سو جان سے مرنا تھاMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
- مجنوں کا جو اے لیلیٰ جوتا نہ پھٹا ہوتاپیچھے ترے ناقہ کے کیوں برہنہ پا ہوتاZarif Lakhnavi (1870–1937)
- ہر سانس ہے اک نغمہ ہر نغمہ ہے مستانہکس درجہ دکھے دل کا رنگین ہے افسانہArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- ہم عاشق فاسق تھے ہم صوفی صافی ہیںپی لیں جو کہیں اب بھی در خورد معافی ہیںHasrat Mohani (1875–1951)
- ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھیاک طرفہ تماشا ہے حسرتؔ کی طبیعت بھیHasrat Mohani (1875–1951)
- شادی و الم سب سے حاصل ہے سبکدوشیسو ہوش مرے صدقے تجھ پر مری بے ہوشیBedam Warsi (1876–1936)
- کھینچی ہے تصور میں تصویر ہم آغوشیاب ہوش نہ آنے دے مجھ کو مری بے ہوشیBedam Warsi (1876–1936)
- یوں گلشن ہستی کی مالی نے بنا ڈالیپھولوں سے جدا کلیاں کلیوں سے جدا ڈالیBedam Warsi (1876–1936)
- انسانAllama Iqbal (1877–1938)
- جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہیکھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہیAllama Iqbal (1877–1938)
- یوں ہاتھ نہیں آتا وہ گوہرِ یک دانہیک رنگی و آزادی اے ہمّتِ مردانہ!Allama Iqbal (1877–1938)
- فقرAllama Iqbal (1877–1938)
- لا دینی و لاطینی، کس پیچ میں اُلجھا تُوداَرو ہے ضعیفوں کا ’لَاغَالِبَ اِلّاَ ھُوْ‘Allama Iqbal (1877–1938)
- بے جُرأتِ رِندانہ ہر عشق ہے رُوباہیبازُو ہے قوی جس کا، وہ عشق یدُاللّٰہیAllama Iqbal (1877–1938)
- جن خاک کے ذروں پر وہ سایۂ محمل تھاجو خاک کا ذرہ تھا وحشت کدۂ دل تھاFani Badayuni (1879–1941)
- محتاج اجل کیوں ہے خود اپنی قضا ہو جاغیرت ہو تو مرنے سے پہلے ہی فنا ہو جاFani Badayuni (1879–1941)
- دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی ہےموت ملے تو مفت نہ لوں ہستی کی کیا ہستی ہےFani Badayuni (1879–1941)
- جب تک غم الفت کا عنصر نہ ملا ہوگاانسان کے پہلو میں دل بن نہ سکا ہوگاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- یہ عشق نے دیکھا ہے یہ عقل سے پنہاں ہےقطرہ میں سمندر ہے ذرہ میں بیاباں ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
- جو نقش ہے ہستی کا دھوکا نظر آتا ہےپردے پہ مصور ہی تنہا نظر آتا ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
- اس عشق کے ہاتھوں سے ہرگز نہ مفر دیکھااتنی ہی بڑھی حسرت جتنا ہی ادھر دیکھاJigar Moradabadi (1890–1960)
- اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہےسمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- دیدار میں اک طرفہ دیدار نظر آیاہر بار چھپا کوئی ہر بار نظر آیاFiraq Gorakhpuri (1896–1982)