فقر

Allama Iqbal (1877–1938)

اک فقر سکھاتا ہے صےاد کو نخچیری

اک فقر سے کھلتے ہیں اسرار جہاں گیری

اک فقر سے قوموں میں مسکینی و دلگیری

اک فقر سے مٹی میں خاصیت اکسیری

اک فقر ہے شبےری ، اس فقر میں ہے میری

!میراث مسلمانی ، سرمایہء شبیری