اس بت کی محبت میں آخر یہی کرنا تھا

Maharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)

اس بت کی محبت میں آخر یہی کرنا تھا

اپنے سے گزرنا تھا سو جان سے مرنا تھا

ہشیار ہوئے غنچے کر ہو گئے گوش گل

بلبل تجھے گلشن میں یوں شور نہ کرنا تھا

مطلوب تھا کون اپنا تھا کون بجز اس کے

کس پر ہمیں مرنا تھا اس پہ ہی تو مرنا تھا

حالت کہیں کیا اپنی یوں وصل کی شب گزری

بے چین یہاں ہم تھے واں ان کو سنورنا تھا

مے خانہ میں بلوا کر اس پیر مغاں کو شادؔ

احسان یہ کرنا تھا ساغر مرا بھرنا تھا