Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آج دل بے قرار ہے میراکس کے پہلو میں یار ہے میراWali Uzlat (1692–1775)
  2. ارے الٹے زمانے مجھ پہ کیا سیدھا ستم لایانین میرے تھے پی کا گھر سو روئے ہجر دکھلایاWali Uzlat (1692–1775)
  3. اسیری بے مزہ لگتی ہے بن صیاد کیا کیجےقفس کے کنج میں تنہا عبث فریاد کیا کیجےWali Uzlat (1692–1775)
  4. اگر میں معجزے کو خاکساری کے عیاں کرتابگولے سا بنا اور ہی زمیں و آسماں کرتاWali Uzlat (1692–1775)
  5. اے ناصح چشم تر سے مت کر آنسو پاک رہنے دےارے بے درد رونے میں مجھے بے باک رہنے دےWali Uzlat (1692–1775)
  6. اے یار مجھ افسردۂ ہجراں کو پہنچ تواے رشک مسیحا تن بے جاں کو پہنچ توWali Uzlat (1692–1775)
  7. بندے ہیں تیری چھب کے مہ سے جمال والےسب گل سے گال والے سنبل سے بال والےWali Uzlat (1692–1775)
  8. بہار آدھی گزر گئی ہائے ہم قیدی ہیں زنداں کےگئے کچھ اور کچھ جاتے ہیں دن چاک گریباں کےWali Uzlat (1692–1775)
  9. بہار آئی بتنگ آیا دل وحشت پناہ اپناکروں کیا ہے یہی چاک گریباں دستگاہ اپناWali Uzlat (1692–1775)
  10. بہار آئی جنوں لے گا ہمارا امتحاں دیکھیںنمک دے گا دل زخمی کو شور بلبلاں دیکھیںWali Uzlat (1692–1775)
  11. پھر آئی فصل گل اے یار دیکھیے کیا ہوجنوں کا دل میں چبھا خار دیکھیے کیا ہوWali Uzlat (1692–1775)
  12. پھونک دے ہے منہ ترا ہر صاف دل کے تن میں آگسامنے خورشید کے لگتی ہے جو درپن میں آگWali Uzlat (1692–1775)
  13. تجھ سے بوسہ میں نہ مانگا کبھو ڈرتے ڈرتےدیکھیے آب بقا پاؤں گا مرتے مرتےWali Uzlat (1692–1775)
  14. تجھ قبا پر گلاب کا بوٹادل بلبل گویا ابھی ٹوٹاWali Uzlat (1692–1775)
  15. ترے لب بن ہے دل میں شعلہ زن مل جس کو کہتے ہیںنشے کی موت کی ہچکی ہے قلقل جس کو کہتے ہیںWali Uzlat (1692–1775)
  16. تیرہ بختوں کو کرے ہے نالۂ غمگیں خرابجس طرح ہو جا صبا سے کاکل مشکیں خرابWali Uzlat (1692–1775)
  17. جاتی رہیں کدھر وہ محبت کی بانیاںاک آشنا رہیں تری باتیں بگانیاںWali Uzlat (1692–1775)
  18. جب تن نہ رہا میرا ہوں واصل جانانہدیوار کے گرنے سے ہم سایا ہو ہم خانہWali Uzlat (1692–1775)
  19. جب سے دلبر نے آنکھ پھیرا ہےمجھ کو دوران سر نے گھیرا ہےWali Uzlat (1692–1775)
  20. جپے ہے ورد سا تجھ سے صنم کے نام کو شیخنماز توڑ اٹھے تیرے رام رام کو شیخWali Uzlat (1692–1775)
  21. جن دنوں ہم اس شب حظ کے سیہ کاروں میں تھےاس ایاغ چشم کے پیوستہ مے خواروں میں تھےWali Uzlat (1692–1775)
  22. جنوں آور شب مہتاب تھی پی کی تمنا میںکہ بہہ کر ریل میں اشکوں کے ہم تھے سیر دریا میںWali Uzlat (1692–1775)
  23. جو عاشق ہو اسے صحرا میں چل جانے سے کیا نسبتجز اپنی دھول اڑانا اور ویرانے سے کیا نسبتWali Uzlat (1692–1775)
  24. جوں گل ازبسکہ جنوں ہے مرا سامان کے ساتچاک کرتا ہوں میں سینے کو گریبان کے ساتWali Uzlat (1692–1775)
  25. خدا شاہد بتو دو جگ سے یہ سودا ہے نروالامیں دو بادام چشم لطف پر دل بیچنے والاWali Uzlat (1692–1775)
  26. خدا کسی کوں کسی ساتھ آشنا نہ کرےوگرنہ یار کوں عاشق سوں بے وفا نہ کرےWali Uzlat (1692–1775)
  27. خدا ہی پہنچے فریادوں کو ہم سے بے نصیبوں کےہمارے دل کباب اور تو پئے پیالے رقیبوں کےWali Uzlat (1692–1775)
  28. خط نے آ کر کی ہے شاید رحم فرمانے کی عرضتب تو اب سنتا ہے ہنس کر مجھ سے دیوانے کی عرضWali Uzlat (1692–1775)
  29. خنک جوشی نہ کرتے جوں صبا گر یہ بتاں ہم سےتو مثل غنچۂ گل دل نہ جاتا رائیگاں ہم سےWali Uzlat (1692–1775)
  30. دلوں میں رہئے جہاں کے ولے خدا کے ڈھبکہ ہو جہاں پہ نہ ظاہر یہ ہے مرا مذہبWali Uzlat (1692–1775)
  31. شتاب کھو گئی پیری جوانی دو دن کیچھپی سحر میں شب کامرانی دو دن کیWali Uzlat (1692–1775)
  32. عبث توڑا مرا دل ناز سکھلانے کے کام آتایہ آئینہ تھا اس خودبیں کو اترانے کے کام آتاWali Uzlat (1692–1775)
  33. غنچۂ دل مرا کھا کر گل خنداں میرابوئے گل سا ہے اڑاتا مجھے جاناں میراWali Uzlat (1692–1775)
  34. غیر آہ سرد نہیں داغوں کے جانے کا علاججز صبا کیا ہے چراغوں کے بجھانے کا علاجWali Uzlat (1692–1775)
  35. فصل گل میں نئیں بگھولے اٹھتے ویرانوں کے بیچخاک دیوانوں کی وجدی ہے بیابانوں کے بیچWali Uzlat (1692–1775)
  36. کر رہے ہیں مجھ سے تجھ بن دیدۂ نمناک جنگداغ دل جوں شمع کرتے ہیں جدا بے باک جنگWali Uzlat (1692–1775)
  37. کفر مومن ہے نہ کرنا دلبراں سے اختلاطکر لیا کعبے نے بھی کے دن بتاں سے اختلاطWali Uzlat (1692–1775)
  38. گرد باد افسوس کا جنگل سے ہے پیدا ہنوزہات ملتا ماتم مجنوں سے ہے صحرا ہنوزWali Uzlat (1692–1775)
  39. گر میرے لہو رونے کا باران بنے گاکوچہ ترا رشک چمنستان بنے گاWali Uzlat (1692–1775)
  40. گل رہے نہیں نام کو سرکش ہیں خاراں العیاذکھٹکے ہے آنکھوں میں یہ سونا گلستاں العیاذWali Uzlat (1692–1775)
  41. گھر یار کا ہم سے دور پڑا گئی ہم سے راحت ایک طرفدل ایک طرف آہ ایک طرف ملنے کی حسرت ایک طرفWali Uzlat (1692–1775)
  42. ماہ کامل ہو مقابل یار کے رو سے چے خوشخم ہو دم مارے ہلال اس تیغ ابرو سے چے خوشWali Uzlat (1692–1775)
  43. مرے نزع کو مت اس سے کہو ہوا سو ہواکہ دل دہندہ جیو یا مرو ہوا سو ہواWali Uzlat (1692–1775)
  44. مغز بہار اس برس اس بن بچا نہ تھاچین جبیں بن ایک گل اب کی ہنسا نہ تھاWali Uzlat (1692–1775)
  45. موسم گل میں ہیں دیوانوں کے بازار کئیشور بلبل کئی زنجیر کی جھنکار کئیWali Uzlat (1692–1775)
  46. میں وہ مجنوں ہوں کہ آباد نہ اجڑا سمجھوںمشت خاک اپنی اڑا کر اسے صحرا سمجھوںWali Uzlat (1692–1775)
  47. ننگ نہیں مجھ کو تڑپنے سے سنبھل جانے کاڈر ہے اس خنجر مژگاں کے پھسل جانے کاWali Uzlat (1692–1775)
  48. نہ شوخیوں سے کرے ہیں وہ چشم گلگوں رقصکہ ان کے پینے سے کرتا ہے واں مرا خوں رقصWali Uzlat (1692–1775)
  49. نین میں خوں بھر آیا دل میں خار غم چھپا شایدہوا اس دم وہ تیغ ابرو کسی سے آشنا شایدWali Uzlat (1692–1775)
  50. وقت بوسے کے مرا منہ اس کے لب سے جوں جڑاگرد غم ہوئی دل میں میٹھی جیسے شکر کا پڑاWali Uzlat (1692–1775)