Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرےجتنے اس پیڑ کے پھل تھے پس دیوار گرےShakeb Jalali (1934–1966)
  2. آگ کے درمیان سے نکلامیں بھی کس امتحان سے نکلاShakeb Jalali (1934–1966)
  3. آیا ہے ہر چڑھائی کے بعد اک اتار بھیپستی سے ہم کنار ملے کوہسار بھیShakeb Jalali (1934–1966)
  4. اب آپ رہ دل جو کشادہ نہیں رکھتےہم بھی سفر جاں کا ارادہ نہیں رکھتےShakeb Jalali (1934–1966)
  5. اس بت کدے میں تو جو حسیں تر لگا مجھےاپنے ہی اک خیال کا پیکر لگا مجھےShakeb Jalali (1934–1966)
  6. اس خاکداں میں اب تک باقی ہیں کچھ شرر سےدامن بچا کے گزرو یادوں کی رہ گزر سےShakeb Jalali (1934–1966)
  7. انفرادیت پرستShakeb Jalali (1934–1966)
  8. بجھے بجھے سے شرارے مجھے قبول نہیںسواد شب میں ستارے مجھے قبول نہیںShakeb Jalali (1934–1966)
  9. بس اک شعاع نور سے سایہ سمٹ گیاوہ پاس آ رہا تھا کہ میں دور ہٹ گیاShakeb Jalali (1934–1966)
  10. بے جا نوازشات کا بار گراں نہیںمیں خوش ہوں اس لیے کہ کوئی مہرباں نہیںShakeb Jalali (1934–1966)
  11. پردۂ شب کی اوٹ میں زہرہ جمال کھو گئےدل کا کنول بجھا تو شہر تیرہ و تار ہو گئےShakeb Jalali (1934–1966)
  12. پھر سن رہا ہوں گزرے زمانے کی چاپ کوبھولا ہوا تھا دیر سے میں اپنے آپ کوShakeb Jalali (1934–1966)
  13. تو نے کیا کیا نہ اے زندگی دشت و در میں پھرایا مجھےاب تو اپنے در و بام بھی جانتے ہیں پرایا مجھےShakeb Jalali (1934–1966)
  14. جاتی ہے دھوپ اجلے پروں کو سمیٹ کےزخموں کو اب گنوں گا میں بستر پہ لیٹ کےShakeb Jalali (1934–1966)
  15. جب تک غم جہاں کے حوالے ہوئے نہیںہم زندگی کے جاننے والے ہوئے نہیںShakeb Jalali (1934–1966)
  16. جس دم قفس میں موسم گل کی خبر گئیاک بار قیدیوں پہ قیامت گزر گئیShakeb Jalali (1934–1966)
  17. خرد فریب نظاروں کی کوئی بات کروجنوں نواز بہاروں کی کوئی بات کروShakeb Jalali (1934–1966)
  18. خزاں کے چاند نے پوچھا یہ جھک کے کھڑکی میںکبھی چراغ بھی جلتا ہے اس حویلی میںShakeb Jalali (1934–1966)
  19. خموشی بول اٹھے ہر نظر پیغام ہو جائےیہ سناٹا اگر حد سے بڑھے کہرام ہو جائےShakeb Jalali (1934–1966)
  20. خواب گل رنگ کے انجام پہ رونا آیاآمد صبح شب اندام پہ رونا آیاShakeb Jalali (1934–1966)
  21. درد کے موسم کا کیا ہوگا اثر انجان پردوستو پانی کبھی رکتا نہیں ڈھلوان پرShakeb Jalali (1934–1966)
  22. دشت و صحرا اگر بسائے ہیںہم گلستاں میں کب سمائے ہیںShakeb Jalali (1934–1966)
  23. دل کے ویرانے میں اک پھول کھلا رہتا ہےکوئی موسم ہو مرا زخم ہرا رہتا ہےShakeb Jalali (1934–1966)
  24. دنیا والوں نے چاہت کا مجھ کو صلہ انمول دیاپیروں میں زنجیریں ڈالیں ہاتھوں میں کشکول دیاShakeb Jalali (1934–1966)
  25. دوستی کا فریب ہی کھائیںآؤ کاغذ کی ناؤ تیرائیںShakeb Jalali (1934–1966)
  26. رخسار آج دھو کر شبنم نے پنکھڑی کےکچھ اور بخش ڈالے انداز دل کشی کےShakeb Jalali (1934–1966)
  27. روشن ہیں دل کے داغ نہ آنکھوں کے شب چراغکیوں شام ہی سے بجھ گئے محفل کے سب چراغShakeb Jalali (1934–1966)
  28. ساحل تمام اشک ندامت سے اٹ گیادریا سے کوئی شخص تو پیاسا پلٹ گیاShakeb Jalali (1934–1966)
  29. سر رہ اب نہ یوں مجھ کو پکارو تم ہی آ جاؤذرا زحمت تو ہوگی راز دارو تم ہی آ جاؤShakeb Jalali (1934–1966)
  30. سمجھ سکو تو یہ تشنہ لبی سمندر ہےبقدر ظرف ہر اک آدمی سمندر ہےShakeb Jalali (1934–1966)
  31. شفق جو روئے سحر پر گلال ملنے لگییہ بستیوں کی فضا کیوں دھواں اگلنے لگیShakeb Jalali (1934–1966)
  32. عشق کے غم گسار ہیں ہم لوگحسن کے رازدار ہیں ہم لوگShakeb Jalali (1934–1966)
  33. غم الفت مرے چہرے سے عیاں کیوں نہ ہواآگ جب دل میں سلگتی تھی دھواں کیوں نہ ہواShakeb Jalali (1934–1966)
  34. غم حیات کی لذت بدلتی رہتی ہےبقدر فکر شکایت بدلتی رہتی ہےShakeb Jalali (1934–1966)
  35. کنار آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئیگماں گزرتا ہے یہ شخص دوسرا ہے کوئیShakeb Jalali (1934–1966)
  36. کوئی اس دل کا حال کیا جانےایک خواہش ہزار تہہ خانےShakeb Jalali (1934–1966)
  37. کہاں رکیں گے مسافر نئے زمانوں کےبدل رہا ہے جنوں زاویے اڑانوں کےShakeb Jalali (1934–1966)
  38. کیا چیز ہے یہ سعئ پیہم کیا جذبۂ کامل ہوتا ہےاللہ کو اگر منظور نہ ہو ہر مقصد باطل ہوتا ہےShakeb Jalali (1934–1966)
  39. کیا کہیے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتیاونچی ہوں فصیلیں تو ہوا تک نہیں آتیShakeb Jalali (1934–1966)
  40. گلے ملا نہ کبھی چاند بخت ایسا تھاہرا بھرا بدن اپنا درخت ایسا تھاShakeb Jalali (1934–1966)
  41. گونجتا ہے نالۂ مہتاب آدھی رات کوٹوٹ جاتے ہیں سہانے خواب آدھی رات کوShakeb Jalali (1934–1966)
  42. مجھ سے ملنے شب غم اور تو کون آئے گامیرا سایہ ہے جو دیوار پہ جم جائے گاShakeb Jalali (1934–1966)
  43. مرجھا کے کالی جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھسورج ہوں میرا رنگ مگر دن ڈھلے بھی دیکھShakeb Jalali (1934–1966)
  44. مریض غم کے سہارو کوئی تو بات کرواداس چاند ستارو کوئی تو بات کروShakeb Jalali (1934–1966)
  45. مرے خلوص کی شدت سے کوئی ڈر بھی گیاوہ پاس آ تو رہا تھا مگر ٹھہر بھی گیاShakeb Jalali (1934–1966)
  46. موج صبا رواں ہوئی رقص جنوں بھی چاہئےخیمۂ گل کے پاس ہی دجلۂ خوں بھی چاہئےShakeb Jalali (1934–1966)
  47. موج غم اس لیے شاید نہیں گزری سر سےمیں جو ڈوبا تو نہ ابھروں گا کبھی ساگر سےShakeb Jalali (1934–1966)
  48. میٹھے چشموں سے خنک چھاؤں سے دورزخم کھلتے ہیں ترے گاؤں سے دورShakeb Jalali (1934–1966)
  49. میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میںمرجھا کے آ گرا ہوں مگر سرد گھاس میںShakeb Jalali (1934–1966)
  50. نقاب رخ اٹھایا جا رہا ہےگھٹا میں چاند آیا جا رہا ہےShakeb Jalali (1934–1966)