Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آگے تم ہو تو جفاؤں کا قلق یاد نہیںدل وہ بچہ ہے جسے پہلا سبق یاد نہیںR P Shokh
  2. اس نے پوچھا تو فقط درد کا افسانہ کھلاکسی صورت بھی نہ راز دل دیوانہ کھلاR P Shokh
  3. بے آب موسموں کا سامان کر کے رویایہ دل کہ آنکھ کو بھی ویران کر کے رویاR P Shokh
  4. پوچھو گے تو کھل جائے گی زخموں کی زباں اورپرشش تو گزرتی ہے غم دل پہ گراں اورR P Shokh
  5. تجھ کو دیکھا تو مری آنکھ نے دیکھا مجھ میںجھلملاتا ہے کوئی پہلے ہی تجھ سا مجھ میںR P Shokh
  6. جب ایک گلعذار کی صحبت میں آ گیاعارض کا رنگ میری طبیعت میں آ گیاR P Shokh
  7. جسم کا گھر ہی گرا ہے تو نہ جاں ٹھہرے گییاد آئی بھی کسی کی تو کہاں ٹھہرے گیR P Shokh
  8. جو نہ گلشن نہ گلابوں سے نکل کر آئےوہ تو خوشبو ہے جو خوابوں سے نکل کر آئےR P Shokh
  9. چارہ سازی کا طلب گار لگے ہے وہ بھیاک مسیحا ہے سو بیمار لگے ہے وہ بھیR P Shokh
  10. درد اٹھ اٹھ کے یہ کہتا ہے رگ جاں کے قریبابھی زنداں میں ہوں لیکن در زنداں کے قریبR P Shokh
  11. درد بن کر بھی دل و جاں میں نہیں رہ پاتاوہ سنورتا ہے تو امکاں میں نہیں رہ پاتاR P Shokh
  12. دل کی باتیں ہیں یہ بوجھل نہ بناؤں اس کومصلحت یہ ہے کہ کچھ بھی نہ بتاؤں اس کوR P Shokh
  13. زندگی اپنی ہوئی یار کی فطرت کی طرحہم بھی کل ہوں کہ نہ ہوں اس کی عنایت کی طرحR P Shokh
  14. شہر میں بن کے محبت کا گداگر مانگوںمجھ کو مانگے سے ملے وہ تو میں در در مانگوںR P Shokh
  15. شہروں میں ناچتا ہوا جنگل ہے اور میںصدیوں کے بعد بھی وہی قاتل ہے اور میںR P Shokh
  16. غم تو یہ بھی ہے کہ تقدیر بھی روئی برسوںہائے وہ زلف گرہ گیر بھی روئی برسوںR P Shokh
  17. کبھی ہونے سے کبھی دکھ کے نہ ہونے سے ہوااے محبت تجھے بس کام ہی رونے سے ہواR P Shokh
  18. کٹ گئے ہم تو حبیبوں سے اجازت لے کرہم سے ملتا ہے رقیبوں سے اجازت لے کرR P Shokh
  19. کس پہ قربان کسے یاد ہوئے تھے ہم بھییاد اتنا ہے کہ برباد ہوئے تھے ہم بھیR P Shokh
  20. کم کبھی راہ کے آزار تو ہوتے ہوں گےآبلہ پائی کہیں خار تو ہوتے ہوں گےR P Shokh
  21. کوہ کن شب تھے رہا شغل سحر ہونے تکسر پٹکنا اسی دیوار میں در ہونے تکR P Shokh
  22. گلوں کو چوم کر آئی صبا سی لگتی تھیتھی اک نظر پہ معطر ہوا سی لگتی تھیR P Shokh
  23. ماتھے پہ پڑی زلف گرہ گیر ہلا دیکیوں تم نے دل خفتہ کی زنجیر ہلا دیR P Shokh
  24. مشکل میں رہا وہ بھی کہ تدبیر نہ تھا میںمیں خواب تو تھا اس کا پہ تعبیر نہ تھا میںR P Shokh
  25. نقش دیوار شکستہ ہی کہیں ہو مجھ میںدرد ہو یاد ہو کوئی تو مکیں ہو مجھ میںR P Shokh
  26. نہ تلافیاں ہی مانگیں نہ وفا نہ پیار مانگیںچلو آج اس سے کھویا ہوا اعتبار مانگیںR P Shokh
  27. وہ تو حشر تھا مگر اس کی اب وہ شباہتیں بھی چلی گئیںجو رہیں تو شہر میں کیا رہیں کہ قیامتیں بھی چلی گئیںR P Shokh
  28. وہ نہیں بیچ تو یہ عمر رواں کہتی ہےکیا چلوں جب کوئی محور سے علیحدہ کر دےR P Shokh
  29. یہ اتفاق تھا میں اس کا ہم زمانہ تھاجو زندگی سے تعارف تھا غائبانہ تھاR P Shokh
  30. یہ حادثہ ہے مگر اس طرف ہوا بھی نہیںجدا ہوا بھی تو اس سے جو جانتا بھی نہیںR P Shokh
  31. یہ حسرتوں کی مری خاک سے نمو کیا ہےترے بغیر یہ دنیائے رنگ و بو کیا ہےR P Shokh