Poetry
- آگے تم ہو تو جفاؤں کا قلق یاد نہیںدل وہ بچہ ہے جسے پہلا سبق یاد نہیںR P Shokh
- اس نے پوچھا تو فقط درد کا افسانہ کھلاکسی صورت بھی نہ راز دل دیوانہ کھلاR P Shokh
- بے آب موسموں کا سامان کر کے رویایہ دل کہ آنکھ کو بھی ویران کر کے رویاR P Shokh
- پوچھو گے تو کھل جائے گی زخموں کی زباں اورپرشش تو گزرتی ہے غم دل پہ گراں اورR P Shokh
- تجھ کو دیکھا تو مری آنکھ نے دیکھا مجھ میںجھلملاتا ہے کوئی پہلے ہی تجھ سا مجھ میںR P Shokh
- جب ایک گلعذار کی صحبت میں آ گیاعارض کا رنگ میری طبیعت میں آ گیاR P Shokh
- جسم کا گھر ہی گرا ہے تو نہ جاں ٹھہرے گییاد آئی بھی کسی کی تو کہاں ٹھہرے گیR P Shokh
- جو نہ گلشن نہ گلابوں سے نکل کر آئےوہ تو خوشبو ہے جو خوابوں سے نکل کر آئےR P Shokh
- چارہ سازی کا طلب گار لگے ہے وہ بھیاک مسیحا ہے سو بیمار لگے ہے وہ بھیR P Shokh
- درد اٹھ اٹھ کے یہ کہتا ہے رگ جاں کے قریبابھی زنداں میں ہوں لیکن در زنداں کے قریبR P Shokh
- درد بن کر بھی دل و جاں میں نہیں رہ پاتاوہ سنورتا ہے تو امکاں میں نہیں رہ پاتاR P Shokh
- دل کی باتیں ہیں یہ بوجھل نہ بناؤں اس کومصلحت یہ ہے کہ کچھ بھی نہ بتاؤں اس کوR P Shokh
- زندگی اپنی ہوئی یار کی فطرت کی طرحہم بھی کل ہوں کہ نہ ہوں اس کی عنایت کی طرحR P Shokh
- شہر میں بن کے محبت کا گداگر مانگوںمجھ کو مانگے سے ملے وہ تو میں در در مانگوںR P Shokh
- شہروں میں ناچتا ہوا جنگل ہے اور میںصدیوں کے بعد بھی وہی قاتل ہے اور میںR P Shokh
- غم تو یہ بھی ہے کہ تقدیر بھی روئی برسوںہائے وہ زلف گرہ گیر بھی روئی برسوںR P Shokh
- کبھی ہونے سے کبھی دکھ کے نہ ہونے سے ہوااے محبت تجھے بس کام ہی رونے سے ہواR P Shokh
- کٹ گئے ہم تو حبیبوں سے اجازت لے کرہم سے ملتا ہے رقیبوں سے اجازت لے کرR P Shokh
- کس پہ قربان کسے یاد ہوئے تھے ہم بھییاد اتنا ہے کہ برباد ہوئے تھے ہم بھیR P Shokh
- کم کبھی راہ کے آزار تو ہوتے ہوں گےآبلہ پائی کہیں خار تو ہوتے ہوں گےR P Shokh
- کوہ کن شب تھے رہا شغل سحر ہونے تکسر پٹکنا اسی دیوار میں در ہونے تکR P Shokh
- گلوں کو چوم کر آئی صبا سی لگتی تھیتھی اک نظر پہ معطر ہوا سی لگتی تھیR P Shokh
- ماتھے پہ پڑی زلف گرہ گیر ہلا دیکیوں تم نے دل خفتہ کی زنجیر ہلا دیR P Shokh
- مشکل میں رہا وہ بھی کہ تدبیر نہ تھا میںمیں خواب تو تھا اس کا پہ تعبیر نہ تھا میںR P Shokh
- نقش دیوار شکستہ ہی کہیں ہو مجھ میںدرد ہو یاد ہو کوئی تو مکیں ہو مجھ میںR P Shokh
- نہ تلافیاں ہی مانگیں نہ وفا نہ پیار مانگیںچلو آج اس سے کھویا ہوا اعتبار مانگیںR P Shokh
- وہ تو حشر تھا مگر اس کی اب وہ شباہتیں بھی چلی گئیںجو رہیں تو شہر میں کیا رہیں کہ قیامتیں بھی چلی گئیںR P Shokh
- وہ نہیں بیچ تو یہ عمر رواں کہتی ہےکیا چلوں جب کوئی محور سے علیحدہ کر دےR P Shokh
- یہ اتفاق تھا میں اس کا ہم زمانہ تھاجو زندگی سے تعارف تھا غائبانہ تھاR P Shokh
- یہ حادثہ ہے مگر اس طرف ہوا بھی نہیںجدا ہوا بھی تو اس سے جو جانتا بھی نہیںR P Shokh
- یہ حسرتوں کی مری خاک سے نمو کیا ہےترے بغیر یہ دنیائے رنگ و بو کیا ہےR P Shokh