جب ایک گلعذار کی صحبت میں آ گیا

R P Shokh

جب ایک گلعذار کی صحبت میں آ گیا

عارض کا رنگ میری طبیعت میں آ گیا

اپنی رضا سے جس نے مراسم بڑھائے تھے

عرض طلب پہ وہ بھی نزاکت میں آ گیا

جی کے ضرر کو کون اٹھاتا ہے آج کل

اس دل کو داد دے کہ محبت میں آ گیا

پھرتا ہوں دہر میں لیے یہ دوستی کا ہاتھ

لگتا ہے میں بھی کوئے ملامت میں آ گیا

بے دل سے ایک کر کے وفا یوں لگا مجھے

یہ ہاتھ اک مشین کی خدمت میں آ گیا