بے آب موسموں کا سامان کر کے رویا
R P Shokhبے آب موسموں کا سامان کر کے رویا
یہ دل کہ آنکھ کو بھی ویران کر کے رویا
اس خیر خواہ کو بھی خود ہی تسلیاں دوں
کس کس دعا کا وہ بھی نقصان کر کے رویا
ساون کی زد میں آئے پھر قہقہے بسنتی
تیرا خیال ہم کو حیران کر کے رویا
اس کو پتہ نہیں تھا لائے تھے پل کی مہلت
وہ میزبان ہم کو مہمان کر کے رویا
ڈھونڈا فرار اس نے جب اک رفیق نو میں
وہ اپنی مشکلوں کو آسان کر کے رویا