اس نے پوچھا تو فقط درد کا افسانہ کھلا

R P Shokh

اس نے پوچھا تو فقط درد کا افسانہ کھلا

کسی صورت بھی نہ راز دل دیوانہ کھلا

ہر نفس پائے جنوں کے لئے زنجیر گراں

کو بہ کو پھرتا رہا پھر بھی یہ دیوانہ کھلا

جل کے مرتے ہیں پہ اظہار کے شعلوں میں نہیں

حادثہ یوں بھی ہوا شمع سے پروانہ کھلا

ہجر کی رات ڈھلی صبح کے ساغر میں مگر

نیند آئی نہ تری دید کا مے خانہ کھلا