Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. بارشوں میں غسل کرتے سبز پیڑدھوپ میں بنتے سنورتے سبز پیڑBalraj Komal (1928–2013)
  2. دل کا معاملہ وہی محشر وہی رہااب کے برس بھی رات کا منتظر وہی رہاBalraj Komal (1928–2013)
  3. کھویا کھویا اداس سا ہوگاتم سے وہ شخص جب ملا ہوگاBalraj Komal (1928–2013)
  4. آج اس شب کے سناٹے میں نیند نے آنکھیں پھیری ہیںشہر تھکا ہارا خاموشی کی باہوں میں سوتا ہےBalraj Komal (1928–2013)
  5. تیری قربت کی لذت شیریںجسم و جاں میں اترتی جاتی ہےBalraj Komal (1928–2013)
  6. چراغ امروز بجھ رہا ہےدھوئیں کی موجیں ابھر رہی ہیںBalraj Komal (1928–2013)
  7. سر سبزی مستی شادابی جھونکوں کا مدھم سنگیتہرے بھرے کھیتوں میں ننھے منے پودوں کی سرسرBalraj Komal (1928–2013)
  8. کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اچھا یا برا کچھ بھی نہیں ہےتقریب ولادت ہو یا ہنگام دم مرگBalraj Komal (1928–2013)
  9. کہتے ہیں سب لوگہوتے ہیںBalraj Komal (1928–2013)
  10. گرمیٔ خورشید کاایک نقش مضطربBalraj Komal (1928–2013)
  11. وادئ مجنوں میںآبروئے خون میںBalraj Komal (1928–2013)
  12. آگ کا ذائقہ ہر زباں پر سلگتا ہوا زخم تھارات کا آہنی در سمندر کی جانب کھلاBalraj Komal (1928–2013)
  13. ابھی غیر دلچسپ ہو جائیں گے ہمابھی تم کہو گےBalraj Komal (1928–2013)
  14. اجنبی اپنے قدموں کو روکو ذراجانتی ہوں تمہارے لیے غیر ہوںBalraj Komal (1928–2013)
  15. اس قدر تیرہ و سرد ہرگز نہ تھا دل کا موسم کبھیایک پل میں خدا جانے کیا ہو گیاBalraj Komal (1928–2013)
  16. اس کے ہنسنے اور رونے کی صداہو گئی تھیBalraj Komal (1928–2013)
  17. تیرگی میں بھیانک صدائیں اٹھیںاور دھواں سا فضاؤں میں لہرا گیاBalraj Komal (1928–2013)
  18. رات کو سونے سے پہلےمجھ سے ننھا کہہ رہا تھا چاند لاکھوں میل کیوں کر دور ہےBalraj Komal (1928–2013)
  19. غبارے ستارےگلابی شرابی کھلے پرچموں کے شرارے اڑاتےBalraj Komal (1928–2013)
  20. مشتہر موت کی آرزو نے اسےمضطرب کر دیا اس قدر ایک دنBalraj Komal (1928–2013)
  21. مکاں جل چکا ہےکھنڈر ہے سیاہی ہے بجھتی ہوئی راکھ کی سسکیاں ہیںBalraj Komal (1928–2013)
  22. اداسی گھنی اور گہری اداسی کا سایہشگوفوں کی سرگوشیاںBalraj Komal (1928–2013)
  23. اس سے جب کہتا ہوں میںمیرا ایکBalraj Komal (1928–2013)
  24. اس کمرے کی ترتیب سےمیں مانوس تھاBalraj Komal (1928–2013)
  25. اسیر آرزو ہجوم بے اماںشراب روز و شب کی آتش رواں میںBalraj Komal (1928–2013)
  26. اگر میں جسم ہوں تو سر سے پاؤں تک میں جسم ہوںاگر میں روح ہوں تو پھر تمام تر میں روح ہوںBalraj Komal (1928–2013)
  27. پرندہ آسماں کی نیلگوں محراب کے اس پار جاتا ہےپرندہ بال و پر ہے آنکھ ہے لیکنBalraj Komal (1928–2013)
  28. پیڑوں کے پتےجلتی دوپہروں کوBalraj Komal (1928–2013)
  29. تمام لوگ ابتدا میںایک دوسرے کے سامنےBalraj Komal (1928–2013)
  30. جب کتے رات کو روتے ہیںتو اکثر لوگ سمجھتے ہیںBalraj Komal (1928–2013)
  31. جو مجھ کو لائی تھی سکون گاہ میںوہ ایک تھیBalraj Komal (1928–2013)
  32. حریف کون تھا غلیظ بد نما سا جانوروہ بے خبرBalraj Komal (1928–2013)
  33. دسمبر چیختا ہے جب رگوں میںلطف سے عاری پریشاں محفلوں میںBalraj Komal (1928–2013)
  34. دم عمر رواں کا دائرہرکتا ہے اک لمحے پہ شاید ہر برسBalraj Komal (1928–2013)
  35. دیار برگ رعنا سےگزرتا ہوںBalraj Komal (1928–2013)
  36. دیوالی ہےدیپوں والیBalraj Komal (1928–2013)
  37. رات کا شاید ایک بجا ہےپاؤں تھکے ہیں سر بھاری ہےBalraj Komal (1928–2013)
  38. سلگتے دن ہیںطویل تنہائیاں مرے ساتھ لیٹے لیٹےBalraj Komal (1928–2013)
  39. شناخت اس کے نام سے تھیجسم کی بہار سےBalraj Komal (1928–2013)
  40. شہسوارننھا منا شہسوارBalraj Komal (1928–2013)
  41. صبا کے ہاتھ پیلے ہو گئےمیں ساعت سرشار میںBalraj Komal (1928–2013)
  42. کچھ لوگجو میرے دل کو اچھے لگتے تھےBalraj Komal (1928–2013)
  43. گھروں کی رونقیہ زرد بچےBalraj Komal (1928–2013)
  44. لوگ کہتے ہیںآواز کاBalraj Komal (1928–2013)
  45. مجھ سے اچھا نہیںکچھ برا بھی نہیںBalraj Komal (1928–2013)
  46. منجمد خون جب سرخ سے کل سیہ ہو گیاخاک پا واقعہ ہو گیاBalraj Komal (1928–2013)
  47. میں رات اور دن کیمسافت میںBalraj Komal (1928–2013)
  48. میں نان سوختہ کا ذائقہاتارتا ہوںBalraj Komal (1928–2013)
  49. میں نے فراز جسم پرمحراب لکھ دیاBalraj Komal (1928–2013)
  50. وہ موج اک مقام سےافق کی سمتBalraj Komal (1928–2013)