وادئ مجنوں میں
Balraj Komal (1928–2013)وادئ مجنوں میں
آبروئے خون میں
روئے سرشار و حسیں
منظر شب کے قریں
میں تمہیں ترتیب دوں
قرب کی ترغیب دوں
عکس کی تعریف میں
رسم کی تحریف میں
ایک افسانہ کہوں
صبح تک جلتا رہا ہوں
تم خرام ناز سے
نطق و لب کے ساز سے
مرگ آسا جاں بہ لب
جادۂ تاریک جب
زندہ و روشن کرو
اور لہرا کر چلو
قتل کر دینا اسے
عکس جو تم سا نہ تھا
حرف جو مجھ سا نہ تھا
جذب شعلۂ خو نہ تھا
رنگ جو خوشبو نہ تھا