Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آخر شب جو فضاؤں میں چھڑا ہوتا ہےوہ بھی کیا نغمۂ بے ساز و صدا ہوتا ہےBadr Shamsi
  2. اب ان کا غم بھی ہمیں دل کشا سا لگتا ہےیہ اجنبی تو ہمیں آشنا سا لگتا ہےBadr Shamsi
  3. اب دل میں وہ رعنائیٔ احساس نہیں ہےکس پھول میں ورنہ تری بو باس نہیں ہےBadr Shamsi
  4. بیتے لمحوں کی خوشبوئیں زخموں کی سوغات ملیتنہائی کے سونے پن میں یادوں کی بارات ملیBadr Shamsi
  5. پھر اس نگاہ کا نشتر مری تلاش میں ہےسکون دل کا پیمبر مری تلاش میں ہےBadr Shamsi
  6. پیمان وفا توڑ کے جانے کے لئے آآ دل کی لگی اور بڑھانے کے لئے آBadr Shamsi
  7. تصویر مسرت ہے کہ غم کھوئے ہوئے ہیںکچھ اشک سر دیدۂ نم کھوئے ہوئے ہیںBadr Shamsi
  8. تم اپنے ساتھ مری چشم تر بھی لے جاؤسفر طویل ہے اک ہم سفر بھی لے جاؤBadr Shamsi
  9. جواب عرض تمنا تو میرا اپنا تھاتری صدا میں بھی لہجہ تو میرا اپنا تھاBadr Shamsi
  10. جو چاند کو آغوش میں لینے پہ اڑا تھاہر چند وہ بچہ تھا مگر دل کا بڑا تھاBadr Shamsi
  11. چپکے چپکے کون یہ دل پر کرم فرمائے ہےدرد سے تسکین ملتی ہے سکوں تڑپائے ہےBadr Shamsi
  12. دل جن کو پوجتا تھا وہ غم جاگتے رہےکل رات بت کدے میں صنم جاگتے رہےBadr Shamsi
  13. دل کے ہر زخم کو ہونٹوں پہ سجایا جائےکیا ضروری ہے کہ حال اپنا سنایا جائےBadr Shamsi
  14. سکون دل کی طلب میں جو بے قرار نہیںوہ اپنے درد محبت سے شرمسار نہیںBadr Shamsi
  15. شمع جلے ہے محفل محفل خاک بسر پروانہ ہےاس دنیا میں درد پرایا سچ ہے کس نے جانا ہےBadr Shamsi
  16. کتنا عجیب شہر تمنا دکھائی دےہے اتنی روشنی کہ اندھیرا دکھائی دےBadr Shamsi
  17. کرم ہوا بھی تو کتنے تکلفات کے بعدعطا ہوا غم جاناں غم حیات کے بعدBadr Shamsi
  18. گزری ہوئی بہار کا کوئی پتا نہیںاس پیڑ میں تو ایک بھی پتا ہرا نہیںBadr Shamsi
  19. میرے غم کی منزل میں جیسے وہ بھی ٹھہرے ہیںخواب جو نہیں دیکھے کس قدر سنہرے ہیںBadr Shamsi
  20. میں اس سے بچھڑا تو پھر کس قدر اکیلی تھیوہ چاندنی جو کبھی میرے ساتھ کھیلی تھیBadr Shamsi
  21. میں چراغ شب ہستی ہوں ضیا کیا مانگوںزندہ رہنا ہے تو چلنے کے سوا کیا مانگوںBadr Shamsi
  22. نادیدہ منزلوں کے پیمبر بہت ملےہم کو ہماری راہ کے پتھر بہت ملےBadr Shamsi
  23. نظر بچا کے نظر سے گزر گیا وہ شخصمرے وجود میں لیکن اتر گیا وہ شخصBadr Shamsi
  24. وہ چاندنی وہ چاند سا پیکر اتار دےپہلو میں کوئی خواب کا منظر اتار دےBadr Shamsi
  25. ہر لمحہ بحر وقت کی طغیانیوں میں ہوںٹھہروں کہاں کہ بہتے ہوئے پانیوں میں ہوںBadr Shamsi
  26. ہمیں سے توڑ کے رشتہ سفر پہ نکلا ہےہمارا سایہ اکیلا سفر پہ نکلا ہےBadr Shamsi
  27. یوں بچھڑ جاؤں گا تم سے میں نے یہ سوچا نہ تھاقربتوں میں فاصلوں کا کوئی اندازہ نہ تھاBadr Shamsi