Poetry
- آخر شب جو فضاؤں میں چھڑا ہوتا ہےوہ بھی کیا نغمۂ بے ساز و صدا ہوتا ہےBadr Shamsi
- اب ان کا غم بھی ہمیں دل کشا سا لگتا ہےیہ اجنبی تو ہمیں آشنا سا لگتا ہےBadr Shamsi
- اب دل میں وہ رعنائیٔ احساس نہیں ہےکس پھول میں ورنہ تری بو باس نہیں ہےBadr Shamsi
- بیتے لمحوں کی خوشبوئیں زخموں کی سوغات ملیتنہائی کے سونے پن میں یادوں کی بارات ملیBadr Shamsi
- پھر اس نگاہ کا نشتر مری تلاش میں ہےسکون دل کا پیمبر مری تلاش میں ہےBadr Shamsi
- پیمان وفا توڑ کے جانے کے لئے آآ دل کی لگی اور بڑھانے کے لئے آBadr Shamsi
- تصویر مسرت ہے کہ غم کھوئے ہوئے ہیںکچھ اشک سر دیدۂ نم کھوئے ہوئے ہیںBadr Shamsi
- تم اپنے ساتھ مری چشم تر بھی لے جاؤسفر طویل ہے اک ہم سفر بھی لے جاؤBadr Shamsi
- جواب عرض تمنا تو میرا اپنا تھاتری صدا میں بھی لہجہ تو میرا اپنا تھاBadr Shamsi
- جو چاند کو آغوش میں لینے پہ اڑا تھاہر چند وہ بچہ تھا مگر دل کا بڑا تھاBadr Shamsi
- چپکے چپکے کون یہ دل پر کرم فرمائے ہےدرد سے تسکین ملتی ہے سکوں تڑپائے ہےBadr Shamsi
- دل جن کو پوجتا تھا وہ غم جاگتے رہےکل رات بت کدے میں صنم جاگتے رہےBadr Shamsi
- دل کے ہر زخم کو ہونٹوں پہ سجایا جائےکیا ضروری ہے کہ حال اپنا سنایا جائےBadr Shamsi
- سکون دل کی طلب میں جو بے قرار نہیںوہ اپنے درد محبت سے شرمسار نہیںBadr Shamsi
- شمع جلے ہے محفل محفل خاک بسر پروانہ ہےاس دنیا میں درد پرایا سچ ہے کس نے جانا ہےBadr Shamsi
- کتنا عجیب شہر تمنا دکھائی دےہے اتنی روشنی کہ اندھیرا دکھائی دےBadr Shamsi
- کرم ہوا بھی تو کتنے تکلفات کے بعدعطا ہوا غم جاناں غم حیات کے بعدBadr Shamsi
- گزری ہوئی بہار کا کوئی پتا نہیںاس پیڑ میں تو ایک بھی پتا ہرا نہیںBadr Shamsi
- میرے غم کی منزل میں جیسے وہ بھی ٹھہرے ہیںخواب جو نہیں دیکھے کس قدر سنہرے ہیںBadr Shamsi
- میں اس سے بچھڑا تو پھر کس قدر اکیلی تھیوہ چاندنی جو کبھی میرے ساتھ کھیلی تھیBadr Shamsi
- میں چراغ شب ہستی ہوں ضیا کیا مانگوںزندہ رہنا ہے تو چلنے کے سوا کیا مانگوںBadr Shamsi
- نادیدہ منزلوں کے پیمبر بہت ملےہم کو ہماری راہ کے پتھر بہت ملےBadr Shamsi
- نظر بچا کے نظر سے گزر گیا وہ شخصمرے وجود میں لیکن اتر گیا وہ شخصBadr Shamsi
- وہ چاندنی وہ چاند سا پیکر اتار دےپہلو میں کوئی خواب کا منظر اتار دےBadr Shamsi
- ہر لمحہ بحر وقت کی طغیانیوں میں ہوںٹھہروں کہاں کہ بہتے ہوئے پانیوں میں ہوںBadr Shamsi
- ہمیں سے توڑ کے رشتہ سفر پہ نکلا ہےہمارا سایہ اکیلا سفر پہ نکلا ہےBadr Shamsi
- یوں بچھڑ جاؤں گا تم سے میں نے یہ سوچا نہ تھاقربتوں میں فاصلوں کا کوئی اندازہ نہ تھاBadr Shamsi