Poetry
Poet
Meter
- پیری میں بھلا ڈھونڈھئے کیا بخت جواں کواب قطع محبت ہی ہوئی جسم سے جاں کوJoshish Azimabadi (d. 1830)
- تجھ سے ظالم کو اپنا یار کیاہم نے کیا جبر اختیار کیاJoshish Azimabadi (d. 1830)
- تجھ سے ہی کیا وفا کی نہیں خوش نگاہ چشمجتنے سفید پوش ہیں سب ہیں سیاہ چشمJoshish Azimabadi (d. 1830)
- تجھے اے شعلہ رو کب چھوڑتا ہوںجلے دل کے پھپھولے پھوڑتا ہوںJoshish Azimabadi (d. 1830)
- تری طہارت کو شیخ کہہ تو کہاں سے لائیں اک آب جو ہمطواف دل کا ہے قصد ہم کو کریں ہیں آنسو سے نت وضو ہمJoshish Azimabadi (d. 1830)
- جب ہوئے تم چمن میں آن کھڑےووہیں ہو گئے گلوں کے کان کھڑےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- جلا بلا ہوں گرفتار حال اپنا ہوںبرنگ شمع سراپا وبال اپنا ہوںJoshish Azimabadi (d. 1830)
- چشم خونخوار ابروئے خم دار دونوں ایک ہیںہیں جدا لیکن بوقت کار دونوں ایک ہیںJoshish Azimabadi (d. 1830)
- چشم سے غافل نہ ہوا چاہئےاس کے مقابل نہ ہوا چاہئےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- چھوڑیئے کس طرح سے مے نوشیزور عالم رکھے ہے بے ہوشیJoshish Azimabadi (d. 1830)
- حال اب تنگ ہے زمانے کارنگ بے رنگ ہے زمانے کاJoshish Azimabadi (d. 1830)
- دامان دل سے گرد تعلق کو جھاڑئیےجوں سرو پاؤں باغ تجرد میں گاڑئیےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- دل میں ہر چند ہے خیال اس کانظر آتا نہیں جمال اس کاJoshish Azimabadi (d. 1830)
- دنیا کی جستجو تو ہم سے نہ ہو سکے گییہ منت آرزو تو ہم سے نہ ہو سکے گیJoshish Azimabadi (d. 1830)
- سامنے اس کے رو نہیں سکتاچپ رہوں یہ بھی ہو نہیں سکتاJoshish Azimabadi (d. 1830)
- شیخ کو کعبے سے جو مقصود ہےوہ کنشت دل ہی میں موجود ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- عیش و عشرت ہی میں کچھ ہے زندگیمرگ ہے بے یار و بے مے زندگیJoshish Azimabadi (d. 1830)
- کافر ہوں گر کسی کو دیوانہ جانتا ہوںاحوال قیس کا بھی افسانہ جانتا ہوںJoshish Azimabadi (d. 1830)
- کشتی ہے تباہ دل شدوں کیلینا خبر اپنے بے خودوں کیJoshish Azimabadi (d. 1830)
- کیا بدگمانیاں ہیں مری جان لیجئےیہ دل تو ہے وہی اسے پہچان لیجئےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- کیجئے رندی کا پیشہ شیشہ شیشہ ہے شرابلیجئے اک گھونٹ شیشہ شیشہ شیشہ ہے شرابJoshish Azimabadi (d. 1830)
- کیوں کہوں قامت کو تیرے اے بت رعنا الفاور کچھ خوبی نہیں رکھتا ہے اک سیدھا الفJoshish Azimabadi (d. 1830)
- گر کوئی کاٹ لے سر بھی ترے دیوانے کاپر یہ سودائے محبت ہے نہیں جانے کاJoshish Azimabadi (d. 1830)
- گو کہ محتاج ہیں گدا ہیں ہمبے نیازی کے بادشا ہیں ہمJoshish Azimabadi (d. 1830)
- لب پر جو مرے آہ غم آلود نہیں ہےاظہار محبت مجھے مقصود نہیں ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- لکھا خط اسے لے قلم اور کاغذجلے عشق سوزاں سے ہم اور کاغذJoshish Azimabadi (d. 1830)
- مر رہتے ہیں در پر ترے دو چار ہمیشہہے جور و جفا تجھ کو سزا وار ہمیشہJoshish Azimabadi (d. 1830)
- مرنا تو بہتر ہے جو مر جائیےجی سے کسی کے نہ اتر جائیےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- مرے جب تک کہ دم میں دم رہے گایہی رونا یہی ماتم رہے گاJoshish Azimabadi (d. 1830)
- منہ بنائے ہوئے پھرتا ہے وہ کل سے ہم سےکوئی آج اس کو ملا دے کسی کل سے ہم سےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- نالۂ دل کی تو کوتاہی نہیںپر اثر کچھ اس کو ہوتا ہی نہیںJoshish Azimabadi (d. 1830)
- نوبت اپنی تو جان تک پہنچیحیف اس کے نہ کان تک پہنچیJoshish Azimabadi (d. 1830)
- نہیں معتقد جو ترے دید کامیں دیوانہ ہوں اس کی فہمید کاJoshish Azimabadi (d. 1830)
- وہ سعی قفس میں کر کہ ٹوٹےاس میں رہے بال و پر کہ ٹوٹےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- ہر چند کہ دیکھے ہے وہ پیار کی آنکھوں سےپر نکلے ہے بے رنگی اس پار کی آنکھوں سےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- ہم ہی کرتے نہیں زلفوں کو تری ہار پسندشیخ صاحب کو بھی آتا ہے یہ زنار پسندJoshish Azimabadi (d. 1830)
- ہیں دل جگر ہمارے یہ مہر و ماہ دونوںپہنچے ہیں آسماں پہ ہمراہ آہ دونوںJoshish Azimabadi (d. 1830)
- ہے آفتاب اور مرے دل کا داغ ایکدیکھا تو بزم عشق میں ہے یہ چراغ ایکJoshish Azimabadi (d. 1830)
- یاد ہیں وے دن تجھے ہم کیسے آواروں میں تھےخار تھے ہر آبلوں میں آبلے خاروں میں تھےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- اس شرمگیں کے منہ پہ نہ ہر دم نگاہ رکھسر رشتۂ نگاہ کو اپنے نگاہ رکھJoshish Azimabadi (d. 1830)
- اس غم کدے سے کچھ نہ لگا ہاتھ ہمارےآہ دل سوزاں ہی چلی ساتھ ہمارےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- تنہائی سے ہے صحبت دن رات جدائی میںکیا خوب گزرتی ہے اوقات جدائی میںJoshish Azimabadi (d. 1830)
- چھوڑ دے مار لات دنیا کوکچھ نہیں ہے ثبات دنیا کوJoshish Azimabadi (d. 1830)
- خوش نما گرچہ مد کا ہالہ ہےتیرے کانوں کا بالا بالا ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- دیوانہ ہوں مجھے نہ تساہل سے باندھئےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- یار کے تیر کا نشانہ ہوںاپنے طالع کا میں دوانا ہوںJoshish Azimabadi (d. 1830)
- آپ کا اعتبار کون کرےروز کا انتظار کون کرےDagh Dehlvi (1831–1905)
- آخر کو عشق کفر سے ایمان ہو گیامیں بت پرستیوں سے مسلمان ہو گیاDagh Dehlvi (1831–1905)
- آرزو ہے وفا کرے کوئیجی نہ چاہے تو کیا کرے کوئیDagh Dehlvi (1831–1905)
- آزمایا ہے مدام آپ کو بس بس اجی بسدونوں ہاتھوں سے سلام آپ کو بس بس اجی بسDagh Dehlvi (1831–1905)