Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. ہے خموشی ظلم چرخ دیو پیکر کا جوابآدمی ہوتا تو ہم دیتے برابر کا جوابAmeer Minai (1829–1900)
  2. یارب شب وصال یہ کیسا گجر بجااگلے پہر کے ساتھ ہی پچھلا پہر بجاAmeer Minai (1829–1900)
  3. آفت تو ہے وہ ناز بھی انداز بھی لیکنمرتا ہوں میں جس پر وہ ادا اور ہی کچھ ہےAmeer Minai (1829–1900)
  4. آہوں سے سوز عشق مٹایا نہ جائے گاپھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گاAmeer Minai (1829–1900)
  5. آیا نہ ایک بار عیادت کو تو مسیحسو بار میں فریب سے بیمار ہو چکاAmeer Minai (1829–1900)
  6. ابھی آئے ابھی جاتے ہو جلدی کیا ہے دم لے لونہ چھیڑوں گا میں جیسی چاہے تم مجھ سے قسم لے لوAmeer Minai (1829–1900)
  7. الفت میں برابر ہے وفا ہو کہ جفا ہوہر بات میں لذت ہے اگر دل میں مزا ہوAmeer Minai (1829–1900)
  8. اللہ رے اس گل کی کلائی کی نزاکتبل کھا گئی جب بوجھ پڑا رنگ حنا کاAmeer Minai (1829–1900)
  9. اللہ رے سادگی نہیں اتنی انہیں خبرمیت پہ آ کے پوچھتے ہیں ان کو کیا ہواAmeer Minai (1829–1900)
  10. امیرؔ اب ہچکیاں آنے لگی ہیںکہیں میں یاد فرمایا گیا ہوںAmeer Minai (1829–1900)
  11. باقی نہ دل میں کوئی بھی یا رب ہوس رہےچودہ برس کے سن میں وہ لاکھوں برس رہےAmeer Minai (1829–1900)
  12. بوسہ لیا جو اس لب شیریں کا مر گئےدی جان ہم نے چشمۂ آب حیات پرAmeer Minai (1829–1900)
  13. پھر بیٹھے بیٹھے وعدۂ وصل اس نے کر لیاپھر اٹھ کھڑا ہوا وہی روگ انتظار کاAmeer Minai (1829–1900)
  14. تم کو آتا ہے پیار پر غصہمجھ کو غصے پہ پیار آتا ہےAmeer Minai (1829–1900)
  15. تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کرسرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کرAmeer Minai (1829–1900)
  16. تیری مسجد میں واعظ خاص ہیں اوقات رحمت کےہمارے مے کدے میں رات دن رحمت برستی ہےAmeer Minai (1829–1900)
  17. جو چاہئے سو مانگیے اللہ سے امیرؔاس در پہ آبرو نہیں جاتی سوال سےAmeer Minai (1829–1900)
  18. خدا نے نیک صورت دی تو سیکھو نیک باتیں بھیبرے ہوتے ہو اچھے ہو کے یہ کیا بد زبانی ہےAmeer Minai (1829–1900)
  19. خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔسارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہےAmeer Minai (1829–1900)
  20. سمجھتا ہوں سبب کافر ترے آنسو نکلنے کادھواں لگتا ہے آنکھوں میں کسی کے دل کے جلنے کاAmeer Minai (1829–1900)
  21. شاعر کو مست کرتی ہے تعریف شعر امیرؔسو بوتلوں کا نشہ ہے اس واہ واہ میںAmeer Minai (1829–1900)
  22. ضبط دیکھو ادھر نگاہ نہ کیمر گئے مرتے مرتے آہ نہ کیAmeer Minai (1829–1900)
  23. کسی رئیس کی محفل کا ذکر ہی کیا ہےخدا کے گھر بھی نہ جائیں گے بن بلائے ہوئےAmeer Minai (1829–1900)
  24. کشتیاں سب کی کنارے پہ پہنچ جاتی ہیںناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہےAmeer Minai (1829–1900)
  25. کون اٹھائے گا تمہاری یہ جفا میرے بعدیاد آئے گی بہت میری وفا میرے بعدAmeer Minai (1829–1900)
  26. کون سی جا ہے جہاں جلوۂ معشوق نہیںشوق دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کرAmeer Minai (1829–1900)
  27. گاہے گاہے کی ملاقات ہی اچھی ہے امیرؔقدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جاناAmeer Minai (1829–1900)
  28. لطف آنے لگا جفاؤں میںوہ کہیں مہرباں نہ ہو جائےAmeer Minai (1829–1900)
  29. مانگ لوں تجھ سے تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائےسو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہےAmeer Minai (1829–1900)
  30. مانی ہیں میں نے سیکڑوں باتیں تمام عمرآج آپ ایک بات مری مان جائیےAmeer Minai (1829–1900)
  31. مرا خط اس نے پڑھا پڑھ کے نامہ بر سے کہایہی جواب ہے اس کا کوئی جواب نہیںAmeer Minai (1829–1900)
  32. مشکل بہت پڑے گی برابر کی چوٹ ہےآئینہ دیکھئے گا ذرا دیکھ بھال کےAmeer Minai (1829–1900)
  33. وصل ہو جائے یہیں حشر میں کیا رکھا ہےآج کی بات کو کیوں کل پہ اٹھا رکھا ہےAmeer Minai (1829–1900)
  34. وہ دشمنی سے دیکھتے ہیں دیکھتے تو ہیںمیں شاد ہوں کہ ہوں تو کسی کی نگاہ میںAmeer Minai (1829–1900)
  35. ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسےزمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسےAmeer Minai (1829–1900)
  36. یہ بھی اک بات ہے عداوت کیروزہ رکھا جو ہم نے دعوت کیAmeer Minai (1829–1900)
  37. ہم نے دکھا دکھا تری تصویر جا بہ جاہر اک کو اپنی جان کا دشمن بنا لیاCaptain Alexander Hederly Azad (1829–1861)
  38. آج گلشن میں کس کا پرتو ہےہر کلی گل کی شمع کی لو ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
  39. آئینۂ دل میں کچھ اگر ہےتیرا ہی جمال جلوہ گر ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
  40. اپنی وہ بے ثبات ہستی ہےکہ سدا نیستی ہی ہنستی ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
  41. اٹھ گئے یاں سے اپنے ہم دم توہاتھ ملتے ہی رہ گئے ہم توJoshish Azimabadi (d. 1830)
  42. اس تند خو سے جوں ہی مری آنکھ لڑ گئیاس دل سے اور عقل سے ووہیں بگڑ گئیJoshish Azimabadi (d. 1830)
  43. اس کمر کے خیال میں ہیں ہمبیٹھے کرتے ہیں سیر ملک عدمJoshish Azimabadi (d. 1830)
  44. ان دنوں وہ ادھر نہیں آتااپنا جینا نظر نہیں آتاJoshish Azimabadi (d. 1830)
  45. ان نے پہلے ہی پہل پی ہے شراب آج کے دنبولو دل کھول کر اے چنگ و رباب آج کے دنJoshish Azimabadi (d. 1830)
  46. اہل جہاں کے ملنے سے ہم احتراز کربیٹھے ہیں گوشہ گیر ہو اس دل سے ساز کرJoshish Azimabadi (d. 1830)
  47. اے زلف اس کے منہ سے تو تو لپٹ رہی ہےگیسو کو کاٹیو مت وہ آپ کٹ رہی ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
  48. بڑھتی جاتی ہے میری اس کی چاہسچ ہے ہوتی ہے دل کو دل سے راہJoshish Azimabadi (d. 1830)
  49. پریشان اے زلف بہر دم نہ ہوسنان مژہ کی تو پرچم نہ ہوJoshish Azimabadi (d. 1830)
  50. پڑتی ہے نظر جب کہ پر و بال پر اپنےروتا ہوں قفس میں بہت احوال پر اپنےJoshish Azimabadi (d. 1830)