Poetry
Poet
Meter
- ہے خموشی ظلم چرخ دیو پیکر کا جوابآدمی ہوتا تو ہم دیتے برابر کا جوابAmeer Minai (1829–1900)
- یارب شب وصال یہ کیسا گجر بجااگلے پہر کے ساتھ ہی پچھلا پہر بجاAmeer Minai (1829–1900)
- آفت تو ہے وہ ناز بھی انداز بھی لیکنمرتا ہوں میں جس پر وہ ادا اور ہی کچھ ہےAmeer Minai (1829–1900)
- آہوں سے سوز عشق مٹایا نہ جائے گاپھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گاAmeer Minai (1829–1900)
- آیا نہ ایک بار عیادت کو تو مسیحسو بار میں فریب سے بیمار ہو چکاAmeer Minai (1829–1900)
- ابھی آئے ابھی جاتے ہو جلدی کیا ہے دم لے لونہ چھیڑوں گا میں جیسی چاہے تم مجھ سے قسم لے لوAmeer Minai (1829–1900)
- الفت میں برابر ہے وفا ہو کہ جفا ہوہر بات میں لذت ہے اگر دل میں مزا ہوAmeer Minai (1829–1900)
- اللہ رے اس گل کی کلائی کی نزاکتبل کھا گئی جب بوجھ پڑا رنگ حنا کاAmeer Minai (1829–1900)
- اللہ رے سادگی نہیں اتنی انہیں خبرمیت پہ آ کے پوچھتے ہیں ان کو کیا ہواAmeer Minai (1829–1900)
- امیرؔ اب ہچکیاں آنے لگی ہیںکہیں میں یاد فرمایا گیا ہوںAmeer Minai (1829–1900)
- باقی نہ دل میں کوئی بھی یا رب ہوس رہےچودہ برس کے سن میں وہ لاکھوں برس رہےAmeer Minai (1829–1900)
- بوسہ لیا جو اس لب شیریں کا مر گئےدی جان ہم نے چشمۂ آب حیات پرAmeer Minai (1829–1900)
- پھر بیٹھے بیٹھے وعدۂ وصل اس نے کر لیاپھر اٹھ کھڑا ہوا وہی روگ انتظار کاAmeer Minai (1829–1900)
- تم کو آتا ہے پیار پر غصہمجھ کو غصے پہ پیار آتا ہےAmeer Minai (1829–1900)
- تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کرسرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کرAmeer Minai (1829–1900)
- تیری مسجد میں واعظ خاص ہیں اوقات رحمت کےہمارے مے کدے میں رات دن رحمت برستی ہےAmeer Minai (1829–1900)
- جو چاہئے سو مانگیے اللہ سے امیرؔاس در پہ آبرو نہیں جاتی سوال سےAmeer Minai (1829–1900)
- خدا نے نیک صورت دی تو سیکھو نیک باتیں بھیبرے ہوتے ہو اچھے ہو کے یہ کیا بد زبانی ہےAmeer Minai (1829–1900)
- خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔسارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہےAmeer Minai (1829–1900)
- سمجھتا ہوں سبب کافر ترے آنسو نکلنے کادھواں لگتا ہے آنکھوں میں کسی کے دل کے جلنے کاAmeer Minai (1829–1900)
- شاعر کو مست کرتی ہے تعریف شعر امیرؔسو بوتلوں کا نشہ ہے اس واہ واہ میںAmeer Minai (1829–1900)
- ضبط دیکھو ادھر نگاہ نہ کیمر گئے مرتے مرتے آہ نہ کیAmeer Minai (1829–1900)
- کسی رئیس کی محفل کا ذکر ہی کیا ہےخدا کے گھر بھی نہ جائیں گے بن بلائے ہوئےAmeer Minai (1829–1900)
- کشتیاں سب کی کنارے پہ پہنچ جاتی ہیںناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہےAmeer Minai (1829–1900)
- کون اٹھائے گا تمہاری یہ جفا میرے بعدیاد آئے گی بہت میری وفا میرے بعدAmeer Minai (1829–1900)
- کون سی جا ہے جہاں جلوۂ معشوق نہیںشوق دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کرAmeer Minai (1829–1900)
- گاہے گاہے کی ملاقات ہی اچھی ہے امیرؔقدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جاناAmeer Minai (1829–1900)
- لطف آنے لگا جفاؤں میںوہ کہیں مہرباں نہ ہو جائےAmeer Minai (1829–1900)
- مانگ لوں تجھ سے تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائےسو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہےAmeer Minai (1829–1900)
- مانی ہیں میں نے سیکڑوں باتیں تمام عمرآج آپ ایک بات مری مان جائیےAmeer Minai (1829–1900)
- مرا خط اس نے پڑھا پڑھ کے نامہ بر سے کہایہی جواب ہے اس کا کوئی جواب نہیںAmeer Minai (1829–1900)
- مشکل بہت پڑے گی برابر کی چوٹ ہےآئینہ دیکھئے گا ذرا دیکھ بھال کےAmeer Minai (1829–1900)
- وصل ہو جائے یہیں حشر میں کیا رکھا ہےآج کی بات کو کیوں کل پہ اٹھا رکھا ہےAmeer Minai (1829–1900)
- وہ دشمنی سے دیکھتے ہیں دیکھتے تو ہیںمیں شاد ہوں کہ ہوں تو کسی کی نگاہ میںAmeer Minai (1829–1900)
- ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسےزمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسےAmeer Minai (1829–1900)
- یہ بھی اک بات ہے عداوت کیروزہ رکھا جو ہم نے دعوت کیAmeer Minai (1829–1900)
- ہم نے دکھا دکھا تری تصویر جا بہ جاہر اک کو اپنی جان کا دشمن بنا لیاCaptain Alexander Hederly Azad (1829–1861)
- آج گلشن میں کس کا پرتو ہےہر کلی گل کی شمع کی لو ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- آئینۂ دل میں کچھ اگر ہےتیرا ہی جمال جلوہ گر ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- اپنی وہ بے ثبات ہستی ہےکہ سدا نیستی ہی ہنستی ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- اٹھ گئے یاں سے اپنے ہم دم توہاتھ ملتے ہی رہ گئے ہم توJoshish Azimabadi (d. 1830)
- اس تند خو سے جوں ہی مری آنکھ لڑ گئیاس دل سے اور عقل سے ووہیں بگڑ گئیJoshish Azimabadi (d. 1830)
- اس کمر کے خیال میں ہیں ہمبیٹھے کرتے ہیں سیر ملک عدمJoshish Azimabadi (d. 1830)
- ان دنوں وہ ادھر نہیں آتااپنا جینا نظر نہیں آتاJoshish Azimabadi (d. 1830)
- ان نے پہلے ہی پہل پی ہے شراب آج کے دنبولو دل کھول کر اے چنگ و رباب آج کے دنJoshish Azimabadi (d. 1830)
- اہل جہاں کے ملنے سے ہم احتراز کربیٹھے ہیں گوشہ گیر ہو اس دل سے ساز کرJoshish Azimabadi (d. 1830)
- اے زلف اس کے منہ سے تو تو لپٹ رہی ہےگیسو کو کاٹیو مت وہ آپ کٹ رہی ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- بڑھتی جاتی ہے میری اس کی چاہسچ ہے ہوتی ہے دل کو دل سے راہJoshish Azimabadi (d. 1830)
- پریشان اے زلف بہر دم نہ ہوسنان مژہ کی تو پرچم نہ ہوJoshish Azimabadi (d. 1830)
- پڑتی ہے نظر جب کہ پر و بال پر اپنےروتا ہوں قفس میں بہت احوال پر اپنےJoshish Azimabadi (d. 1830)