آزمایا ہے مدام آپ کو بس بس اجی بس

Dagh Dehlvi (1831–1905)

آزمایا ہے مدام آپ کو بس بس اجی بس

دونوں ہاتھوں سے سلام آپ کو بس بس اجی بس

آپ کی بندہ نوازی ہے جہاں میں مشہور

جانتا ہے یہ غلام آپ کو بس بس اجی بس

منہ نہ کھلوایئے میرا یوں ہی رہنے دیجے

یاد بھی ہے وہ کلام آپ کو بس بس اجی بس

ہم نے کل دیکھ لیا دیکھ لیا دیکھ لیا

کہیں جاتے سر شام آپ کو بس بس اجی بس

پیجیے خون جگر اپنا جناب زاہد

بادہ و ساغر و جام آپ کو بس بس اجی بس