Poetry
Poet
Meter
- غنچے نے تاج گل نے کیا پیرہن درستشادی بہار کی ہے ہوا ہے چمن درستNaseem Dehlvi (1794–1864)
- فصل گل آئی ہے کل اور ہی ساماں ہوں گےمیرے دامن میں ترے دست و گریباں ہوں گےNaseem Dehlvi (1794–1864)
- قربان ہو رہی ہے مری جاں ادھر ادھرواں رہ پہ ہے جو زلف پریشاں ادھر ادھرNaseem Dehlvi (1794–1864)
- کب اس زمیں پہ مجھے آرمیدہ ہونا تھاہوا سے خاک کو برسوں پریدہ ہونا تھاNaseem Dehlvi (1794–1864)
- کبھی ہوتا ہوں ظاہر جلوۂ حسن نکو ہو کرکبھی خاطر میں چھپ جاتا ہوں تیری آرزو ہو کرNaseem Dehlvi (1794–1864)
- کسی صورت تو دل کو شاد کرناہمیں دشمن سمجھ کر یاد کرناNaseem Dehlvi (1794–1864)
- کہتے ہیں سن کے تذکرے مجھ غم رسیدہ کےافسانے کون سنتا ہے حال شنیدہ کےNaseem Dehlvi (1794–1864)
- کھلی ہے آنکھ جوش انتظار یار جانی ہےبہ مشکل دیدۂ زنجیر خواب پاسبانی ہےNaseem Dehlvi (1794–1864)
- کیے سجدے ہوئے کافر نہ کچھ دل میں ذرا سمجھےہمیں بندہ بنایا اے بتو تم سے خدا سمجھےNaseem Dehlvi (1794–1864)
- گشت نہ کر ادھر ادھر بے خبری جہاں میں ہےاپنے ہی دل میں غور کر دیکھ مکیں مکاں میں ہےNaseem Dehlvi (1794–1864)
- لڑکپن میں یہ ضد ہے جانی تمہاریابھی دیکھنی ہے جوانی تمہاریNaseem Dehlvi (1794–1864)
- لو ضعف سے اب یہ حال تن ہےسایہ متجسس بدن ہےNaseem Dehlvi (1794–1864)
- ماتم بہت رہا مجھے اشک چکیدہ کاآخر کو پاس آ ہی گیا نور دیدہ کاNaseem Dehlvi (1794–1864)
- مرگ اغیار لب پہ لا نہ سکاوہ قسم ہوں جو یار کھا نہ سکاNaseem Dehlvi (1794–1864)
- ملنے کے نہیں نشاں ہمارےکیا پوچھتے ہو مکاں ہمارےNaseem Dehlvi (1794–1864)
- منظور ہے ناپنا کمر کاپیمانہ بنائیے نظر کاNaseem Dehlvi (1794–1864)
- ناصح مشفق یہ مشق تازہ فرمانے لگےدن تو تھا اب رات کو بھی آ کے سمجھانے لگےNaseem Dehlvi (1794–1864)
- نکل آیا وہ گھبرا کر دل اس کا اس قدر دھڑکاصدا بجلی کی دی نالے نے جب منہ سے مرے کڑکاNaseem Dehlvi (1794–1864)
- وصل کی رات ہے آخر کبھی عریاں ہوں گےمیں پشیماں ہوں تو کیا وہ نہ پشیماں ہوں گےNaseem Dehlvi (1794–1864)
- ہاتھوں میں آج کی شب مہندی لگایئے گاسمجھے یہ رنگ ہم بھی کچھ رنگ لائیے گاNaseem Dehlvi (1794–1864)
- ہوس یہ رہ گئی دل میں کہ مدعا نہ ملابہت جہان میں ڈھونڈھا پر آشنا نہ ملاNaseem Dehlvi (1794–1864)
- ہے کہے دیتے ہیں زحمت خوردہ ہےدل تو حاضر ہے مگر پژمردہ ہےNaseem Dehlvi (1794–1864)
- یہ وہ نالے ہیں جو لب تک آئیں گےتم تو کیا ہو آسماں ہل جائیں گےNaseem Dehlvi (1794–1864)
- اشک آنکھوں میں ڈر سے لا نہ سکےدل کی بھڑکی ہوئی بجھا نہ سکےNaseem Dehlvi (1794–1864)
- دل کسی مشتاق کا ٹھنڈا کیاخوب کیا آپ نے اچھا کیاNaseem Dehlvi (1794–1864)
- دل کے آتے ہی یہ نقشہ ہو گیاکیا بتاؤں دوستو کیا ہو گیاNaseem Dehlvi (1794–1864)
- شکوا ہے نہ غصہ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتاکیوں آپ کو دھڑکا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتاNaseem Dehlvi (1794–1864)
- گلی میں بخت کے ان کا بھی کچھ قصہ نکل آیاہوئی تھی صلح کس مشکل سے پھر جھگڑا نکل آیاNaseem Dehlvi (1794–1864)
- مری جان رنج گھٹائیے قدم آگے اب نہ بڑھائیےادھر آئیے ادھر آئیے ادھر آئیے ادھر آئیےNaseem Dehlvi (1794–1864)
- نئے ڈھب کا کچھ جوش سودا ہوا ہےخدا جانے اب کے مجھے کیا ہوا ہےNaseem Dehlvi (1794–1864)
- یارو قسم ہے تم کو کہیں جستجو کروقاتل مرے کو مجھ سے ذرا روبرو کروDaulat Aasiri (b. 1795)
- نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کاکاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کاMirza Ghalib (1797–1869)
- جراحت تحفہ الماس ارمغاں داغ جگر ہدیہمبارک باد اسدؔ غم خوار جان دردمند آیاMirza Ghalib (1797–1869)
- جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کارصحرا مگر بہ تنگی چشم حسود تھاMirza Ghalib (1797–1869)
- کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایادل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایاMirza Ghalib (1797–1869)
- دل مرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیاآتش خاموش کی مانند گویا جل گیاMirza Ghalib (1797–1869)
- شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلاقیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلاMirza Ghalib (1797–1869)
- دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا"عشقِ نبرد پیشہ" طلبگارِ مرد تھاMirza Ghalib (1797–1869)
- شمار سبحہ، “مرغوبِ بتِ مشکل” پسند آیاتماشائے بہ یک کف بُردنِ صد دل، پسند آیاMirza Ghalib (1797–1869)
- دہر میں نقشِ وفا وجہ تسلی نہ ہواہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہواMirza Ghalib (1797–1869)
- ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغ رضواں کاوہ اک گلدستہ ہے ہم بے خودوں کے طاق نسیاں کاMirza Ghalib (1797–1869)
- نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میراحباب موجۂ رفتار ہے نقش قدم میراMirza Ghalib (1797–1869)
- سراپا رہن عشق و نا گزیر الفت ہستیعبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کاMirza Ghalib (1797–1869)
- محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کایاں ورنہ جو حجاب ہے، پردہ ہے ساز کاMirza Ghalib (1797–1869)
- بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلارکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلاMirza Ghalib (1797–1869)
- شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھاشعلۂ جوّالہ ہر اِک حلقۂ گرداب تھاMirza Ghalib (1797–1869)
- نالۂ دل میں شب اندازِ اثر نایاب تھاتھا سپندِبزمِ وصلِ غیر ، گو بیتاب تھاMirza Ghalib (1797–1869)
- ایک ایک قطرہ کا مجھے دینا پڑا حسابخون جگر ودیعت مژگان یار تھاMirza Ghalib (1797–1869)
- بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہوناآدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہوناMirza Ghalib (1797–1869)
- شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھاتا محیطِ بادہ صورت خانۂ خمیازہ تھاMirza Ghalib (1797–1869)