Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. غنچے نے تاج گل نے کیا پیرہن درستشادی بہار کی ہے ہوا ہے چمن درستNaseem Dehlvi (1794–1864)
  2. فصل گل آئی ہے کل اور ہی ساماں ہوں گےمیرے دامن میں ترے دست و گریباں ہوں گےNaseem Dehlvi (1794–1864)
  3. قربان ہو رہی ہے مری جاں ادھر ادھرواں رہ پہ ہے جو زلف پریشاں ادھر ادھرNaseem Dehlvi (1794–1864)
  4. کب اس زمیں پہ مجھے آرمیدہ ہونا تھاہوا سے خاک کو برسوں پریدہ ہونا تھاNaseem Dehlvi (1794–1864)
  5. کبھی ہوتا ہوں ظاہر جلوۂ حسن نکو ہو کرکبھی خاطر میں چھپ جاتا ہوں تیری آرزو ہو کرNaseem Dehlvi (1794–1864)
  6. کسی صورت تو دل کو شاد کرناہمیں دشمن سمجھ کر یاد کرناNaseem Dehlvi (1794–1864)
  7. کہتے ہیں سن کے تذکرے مجھ غم رسیدہ کےافسانے کون سنتا ہے حال شنیدہ کےNaseem Dehlvi (1794–1864)
  8. کھلی ہے آنکھ جوش انتظار یار جانی ہےبہ مشکل دیدۂ زنجیر خواب پاسبانی ہےNaseem Dehlvi (1794–1864)
  9. کیے سجدے ہوئے کافر نہ کچھ دل میں ذرا سمجھےہمیں بندہ بنایا اے بتو تم سے خدا سمجھےNaseem Dehlvi (1794–1864)
  10. گشت نہ کر ادھر ادھر بے خبری جہاں میں ہےاپنے ہی دل میں غور کر دیکھ مکیں مکاں میں ہےNaseem Dehlvi (1794–1864)
  11. لڑکپن میں یہ ضد ہے جانی تمہاریابھی دیکھنی ہے جوانی تمہاریNaseem Dehlvi (1794–1864)
  12. لو ضعف سے اب یہ حال تن ہےسایہ متجسس بدن ہےNaseem Dehlvi (1794–1864)
  13. ماتم بہت رہا مجھے اشک چکیدہ کاآخر کو پاس آ ہی گیا نور دیدہ کاNaseem Dehlvi (1794–1864)
  14. مرگ اغیار لب پہ لا نہ سکاوہ قسم ہوں جو یار کھا نہ سکاNaseem Dehlvi (1794–1864)
  15. ملنے کے نہیں نشاں ہمارےکیا پوچھتے ہو مکاں ہمارےNaseem Dehlvi (1794–1864)
  16. منظور ہے ناپنا کمر کاپیمانہ بنائیے نظر کاNaseem Dehlvi (1794–1864)
  17. ناصح مشفق یہ مشق تازہ فرمانے لگےدن تو تھا اب رات کو بھی آ کے سمجھانے لگےNaseem Dehlvi (1794–1864)
  18. نکل آیا وہ گھبرا کر دل اس کا اس قدر دھڑکاصدا بجلی کی دی نالے نے جب منہ سے مرے کڑکاNaseem Dehlvi (1794–1864)
  19. وصل کی رات ہے آخر کبھی عریاں ہوں گےمیں پشیماں ہوں تو کیا وہ نہ پشیماں ہوں گےNaseem Dehlvi (1794–1864)
  20. ہاتھوں میں آج کی شب مہندی لگایئے گاسمجھے یہ رنگ ہم بھی کچھ رنگ لائیے گاNaseem Dehlvi (1794–1864)
  21. ہوس یہ رہ گئی دل میں کہ مدعا نہ ملابہت جہان میں ڈھونڈھا پر آشنا نہ ملاNaseem Dehlvi (1794–1864)
  22. ہے کہے دیتے ہیں زحمت خوردہ ہےدل تو حاضر ہے مگر پژمردہ ہےNaseem Dehlvi (1794–1864)
  23. یہ وہ نالے ہیں جو لب تک آئیں گےتم تو کیا ہو آسماں ہل جائیں گےNaseem Dehlvi (1794–1864)
  24. اشک آنکھوں میں ڈر سے لا نہ سکےدل کی بھڑکی ہوئی بجھا نہ سکےNaseem Dehlvi (1794–1864)
  25. دل کسی مشتاق کا ٹھنڈا کیاخوب کیا آپ نے اچھا کیاNaseem Dehlvi (1794–1864)
  26. دل کے آتے ہی یہ نقشہ ہو گیاکیا بتاؤں دوستو کیا ہو گیاNaseem Dehlvi (1794–1864)
  27. شکوا ہے نہ غصہ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتاکیوں آپ کو دھڑکا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتاNaseem Dehlvi (1794–1864)
  28. گلی میں بخت کے ان کا بھی کچھ قصہ نکل آیاہوئی تھی صلح کس مشکل سے پھر جھگڑا نکل آیاNaseem Dehlvi (1794–1864)
  29. مری جان رنج گھٹائیے قدم آگے اب نہ بڑھائیےادھر آئیے ادھر آئیے ادھر آئیے ادھر آئیےNaseem Dehlvi (1794–1864)
  30. نئے ڈھب کا کچھ جوش سودا ہوا ہےخدا جانے اب کے مجھے کیا ہوا ہےNaseem Dehlvi (1794–1864)
  31. یارو قسم ہے تم کو کہیں جستجو کروقاتل مرے کو مجھ سے ذرا روبرو کروDaulat Aasiri (b. 1795)
  32. نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کاکاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کاMirza Ghalib (1797–1869)
  33. جراحت تحفہ الماس ارمغاں داغ جگر ہدیہمبارک باد اسدؔ غم خوار جان دردمند آیاMirza Ghalib (1797–1869)
  34. جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کارصحرا مگر بہ تنگی چشم حسود تھاMirza Ghalib (1797–1869)
  35. کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایادل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایاMirza Ghalib (1797–1869)
  36. دل مرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیاآتش خاموش کی مانند گویا جل گیاMirza Ghalib (1797–1869)
  37. شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلاقیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلاMirza Ghalib (1797–1869)
  38. دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا"عشقِ نبرد پیشہ" طلبگارِ مرد تھاMirza Ghalib (1797–1869)
  39. شمار سبحہ، “مرغوبِ بتِ مشکل” پسند آیاتماشائے بہ یک کف بُردنِ صد دل، پسند آیاMirza Ghalib (1797–1869)
  40. دہر میں نقشِ وفا وجہ تسلی نہ ہواہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہواMirza Ghalib (1797–1869)
  41. ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغ رضواں کاوہ اک گلدستہ ہے ہم بے خودوں کے طاق نسیاں کاMirza Ghalib (1797–1869)
  42. نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میراحباب موجۂ رفتار ہے نقش قدم میراMirza Ghalib (1797–1869)
  43. سراپا رہن عشق و نا گزیر الفت ہستیعبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کاMirza Ghalib (1797–1869)
  44. محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کایاں ورنہ جو حجاب ہے، پردہ ہے ساز کاMirza Ghalib (1797–1869)
  45. بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلارکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلاMirza Ghalib (1797–1869)
  46. شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھاشعلۂ جوّالہ ہر اِک حلقۂ گرداب تھاMirza Ghalib (1797–1869)
  47. نالۂ دل میں شب اندازِ اثر نایاب تھاتھا سپندِبزمِ وصلِ غیر ، گو بیتاب تھاMirza Ghalib (1797–1869)
  48. ایک ایک قطرہ کا مجھے دینا پڑا حسابخون جگر ودیعت مژگان یار تھاMirza Ghalib (1797–1869)
  49. بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہوناآدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہوناMirza Ghalib (1797–1869)
  50. شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھاتا محیطِ بادہ صورت خانۂ خمیازہ تھاMirza Ghalib (1797–1869)