Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیازخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیاMirza Ghalib (1797–1869)
  2. یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتاااگر اور جیتے رہتے ، یہی انتظار ہوتاMirza Ghalib (1797–1869)
  3. ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیانہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیاMirza Ghalib (1797–1869)
  4. درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہواپھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہواMirza Ghalib (1797–1869)
  5. اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گدائے بے سر و پا ہیںکہ ہے سر پنجۂ مژگانِ آہو پشت خار اپناMirza Ghalib (1797–1869)
  6. پئے نذر کرم تحفہ ہے شرم نا رسائی کابہ خوں غلتیدۂ صد رنگ دعویٰ پارسائی کاMirza Ghalib (1797–1869)
  7. گر نہ اندوہ شب فرقت بیاں ہو جائے گابے تکلف داغ مہ مہر دہاں ہو جائے گاMirza Ghalib (1797–1869)
  8. درد مِنّت کشِ دوا نہ ہوامیں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہواMirza Ghalib (1797–1869)
  9. گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگیِ جا کاگہر میں محو ہوا اضطراب دریا کاMirza Ghalib (1797–1869)
  10. قطرۂ مے بسکہ حیرت سے نفَس پرور ہواخطِّ جامِ مے سراسر رشتۂ گوہر ہواMirza Ghalib (1797–1869)
  11. جب بہ تقریب سفر یار نے محمل باندھاتپش شوق نے ہر ذرہ پہ اک دل باندھاMirza Ghalib (1797–1869)
  12. میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آؤںگر میں نے کی تھی توبہ، ساقی کو کیا ہوا تھا؟Mirza Ghalib (1797–1869)
  13. گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتابحر گر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتاMirza Ghalib (1797–1869)
  14. نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتاڈُبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتاMirza Ghalib (1797–1869)
  15. یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کایاں جادہ بھی فتیلہ ہے لالے کے داغ کاMirza Ghalib (1797–1869)
  16. وہ مری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھاراز مکتوب بہ بے ربطی عنواں سمجھاMirza Ghalib (1797–1869)
  17. پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیادل جگر تشنۂ فریاد آیاMirza Ghalib (1797–1869)
  18. ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھاآپ آتے تھے، مگر کوئی عناں گیر بھی تھاMirza Ghalib (1797–1869)
  19. لبِ خشک در تشنگی، مردگاں کازیارت کدہ ہوں دل آزردگاں کاMirza Ghalib (1797–1869)
  20. تو دوست کسی کا بھی، ستمگر! نہ ہوا تھااوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھاMirza Ghalib (1797–1869)
  21. شب کہ وہ مجلس فروز خلوت ناموس تھارشتۂ ہر شمع خار کسوت فانوس تھاMirza Ghalib (1797–1869)
  22. آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئےصاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھاMirza Ghalib (1797–1869)
  23. فنا کو عشق ہے بے مقصداں حیرت پرستاراںنہیں رفتارِ عمرِ تیز رو پابندِ مطلب ہاMirza Ghalib (1797–1869)
  24. عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہاجس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہاMirza Ghalib (1797–1869)
  25. رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیفعقل کہتی ہے کہ وہ بے مہر کس کا آشناMirza Ghalib (1797–1869)
  26. ذکر اس پری وش کا، اور پھر بیاں اپنابن گیا رقیب آخر۔ تھا جو رازداں اپناMirza Ghalib (1797–1869)
  27. خلوتِ آبلۂ پا میں ہے جولاں میراخوں ہے دل تنگیٔ وحشت سے بیاباں میراMirza Ghalib (1797–1869)
  28. غافل بہ وہم ناز خود آرا ہے ورنہ یاںبے شانۂ صبا نہیں طرہ گیاہ کاMirza Ghalib (1797–1869)
  29. جور سے باز آئے پر باز آئیں کیاکہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیاMirza Ghalib (1797–1869)
  30. لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتیچمن زنگار ہے آئینۂ باد بہاری کاMirza Ghalib (1797–1869)
  31. عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانادرد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جاناMirza Ghalib (1797–1869)
  32. رات دل گرمِ خیالِ جلوۂ جانانہ تھارنگِ روئے شمع برقِ خرمنِ پروانہ تھاMirza Ghalib (1797–1869)
  33. پھر وہ سوۓ چمن آتا ہے خدا خیر کرےرنگ اڑتا ہے گُلِستاں کے ہواداروں کاMirza Ghalib (1797–1869)
  34. بس کہ فعّالِ ما یرید ہے آجہر سلحشور انگلستاں کاMirza Ghalib (1797–1869)
  35. بہ رہنِ شرم ہے با وصفِ شوخی اہتمام اس کانگیں میں جوں شرارِ سنگ نا پیدا ہے نام اس کاMirza Ghalib (1797–1869)
  36. عیب کا دریافت کرنا، ہے ہنرمندی اسدنقص پر اپنے ہوا جو مطلعِ، کامل ہواMirza Ghalib (1797–1869)
  37. پھر ہوا وقت کہ ہو بال کُشا موجِ شرابدے بطِ مے کو دل و دستِ شنا موجِ شرابMirza Ghalib (1797–1869)
  38. جاتا ہوں جدھر سب کی اُٹھے ہے اُدھر انگشتیک دست جہاں مجھ سے پھرا ہے مگر انگشتMirza Ghalib (1797–1869)
  39. رہا گر کوئی تا قیامت سلامتپھر اک روز مرنا ہے حضرت سلامتMirza Ghalib (1797–1869)
  40. آمد خط سے ہوا ہے سرد جو بازار دوستدود شمع کشتہ تھا شاید خط رخسار دوستMirza Ghalib (1797–1869)
  41. مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالبیار لاۓ مری بالیں پہ اسے، پر کس وقتMirza Ghalib (1797–1869)
  42. گلشن میں بندوبست بہ رنگِ دگر ہے آجقمری کا طوق حلقۂ بیرونِ در ہے آجMirza Ghalib (1797–1869)
  43. لو ہم مریضِ عشق کے بیماردار ہیںاچھاّ اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج!!Mirza Ghalib (1797–1869)
  44. نفَس نہ انجمنِ آرزو سے باہر کھینچاگر شراب نہیں انتظارِ ساغر کھینچMirza Ghalib (1797–1869)
  45. حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعدبارے آرام سے ہیں اہل جفا میرے بعدMirza Ghalib (1797–1869)
  46. ہلاکِ بے خبری نغمۂ وجود و عدمجہان و اہلِ جہاں سے جہاں جہاں آبادMirza Ghalib (1797–1869)
  47. تجھ سے مقابلے کی کسے تاب ہے ولےمیرا لہو بھی خوب ہے تیری حنا کے بعدMirza Ghalib (1797–1869)
  48. بلا سے ہیں جو یہ پیشِ نظر در و دیوارنگاہِ شوق کو ہیں بال و پر در و دیوارMirza Ghalib (1797–1869)
  49. گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیرجانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر؟Mirza Ghalib (1797–1869)
  50. کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یار دیکھ کرجلتا ہوں اپنی طاقتِ دیدار دیکھ کرMirza Ghalib (1797–1869)