Poetry
Poet
Meter
- غلطیاں اپنی نہ ہوں پھر بھی منانے کا ہنراتنا آسان نہیں خود کو مٹانے کا ہنرChand Akbarabadi (b. 1975)
- کبھی گناہوں کی مطلق کفن اتار کے آتو اجلی روح سے میلا بدن اتار کے آChand Akbarabadi (b. 1975)
- نہ پوچھ ہم سے ہماری اڑان چھوڑ نہ یاربڑی طویل ہے یہ داستان چھوڑ نہ یارChand Akbarabadi (b. 1975)
- یہ تصور کا وار جھوٹا ہےخواب جھوٹے ہیں سار جھوٹا ہےChand Akbarabadi (b. 1975)
- بڑی جانی ہوئی آواز میں کس نے بلایا ہےکوئی گزرے ہوئے وقتوں سے شاید لوٹ آیا ہےPankaj Subeer (b. 1975)
- تمہارا غم نہ ہو تو زندگی اچھی نہیں لگتیخموشی سے بہے جو وہ ندی اچھی نہیں لگتیPankaj Subeer (b. 1975)
- تیرا قول و قرار باقی ہےاور مرا انتظار باقی ہےPankaj Subeer (b. 1975)
- چاند کی اپنی کہانی رات کا قصہ الگداستان عشق میں ہے تجربہ سب کا الگPankaj Subeer (b. 1975)
- چاند میں ہے کوئی پری شایداس لیے ہے یہ چاندنی شایدPankaj Subeer (b. 1975)
- سیاہی دھوپ میں ہے بات کیا ہےاگر یہ صبح ہے تو رات کیا ہےPankaj Subeer (b. 1975)
- اگر سمندر مجھے راستہ دیتاتو سفر کرتی اس قندیل کے ساتھSabeen Ali (b. 1975)
- کئی بار لکھنا اتنا درد کیوں دیتا ہےحرف کیوں جڑتے ہیںSabeen Ali (b. 1975)
- جنگوں خون آشامیوں کی گردچہروں پر اوڑھےSabeen Ali (b. 1975)
- دھول مٹی بارود کی مہکبے گور و کفن لاشوں کی بساند میںSabeen Ali (b. 1975)
- میں گروی رکھی گئی آنکھوں میںبسا خواب ہوںSabeen Ali (b. 1975)
- آپ کی مجھ پہ جب بھی نوازش ہوئیمجھ پہ سنگ ملامت کی بارش ہوئیZafar Ansari Zafar (b. 1976)
- اس سے میرا تو کوئی دور کا رشتہ بھی نہیںاور یہ بھی ہے کہ وہ شخص پرایا بھی نہیںZafar Ansari Zafar (b. 1976)
- ان کی نظروں میں نہ بن جائے تماشہ چہرہاس لیے ڈرتا ہوں دکھلانے سے اپنا چہرہZafar Ansari Zafar (b. 1976)
- ترے قریب رہوں یا کہ میں سفر میں رہوںیہ آرزو ہے ترے حلقۂ اثر میں رہوںZafar Ansari Zafar (b. 1976)
- جب بھی ماضی کے نظارے کو نظر جائے گیشام اشکوں کے ستاروں سے سنور جائے گیZafar Ansari Zafar (b. 1976)
- حالت بیمار غم پر جس کو حیرانی نہیںاصل میں اس آدمی میں خوئے انسانی نہیںZafar Ansari Zafar (b. 1976)
- سرہانے بے بسی روتی رہی ہےشب غم زندگی روتی رہی ہےZafar Ansari Zafar (b. 1976)
- غم اتنے اپنے دامن دل سے لپٹ گئےتجھ سے بچھڑ کے ہم کئی قسطوں میں بٹ گئےZafar Ansari Zafar (b. 1976)
- کبھی کسی کو جو دیکھا کسی کی بانہوں میںتجھی کو یاد کیا دل نے سرد آہوں میںZafar Ansari Zafar (b. 1976)
- مجھ کو تا عمر تڑپنے کی سزا ہی دیناتجھ کو منظور اگر ہو تو بھلا ہی دیناZafar Ansari Zafar (b. 1976)
- محبت پہ شاید زوال آ رہا ہےکہ اب زندگی کا سوال آ رہا ہےZafar Ansari Zafar (b. 1976)
- یہ جو تیری آنکھوں میں معنیٔ وفا سا ہےکاسۂ تمنا کے حرف مدعا سا ہےZafar Ansari Zafar (b. 1976)
- یہ دشت شوق کا لمبا سفر اچھا نہیں لگتامگر ٹھہروں کہاں کوئی شجر اچھا نہیں لگتاZafar Ansari Zafar (b. 1976)
- بکھرے جو خلاؤں میں یہ چاند ستارے ہیںکچھ خواب تمہارے ہیں کچھ خواب ہمارے ہیںKaleem Rahber (b. 1976)
- زمانے سے بچھڑتے جا رہے ہیںہم آپس میں جو لڑتے جا رہے ہیںKaleem Rahber (b. 1976)
- کسی صورت بھی باطل کی طرف داری نہیں کرنامنافق کی طرح ہرگز اداکاری نہیں کرناKaleem Rahber (b. 1976)
- ہر سمت خود نمائی کا منظر ہے آج کلرہزن بھی اپنے آپ میں رہبر ہے آج کلKaleem Rahber (b. 1976)
- ابد ہونے کا تجربہ کیا ہےاس نے سونے کا تجربہ کیا ہےNadeem Bhabha (b. 1977)
- ایک سخن کو بھول کر ایک کلام تھا ضرورمیرا تو ذکر ہی نہ تھا پر ترا نام تھا ضرورNadeem Bhabha (b. 1977)
- بس یہی کچھ ہے مرتبہ مرے پاسایک تو ہے اور اک دعا مرے پاسNadeem Bhabha (b. 1977)
- بہت شدت سے جو قائم ہوا تھاوہ رشتہ ہم میں شاید جھوٹ کا تھاNadeem Bhabha (b. 1977)
- تمام عمر جلے اور روشنی نہیں کییہ زندگی ہے تو پھر ہم نے زندگی نہیں کیNadeem Bhabha (b. 1977)
- جیسا ہوں جس حال میں ہوں اچھا ہوں میںتم نے زندہ سمجھا تو زندہ ہوں میںNadeem Bhabha (b. 1977)
- حالت حال میں آداب نہیں بھولتا میںخود کو بھولوں بھی تو احباب نہیں بھولتا میںNadeem Bhabha (b. 1977)
- دکھا رہا ہوں تماشہ سمجھ میں آ جائےکہ ایک بار اسے دنیا سمجھ میں آ جائےNadeem Bhabha (b. 1977)
- دل سے اک یاد بھلا دی گئی ہےکسی غفلت کی سزا دی گئی ہےNadeem Bhabha (b. 1977)
- دل مبتلائے ہجر رفاقت میں رہ گیالگتا ہے کوئی فرق محبت میں رہ گیاNadeem Bhabha (b. 1977)
- دیکھو اس کا ہجر نبھانا پڑتا ہےوہ جیسا چاہے ہو جانا پڑتا ہےNadeem Bhabha (b. 1977)
- رابطہ مجھ سے مرا جوڑ دیا کرتا تھاوہ جو اک شخص مجھے چھوڑ دیا کرتا تھاNadeem Bhabha (b. 1977)
- راہ میں چھوڑ کر نہیں جاتاساتھ ہوتا اگر نہیں جاتاNadeem Bhabha (b. 1977)
- روح حاضر ہے مرے یار کوئی مستی ہوحلقۂ رقص ہے تیار کوئی مستی ہوNadeem Bhabha (b. 1977)
- سفر کی دھول کو چہرے سے صاف کرتا رہامیں اس گلی کا مسلسل طواف کرتا رہاNadeem Bhabha (b. 1977)
- سہولت ہو اذیت ہو تمہارے ساتھ رہنا ہےکہ اب کوئی بھی صورت ہو تمہارے ساتھ رہنا ہےNadeem Bhabha (b. 1977)
- شدید گریہ کا مطلب بتا رہا تھا ہمیںوہ رو رہا تھا کہ رونا سکھا رہا تھا ہمیںNadeem Bhabha (b. 1977)
- عجیب ہوں کہ محبت شناس ہو کر بھیاداس لگتا نہیں ہوں اداس ہو کر بھیNadeem Bhabha (b. 1977)