Poetry
Poet
Meter
- جتنی فرصت ہے زندگی میں نصیباتنی فرصت میں میں سے تو ہو جاIftikhar Haidar (b. 1975)
- سانس تازہ ہوا کے چکر میںسارا گرد و غبار کھینچتی ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
- سو طرح کے وبال ہیں لیکنپھر بھی زندہ ہیں آن بان کے ساتھIftikhar Haidar (b. 1975)
- سیٹی کی آواز سنی اور سارا ماضی لوٹ آیاپس منظر میں ریل نہیں ہے پورا ایک افسانہ ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
- شام ہوتے ہی تیرے ہجر کا دکھدل میں خیمہ لگا کے بیٹھ گیاIftikhar Haidar (b. 1975)
- شہر میں تھی ناساز طبیعت بیٹے کیگاؤں میں بیٹھی ماں نے کھانا چھوڑ دیاIftikhar Haidar (b. 1975)
- عجیب درد سا اس لمحۂ وصال میں تھاکہ زخم سے بھی بڑا کرب اندمال میں تھاIftikhar Haidar (b. 1975)
- میر کے کچھ اشعار ملا کر راشد کی کچھ نظموں میںوحشت کی آمیزش کر کے اک اسلوب بنانا ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
- ہم زمانہ شناس تھے پھر بھیداستاں گو پہ اعتبار کیاIftikhar Haidar (b. 1975)
- انہیں خبر ہے انہیں مجھ سے کام کوئی نہیںسو ان غلاموں میں میرا غلام کوئی نہیںJabbar Wasif (b. 1975)
- تمام شہر تو بے مہر نیند سو رہا تھامگر میں آنکھوں میں نوک قلم چبھو رہا تھاJabbar Wasif (b. 1975)
- جبر نے جب مجھے رسوا سر بازار کیاصبر نے میرے مجھے صاحب دستار کیاJabbar Wasif (b. 1975)
- جو نباتات و جمادات پہ شک کرتے ہیںاے خدا تیرے کمالات پہ شک کرتے ہیںJabbar Wasif (b. 1975)
- در شامل ہو اور دیوار ملوث ہویعنی یار کی ہار میں یار ملوث ہوJabbar Wasif (b. 1975)
- دیار درد سے آیا ہوا نہیں لگتامیں اہل دل کو ستایا ہوا نہیں لگتاJabbar Wasif (b. 1975)
- سوچ لیجے کیوں عذاب آیا تھا قوم ہود پراور پھر کچھ غور کیجے لمحۂ موجود پرJabbar Wasif (b. 1975)
- صبح کے بارہ بجے رات کا مطلب سمجھےکوئی اے کاش مری بات کا مطلب سمجھےJabbar Wasif (b. 1975)
- عجیب خواب تھا ہم باغ میں کھڑے ہوئے تھےہمارے سامنے پھولوں کے سر پڑے ہوئے تھےJabbar Wasif (b. 1975)
- کبھی زمین کبھی آسماں سے لڑتا ہےعجیب شخص ہے سارے جہاں سے لڑتا ہےJabbar Wasif (b. 1975)
- کوئی ہیجان اس کو کہتا ہے کوئی وجدان اس کو کہتا ہےکوئی کہتا ہے شاعری ہے عبث کوئی امکان اس کو کہتا ہےJabbar Wasif (b. 1975)
- مجھے کوئی ایسی غزل سنا کہ میں رو پڑوںذرا جے جے ونتی کے سر لگا کہ میں رو پڑوںJabbar Wasif (b. 1975)
- مری غزل سے غزل کی محفل سجانے والا کوئی نہ ہو گایہ بات طے ہے کہ میری برسی منانے والا کوئی نہ ہو گاJabbar Wasif (b. 1975)
- میں جانتا ہوں اگر موت درمیان نہ ہوخدا کے نام کی کعبے میں بھی اذان نہ ہوJabbar Wasif (b. 1975)
- میں وقت کی آب جو سے آگے نکل گیا ہوںسو دہر کی ہا و ہو سے آگے نکل گیا ہوںJabbar Wasif (b. 1975)
- نہ یہ صحیفوں کا مسئلہ ہے نہ یہ عقیدوں کا مسئلہ ہےیہ مسئلہ ہے وہی جو کربل کے سب شہیدوں کا مسئلہ ہےJabbar Wasif (b. 1975)
- وہی مسافر مسافرت کا مجھے قرینہ سکھا رہا تھاجو اپنی چھاگل سے اپنے گھوڑے کو آپ پانی پلا رہا تھاJabbar Wasif (b. 1975)
- اجلی اجلی برف کے نیچے پتھر نیلا نیلا ہےتیری یادوں میں یہ سرد دسمبر نیلا نیلا ہےGautam Rajrishi (b. 1975)
- اس بات کو ویسے تو چھپایا نہ گیا ہےسب کو یہ مگر راز بتایا نہ گیا ہےGautam Rajrishi (b. 1975)
- بات رک رک کر بڑھی پھر ہچکیوں میں آ گئیفون پر جو ہو نہ پائی چٹھیوں میں آ گئیGautam Rajrishi (b. 1975)
- بس گئی ہے رگ رگ میں بام و در کی خاموشیچیرتی سی جاتی ہے مجھ کو گھر کی خاموشیGautam Rajrishi (b. 1975)
- خواب جو بھی بنا وہ بنا رہ گیاعمر بیتی مگر بچپنا رہ گیاGautam Rajrishi (b. 1975)
- دھوپ لٹا کر امبر جب کنگال ہواچاند اگا کر پھر سے مالا مال ہواGautam Rajrishi (b. 1975)
- دیکھ کر وحشت نگاہوں کی زباں بے چین ہےپھر سلگنے کو کوئی اک داستاں بے چین ہےGautam Rajrishi (b. 1975)
- زندگی سے عمر بھر تک چلنے کا وعدہ کیااے مری کمبخت سانسو ہائے تم نے کیا کیاGautam Rajrishi (b. 1975)
- ساحلوں پر اداسی رہیاک ندی پھر سے پیاسی رہیGautam Rajrishi (b. 1975)
- کہ اس سے پہلے خزاں کا شکار ہو جاؤںسجا لوں خود کو مکمل بہار ہو جاؤںGautam Rajrishi (b. 1975)
- لمحہ گزر گیا ہے کہ عرصہ گزر گیاہے کون وو جو وقت کی سازش یے کر گیاGautam Rajrishi (b. 1975)
- وہ ٹکڑا رات کا بکھرا ہوا ساابھی تک دن پے ہے ٹھہرا ہوا ساGautam Rajrishi (b. 1975)
- ہوا جب کسی کی کہانی کہے ہےنئے موسموں کی زبانی کہے ہےGautam Rajrishi (b. 1975)
- ہیں جتنی پرتیں یہاں آسمان میں شاملسبھی ہوئیں مری حد کی اڑان میں شاملGautam Rajrishi (b. 1975)
- عشق ہوا جب ان کو پڑھتے دیکھا تھامیرؔ کی غزلیں دریا گنج کے سرکل پرGautam Rajrishi (b. 1975)
- اک ہوا ایسی چلی بگلے بھی کالے ہو گئےچاند کو سردی لگی سورج کو چھالے ہو گئےChand Akbarabadi (b. 1975)
- بازار ترے شہر کے بدنام بہت ہیںچھوٹی سی خوشی کے بھی یہاں دام بہت ہیںChand Akbarabadi (b. 1975)
- برف میں خود کو بدل کر دیکھناپھر کسی سورج پہ چل کر دیکھناChand Akbarabadi (b. 1975)
- تو کاش ملے مجھ کو اکیلی تو بتاؤںسلجھے مری قسمت کی پہیلی تو بتاؤںChand Akbarabadi (b. 1975)
- جواب چیخ اٹھے ہیں سوال چیخ اٹھےکہیں پہ لفظ کہیں پر خیال چیخ اٹھےChand Akbarabadi (b. 1975)
- جو تھی علاقے میں سب سے حسین بیچ آئےہم اپنے پرکھوں کی ساری زمین بیچ آئےChand Akbarabadi (b. 1975)
- خستہ شکستہ جسم میں دھڑکن لئے ہوئےپھرتا ہوں اپنی روح کی کترن لئے ہوئےChand Akbarabadi (b. 1975)
- سراب صحرا میں پانی تلاش کرتا ہےوہ دلدلوں میں روانی تلاش کرتا ہےChand Akbarabadi (b. 1975)
- طبیب ہو کے بھی دل کی دوا نہیں کرتےہم اپنے زخموں سے کوئی دغا نہیں کرتےChand Akbarabadi (b. 1975)