سنو پیارے بچو یہ قصہ نیا

Aadil Aseer Dehlvi (1959–2014)

سنو پیارے بچو یہ قصہ نیا

مرے پیارے بھارت کے اک شہر کا

وہاں ریل آتی تھی اک دیر سے

یہی اس کا معمول تھا خیر سے

سبھی اس سے رہتے تھے حیراں بہت

مسافر تھے اس سے پریشاں بہت

سویرے کا ہو وقت یا شام کا

اسے دیر سے آنے سے کام تھا

مگر ایک دن یہ غضب کیا ہوا

نہ معلوم اس کا سبب کیا ہوا

اسے وقت پر اپنے پہنچا ہوا

ہر اک شخص حیرت سے دیکھا کیا

کسی نے قلی سے یہ پوچھا جناب

حقیقت ہے کوئی یا ہے کوئی خواب

کبھی وقت پر اس کو دیکھا نہیں

اسے دیکھ کر پھر کیوں آئے یقیں

کہا ہنس کے اس نے کہ اے مہرباں

خدارا نہ ہو اس سے یوں بد گماں

کبھی وقت پر اس کو آنا نہیں

ہمیشہ رکھو دل میں اس پر یقیں

نہ سمجھو اسے تم میاں جمبو جیٹ

یہ گاڑی تو چوبیس گھنٹے ہے لیٹ