Poetry
Poet
Meter
- دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہواس بات سے ہم کو کیا مطلب یہ کیسے ہو یہ کیوں کر ہوIbn-e-Insha (1927–1978)
- رات کے خواب سنائیں کس کو رات کے خواب سہانے تھےدھندلے دھندلے چہرے تھے پر سب جانے پہچانے تھےIbn-e-Insha (1927–1978)
- راز کہاں تک راز رہے گا منظر عام پہ آئے گاجی کا داغ اجاگر ہو کر سورج کو شرمائے گاIbn-e-Insha (1927–1978)
- سب کو دل کے داغ دکھائے ایک تجھی کو دکھا نہ سکےتیرا دامن دور نہیں تھا ہاتھ ہمیں پھیلا نہ سکےIbn-e-Insha (1927–1978)
- سنتے ہیں پھر چھپ چھپ ان کے گھر میں آتے جاتے ہوانشاؔ صاحب ناحق جی کو وحشت میں الجھاتے ہوIbn-e-Insha (1927–1978)
- شام غم کی سحر نہیں ہوتییا ہمیں کو خبر نہیں ہوتیIbn-e-Insha (1927–1978)
- کچھ کہنے کا وقت نہیں یہ کچھ نہ کہو خاموش رہواے لوگو خاموش رہو ہاں اے لوگو خاموش رہوIbn-e-Insha (1927–1978)
- کس کو پار اتارا تم نے کس کو پار اتارو گےملاحو تم پردیسی کو بیچ بھنور میں مارو گےIbn-e-Insha (1927–1978)
- کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تراکچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا تراIbn-e-Insha (1927–1978)
- ہم ان سے اگر مل بیٹھے ہیں کیا دوش ہمارا ہوتا ہےکچھ اپنی جسارت ہوتی ہے کچھ ان کا اشارا ہوتا ہےIbn-e-Insha (1927–1978)
- ہم جنگل کے جوگی ہم کو ایک جگہ آرام کہاںآج یہاں کل اور نگر میں صبح کہاں اور شام کہاںIbn-e-Insha (1927–1978)
- ہمیں تم پہ گمان وحشت تھا ہم لوگوں کو رسوا کیا تم نےابھی فصل گلوں کی نہیں گزری کیوں دامن چاک سیا تم نےIbn-e-Insha (1927–1978)
- اس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیوانااک نار پہ جان کو ہار گیا مشہور ہے اس کا افساناIbn-e-Insha (1927–1978)
- انشاؔ جی یہ کون آیا کس دیس کا باسی ہےہونٹوں پہ تبسم ہے آنکھوں میں اداسی ہےIbn-e-Insha (1927–1978)
- ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوںایک میلے میں پہنچا ہمکتا ہواIbn-e-Insha (1927–1978)
- اے متوالو ناقوں والو دیتے ہو کچھ اس کا پتانجد کے اندر مجنوں نامی ایک ہمارا بھائی تھاIbn-e-Insha (1927–1978)
- پھیلتا پھیلتا شام غم کا دھواںاک اداسی کا تنتا ہوا سائباںIbn-e-Insha (1927–1978)
- تجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیےوقت کی بے عنوان کہانی کب تک بے عنوان رہےIbn-e-Insha (1927–1978)
- تین ہماری بہنیں چھوٹیمل کر کھائیں آدھی روٹیIbn-e-Insha (1927–1978)
- چاند کب سے ہے سر شاخ صنوبر اٹکاگھاس شبنم میں شرابور ہے شب ہے آدھیIbn-e-Insha (1927–1978)
- چھوٹی سی بلوچھوٹا سا بستہIbn-e-Insha (1927–1978)
- دل پیت کی آگ میں جلتا ہے ہاں جلتا رہے اسے جلنے دواس آگ سے لوگو دور رہو ٹھنڈی نہ کرو پنکھا نہ جھلوIbn-e-Insha (1927–1978)
- دل درد کی شدت سے خوں گشتہ و سی پارہاس شہر میں پھرتا ہے اک وحشی و آوارہIbn-e-Insha (1927–1978)
- دنیا بھر سے دور یہ نگرینگری دنیا بھر سے نرالیIbn-e-Insha (1927–1978)
- دیکھ تو گوری کسے پکارےبستی بستی دوارے دوارےIbn-e-Insha (1927–1978)
- سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہےاس عشق میں ہم نے جو کھویا جو پایا ہےIbn-e-Insha (1927–1978)
- شہر دل کی گلیوں میںشام سے بھٹکتے ہیںIbn-e-Insha (1927–1978)
- فرض کرو ہم اہل وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوںفرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوںIbn-e-Insha (1927–1978)
- کچھ دے اسے رخصت کر کیوں آنکھ جھکا لی ہےہاں در پہ ترے مولا! انشاؔ بھی سوالی ہےIbn-e-Insha (1927–1978)
- کل ہم نے سپنا دیکھا ہےجو اپنا ہو نہیں سکتا ہےIbn-e-Insha (1927–1978)
- لب پر نام کسی کا بھی ہو، دل میں تیرا نقشا ہےاے تصویر بنانے والی جب سے تجھ کو دیکھا ہےIbn-e-Insha (1927–1978)
- لوگ پوچھیں گے کیوں اداس ہو تماور جو دل میں آئے سو کہیو!Ibn-e-Insha (1927–1978)
- منی تیرے دانت کہاں ہیںدانت تھے میں نے دودھ پلا کر سات برس میں پالےIbn-e-Insha (1927–1978)
- ہاں دیکھا کل ہم نے اس کو دیکھنے کا جسے ارماں تھاوہ جو اپنے شہر سے آگے قریۂ باغ و بہاراں تھاIbn-e-Insha (1927–1978)
- ہم بنجارے دل والے ہیںاور پینٹھ میں ڈیرے ڈالے ہیںIbn-e-Insha (1927–1978)
- ہم گھوم چکے بستی بن میںاک آس کی پھانس لیے من میںIbn-e-Insha (1927–1978)
- یوں کہنے کو راہیں ملک وفا کی اجال گیااک دھند ملی جس راہ میں پیک خیال گیاIbn-e-Insha (1927–1978)
- یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں یہ لوگوں نے پھیلائی ہیںتم انشاؔ جی کا نام نہ لو کیا انشاؔ جی سودائی ہیںIbn-e-Insha (1927–1978)
- یہ بچہ کیسا بچہ ہےیہ بچہ کالا کالا ساIbn-e-Insha (1927–1978)
- یہ سرائے ہے یہاں کس کا ٹھکانا ڈھونڈویاں تو آتے ہیں مسافر سو چلے جاتے ہیںIbn-e-Insha (1927–1978)
- پچھلے پہر کے سناٹے میںکس کی سسکی کس کا نالہIbn-e-Insha (1927–1978)
- آن کے اس بیمار کو دیکھے تجھ کو بھی توفیق ہوئیلب پر اس کے نام تھا تیرا جب بھی درد شدید ہواIbn-e-Insha (1927–1978)
- ایک سے ایک جنوں کا مارا اس بستی میں رہتا ہےایک ہمیں ہشیار تھے یارو ایک ہمیں بد نام ہوئےIbn-e-Insha (1927–1978)
- حق اچھا پر اس کے لیے کوئی اور مرے تو اور اچھاتم بھی کوئی منصور ہو جو سولی پہ چڑھو خاموش رہوIbn-e-Insha (1927–1978)
- سن تو لیا کسی نار کی خاطر کاٹا کوہ نکالی نہرایک ذرا سے قصے کو اب دیتے کیوں ہو طول میاںIbn-e-Insha (1927–1978)
- کب لوٹا ہے بہتا پانی بچھڑا ساجن روٹھا دوستہم نے اس کو اپنا جانا جب تک ہاتھ میں داماں تھاIbn-e-Insha (1927–1978)
- میرؔ سے بیعت کی ہے تو انشاؔ میر کی بیعت بھی ہے ضرورشام کو رو رو صبح کرو اب صبح کو رو رو شام کروIbn-e-Insha (1927–1978)
- وحشت دل کے خریدار بھی ناپید ہوئےکون اب عشق کے بازار میں کھولے گا دکاںIbn-e-Insha (1927–1978)
- یوں ہی تو نہیں دشت میں پہنچے یوں ہی تو نہیں جوگ لیابستی بستی کانٹے دیکھے جنگل جنگل پھول میاںIbn-e-Insha (1927–1978)
- آج ستارے آنگن میں ہیں ان کو رخصت مت کرناشام سے میں بھی الجھن میں ہوں تم بھی غفلت مت کرناQamar Jameel (1927–2000)