Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہواس بات سے ہم کو کیا مطلب یہ کیسے ہو یہ کیوں کر ہوIbn-e-Insha (1927–1978)
  2. رات کے خواب سنائیں کس کو رات کے خواب سہانے تھےدھندلے دھندلے چہرے تھے پر سب جانے پہچانے تھےIbn-e-Insha (1927–1978)
  3. راز کہاں تک راز رہے گا منظر عام پہ آئے گاجی کا داغ اجاگر ہو کر سورج کو شرمائے گاIbn-e-Insha (1927–1978)
  4. سب کو دل کے داغ دکھائے ایک تجھی کو دکھا نہ سکےتیرا دامن دور نہیں تھا ہاتھ ہمیں پھیلا نہ سکےIbn-e-Insha (1927–1978)
  5. سنتے ہیں پھر چھپ چھپ ان کے گھر میں آتے جاتے ہوانشاؔ صاحب ناحق جی کو وحشت میں الجھاتے ہوIbn-e-Insha (1927–1978)
  6. شام غم کی سحر نہیں ہوتییا ہمیں کو خبر نہیں ہوتیIbn-e-Insha (1927–1978)
  7. کچھ کہنے کا وقت نہیں یہ کچھ نہ کہو خاموش رہواے لوگو خاموش رہو ہاں اے لوگو خاموش رہوIbn-e-Insha (1927–1978)
  8. کس کو پار اتارا تم نے کس کو پار اتارو گےملاحو تم پردیسی کو بیچ بھنور میں مارو گےIbn-e-Insha (1927–1978)
  9. کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تراکچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا تراIbn-e-Insha (1927–1978)
  10. ہم ان سے اگر مل بیٹھے ہیں کیا دوش ہمارا ہوتا ہےکچھ اپنی جسارت ہوتی ہے کچھ ان کا اشارا ہوتا ہےIbn-e-Insha (1927–1978)
  11. ہم جنگل کے جوگی ہم کو ایک جگہ آرام کہاںآج یہاں کل اور نگر میں صبح کہاں اور شام کہاںIbn-e-Insha (1927–1978)
  12. ہمیں تم پہ گمان وحشت تھا ہم لوگوں کو رسوا کیا تم نےابھی فصل گلوں کی نہیں گزری کیوں دامن چاک سیا تم نےIbn-e-Insha (1927–1978)
  13. اس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیوانااک نار پہ جان کو ہار گیا مشہور ہے اس کا افساناIbn-e-Insha (1927–1978)
  14. انشاؔ جی یہ کون آیا کس دیس کا باسی ہےہونٹوں پہ تبسم ہے آنکھوں میں اداسی ہےIbn-e-Insha (1927–1978)
  15. ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوںایک میلے میں پہنچا ہمکتا ہواIbn-e-Insha (1927–1978)
  16. اے متوالو ناقوں والو دیتے ہو کچھ اس کا پتانجد کے اندر مجنوں نامی ایک ہمارا بھائی تھاIbn-e-Insha (1927–1978)
  17. پھیلتا پھیلتا شام غم کا دھواںاک اداسی کا تنتا ہوا سائباںIbn-e-Insha (1927–1978)
  18. تجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیےوقت کی بے عنوان کہانی کب تک بے عنوان رہےIbn-e-Insha (1927–1978)
  19. تین ہماری بہنیں چھوٹیمل کر کھائیں آدھی روٹیIbn-e-Insha (1927–1978)
  20. چاند کب سے ہے سر شاخ صنوبر اٹکاگھاس شبنم میں شرابور ہے شب ہے آدھیIbn-e-Insha (1927–1978)
  21. چھوٹی سی بلوچھوٹا سا بستہIbn-e-Insha (1927–1978)
  22. دل پیت کی آگ میں جلتا ہے ہاں جلتا رہے اسے جلنے دواس آگ سے لوگو دور رہو ٹھنڈی نہ کرو پنکھا نہ جھلوIbn-e-Insha (1927–1978)
  23. دل درد کی شدت سے خوں گشتہ و سی پارہاس شہر میں پھرتا ہے اک وحشی و آوارہIbn-e-Insha (1927–1978)
  24. دنیا بھر سے دور یہ نگرینگری دنیا بھر سے نرالیIbn-e-Insha (1927–1978)
  25. دیکھ تو گوری کسے پکارےبستی بستی دوارے دوارےIbn-e-Insha (1927–1978)
  26. سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہےاس عشق میں ہم نے جو کھویا جو پایا ہےIbn-e-Insha (1927–1978)
  27. شہر دل کی گلیوں میںشام سے بھٹکتے ہیںIbn-e-Insha (1927–1978)
  28. فرض کرو ہم اہل وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوںفرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوںIbn-e-Insha (1927–1978)
  29. کچھ دے اسے رخصت کر کیوں آنکھ جھکا لی ہےہاں در پہ ترے مولا! انشاؔ بھی سوالی ہےIbn-e-Insha (1927–1978)
  30. کل ہم نے سپنا دیکھا ہےجو اپنا ہو نہیں سکتا ہےIbn-e-Insha (1927–1978)
  31. لب پر نام کسی کا بھی ہو، دل میں تیرا نقشا ہےاے تصویر بنانے والی جب سے تجھ کو دیکھا ہےIbn-e-Insha (1927–1978)
  32. لوگ پوچھیں گے کیوں اداس ہو تماور جو دل میں آئے سو کہیو!Ibn-e-Insha (1927–1978)
  33. منی تیرے دانت کہاں ہیںدانت تھے میں نے دودھ پلا کر سات برس میں پالےIbn-e-Insha (1927–1978)
  34. ہاں دیکھا کل ہم نے اس کو دیکھنے کا جسے ارماں تھاوہ جو اپنے شہر سے آگے قریۂ باغ و بہاراں تھاIbn-e-Insha (1927–1978)
  35. ہم بنجارے دل والے ہیںاور پینٹھ میں ڈیرے ڈالے ہیںIbn-e-Insha (1927–1978)
  36. ہم گھوم چکے بستی بن میںاک آس کی پھانس لیے من میںIbn-e-Insha (1927–1978)
  37. یوں کہنے کو راہیں ملک وفا کی اجال گیااک دھند ملی جس راہ میں پیک خیال گیاIbn-e-Insha (1927–1978)
  38. یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں یہ لوگوں نے پھیلائی ہیںتم انشاؔ جی کا نام نہ لو کیا انشاؔ جی سودائی ہیںIbn-e-Insha (1927–1978)
  39. یہ بچہ کیسا بچہ ہےیہ بچہ کالا کالا ساIbn-e-Insha (1927–1978)
  40. یہ سرائے ہے یہاں کس کا ٹھکانا ڈھونڈویاں تو آتے ہیں مسافر سو چلے جاتے ہیںIbn-e-Insha (1927–1978)
  41. پچھلے پہر کے سناٹے میںکس کی سسکی کس کا نالہIbn-e-Insha (1927–1978)
  42. آن کے اس بیمار کو دیکھے تجھ کو بھی توفیق ہوئیلب پر اس کے نام تھا تیرا جب بھی درد شدید ہواIbn-e-Insha (1927–1978)
  43. ایک سے ایک جنوں کا مارا اس بستی میں رہتا ہےایک ہمیں ہشیار تھے یارو ایک ہمیں بد نام ہوئےIbn-e-Insha (1927–1978)
  44. حق اچھا پر اس کے لیے کوئی اور مرے تو اور اچھاتم بھی کوئی منصور ہو جو سولی پہ چڑھو خاموش رہوIbn-e-Insha (1927–1978)
  45. سن تو لیا کسی نار کی خاطر کاٹا کوہ نکالی نہرایک ذرا سے قصے کو اب دیتے کیوں ہو طول میاںIbn-e-Insha (1927–1978)
  46. کب لوٹا ہے بہتا پانی بچھڑا ساجن روٹھا دوستہم نے اس کو اپنا جانا جب تک ہاتھ میں داماں تھاIbn-e-Insha (1927–1978)
  47. میرؔ سے بیعت کی ہے تو انشاؔ میر کی بیعت بھی ہے ضرورشام کو رو رو صبح کرو اب صبح کو رو رو شام کروIbn-e-Insha (1927–1978)
  48. وحشت دل کے خریدار بھی ناپید ہوئےکون اب عشق کے بازار میں کھولے گا دکاںIbn-e-Insha (1927–1978)
  49. یوں ہی تو نہیں دشت میں پہنچے یوں ہی تو نہیں جوگ لیابستی بستی کانٹے دیکھے جنگل جنگل پھول میاںIbn-e-Insha (1927–1978)
  50. آج ستارے آنگن میں ہیں ان کو رخصت مت کرناشام سے میں بھی الجھن میں ہوں تم بھی غفلت مت کرناQamar Jameel (1927–2000)