کاندھوں پہ زندگی کی صلیبیں لئے ہوئے

D. Raj Kanwal (b. 1923)

کاندھوں پہ زندگی کی صلیبیں لئے ہوئے

غم پھر رہے ہیں میرا پتہ پوچھتے ہوئے

رہبر بھی راہزن بھی ہیں لوگوں کی بھیڑ میں

آؤ چلیں ادھر سے ادھر دیکھتے ہوئے

ہو آئے جب غرور کبھی خود پہ آپ کو

سورج کو دیکھ لینا کہیں ڈوبتے ہوئے

پہلی سی انجمن میں رہی بات اب کہاں

جی ڈر رہا ہے اب تو یہاں بولتے ہوئے

افسوس کاٹ دی ہے یوںہی زندگی تمام

دنیا سے جا رہے ہیں یہی سوچتے ہوئے

آخر یہیں ملے گا تمہیں دل کے آس پاس

صدیوں سے پھر رہے ہو جسے ڈھونڈتے ہوئے

لو وہ بھی کہہ رہے ہیں کنولؔ بے وفا مجھے

گزری ہے ایک عمر جنہیں پوجتے ہوئے