سامنے ان کو پایا تو ہم کھو گئے آج پھر حسرت گفتگو رہ گئی

Saba Afghani (1922–1976)

سامنے ان کو پایا تو ہم کھو گئے آج پھر حسرت گفتگو رہ گئی

ان سے کہنا تھا روداد شام الم دل کی دل ہی میں یہ آرزو رہ گئی

اشک پینے سے مانا کہ دل جل گیا ضبط غم کی مگر آبرو رہ گئی

تیرے نقش قدم بھی ملے جا بجا تیری محفل ترا آستاں بھی ملا

ہاں مگر تو کسی کو نہیں مل سکا ہو کے ناکام ہر جستجو رہ گئی

دل میں داغوں کا جب سے ہے اک گلستاں چھن گئی ہیں بہاروں سے رنگینیاں

اب گلوں میں وہ پہلی سی نکہت کہاں عارضی رونق رنگ و بو رہ گئی

بے کسی کے اندھیرے میں اے شام غم ایک ہم رہ گئے ایک تو رہ گئی

اللہ اللہ ترے حسن کی اک جھلک روشنی ہو گئی از زمیں تا فلک

ایک بجلی سی لہرائی کچھ دور تک پھر ٹھہر کر مرے روبرو رہ گئی

میری آنکھوں میں اس روز سے اے صباؔ کھنچ کے تصویر جام و سبو رہ گئی