Poetry
Poet
Meter
- اس طرح محبت میں دل پہ حکمرانی ہےدل نہیں مرا گویا ان کی راجدھانی ہےKaif Bhopali (1917–1991)
- اللہ ی کس کا ماتم ہے وہ زلف جو بکھری جاتی ہےآنکھیں ہے کہ بھیگی جاتی ہیں دنیا ہے کہ ڈوبی جاتی ہےKaif Bhopali (1917–1991)
- بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہےمیرے کسی پہلو میں قضا ہے کہ نہیں ہےKaif Bhopali (1917–1991)
- تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلےترا حسن کچھ نہیں تھا مری شاعری سے پہلےKaif Bhopali (1917–1991)
- تم سے نہ مل کے خوش ہیں وہ دعویٰ کدھر گیادو روز میں گلاب سا چہرہ اتر گیاKaif Bhopali (1917–1991)
- تھوڑا سا عکس چاند کے پیکر میں ڈال دےتو آ کے جان رات کے منظر میں ڈال دےKaif Bhopali (1917–1991)
- تیرا چہرہ صبح کا تارا لگتا ہےصبح کا تارا کتنا پیارا لگتا ہےKaif Bhopali (1917–1991)
- تیرا چہرہ کتنا سہانا لگتا ہےتیرے آگے چاند پرانا لگتا ہےKaif Bhopali (1917–1991)
- جب ہمیں مسجد جانا پڑا ہےراہ میں اک مے خانہ پڑا ہےKaif Bhopali (1917–1991)
- جسم پر باقی یہ سر ہے کیا کروںدست قاتل بے ہنر ہے کیا کروںKaif Bhopali (1917–1991)
- جھوم کے جب رندوں نے پلا دیشیخ نے چپکے چپکے دعا دیKaif Bhopali (1917–1991)
- خانقاہ میں صوفی منہ چھپائے بیٹھا ہےغالباً زمانے سے مات کھائے بیٹھا ہےKaif Bhopali (1917–1991)
- داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملےہم کو تحفے یہ تمہیں دوست بنانے سے ملےKaif Bhopali (1917–1991)
- در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئیپھر یہ بارش میری تنہائی چرانے آئیKaif Bhopali (1917–1991)
- دوستو اب تم نہ دیکھو گے یہ دنختم ہیں ہم پر ستم آرائیاںKaif Bhopali (1917–1991)
- سلام اس پر اگر ایسا کوئی فن کار ہو جائےسیاہی خون بن جائے قلم تلوار ہو جائےKaif Bhopali (1917–1991)
- کام یہی ہے شام سویرےتیری گلی کے سو سو پھیرےKaif Bhopali (1917–1991)
- کٹیا میں کون آئے گا اس تیرگی کے ساتھاب یہ کواڑ بند کرو خامشی کے ساتھKaif Bhopali (1917–1991)
- کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگامیرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگاKaif Bhopali (1917–1991)
- گردش ارض و سماوات نے جینے نہ دیاکٹ گیا دن تو ہمیں رات نے جینے نہ دیاKaif Bhopali (1917–1991)
- نہ آیا مزہ شب کی تنہائیوں میںسحر ہو گئی چند انگڑائیوں میںKaif Bhopali (1917–1991)
- ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاںتہمتیں بد نامیاں رسوائیاںKaif Bhopali (1917–1991)
- ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعوے داروں سےشفق سے چاندنی راتوں سے پھولوں سے ستاروں سےKaif Bhopali (1917–1991)
- ہم کو دوانہ جان کے کیا کیا ظلم نہ ڈھایا لوگوں نےدین چھڑایا دھرم چھڑایا دیس چھڑایا لوگوں نےKaif Bhopali (1917–1991)
- یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیںہمارے عہد میں مکاریاں نہیں چلتیںKaif Bhopali (1917–1991)
- اس نے یہ کہہ کر پھیر دیا خطخون سے کیوں تحریر نہیں ہےKaif Bhopali (1917–1991)
- چار جانب دیکھ کر سچ بولئےآدمی پھرتے ہیں سرکاری بہتKaif Bhopali (1917–1991)
- میرے دل نے دیکھا ہے یوں بھی ان کو الجھن میںبار بار کمرے میں بار بار آنگن میںKaif Bhopali (1917–1991)
- مے کشو آگے بڑھو تشنہ لبو آگے بڑھواپنا حق مانگا نہیں جاتا ہے چھینا جائے ہےKaif Bhopali (1917–1991)
- وہ دن بھی ہائے کیا دن تھے جب اپنا بھی تعلق تھادشہرے سے دوالی سے بسنتوں سے بہاروں سےKaif Bhopali (1917–1991)
- پڑی جب کسی کی نگاہ محبتملی اہل الفت کو راہ محبتVafa Barahi (1917–1993)
- پہلے تو جانچتا ہوں تمہاری نظر کو میںپھر دیکھتا ہوں غور سے اپنے جگر کو میںVafa Barahi (1917–1993)
- تاب نظر کی قید ہے سخت حریم ذات میںدیکھوں کسی کو ہر گھڑی بزم تصورات میںVafa Barahi (1917–1993)
- حقیقت سے جو آشنا ہو گیاقیود ہوس سے رہا ہو گیاVafa Barahi (1917–1993)
- دل بیتاب کا آنا ستم ہےتڑپ کر پھر مچل جانا ستم ہےVafa Barahi (1917–1993)
- راہ الفت کی آن باقی ہےکچھ مٹی کچھ تکان باقی ہےVafa Barahi (1917–1993)
- رخ آرزو پر حجاب محبتکھلا اور اس سے شباب محبتVafa Barahi (1917–1993)
- سنو تم غور سے تھوڑی سی ہے یہ داستاں میرینہیں چلتی بیان شوق پر ہرگز زباں میریVafa Barahi (1917–1993)
- مرنے کی آرزو میں مجھے پیچ و تاب ہےاب زندگی بھی باعث صد اضطراب ہےVafa Barahi (1917–1993)
- نظر کو وقف جمال کر کے نہ ذکر کر لطف زندگی کاحصول مقصد جہاں میں مشکل یہاں ہوا کون کب کسی کاVafa Barahi (1917–1993)
- نگاہ شرمگیں سحر آفریں معلوم ہوتی ہےیہ دشمن ہے مگر دشمن نہیں معلوم ہوتی ہےVafa Barahi (1917–1993)
- وہی حادثوں کے قصے وہی موت کی کہانیابھی دسترس سے باہر ہے شعور زندگانیVafa Barahi (1917–1993)
- ہنس کے پردہ جو اٹھاتا تو گلستاں ہوتااور ہی رنگ جہاں تجھ سے نمایاں ہوتاVafa Barahi (1917–1993)
- یہ شب فرقت میں رنگ گردش ایام تھاصبح کا تارا جسے سمجھا چراغ شام تھاVafa Barahi (1917–1993)
- اک جا رہی ہے مالن پھولوں کا ہار لے کرگلشن کا حسن لے کر دل کا قرار لے کرVafa Barahi (1917–1993)
- اک کہارن جا رہی تھی ہاتھ میں گاگر لئےزیر لب کچھ گنگناتی کچھ نظر نیچی کیےVafa Barahi (1917–1993)
- بہار در بہار ہےچمن میں یہ پکار ہےVafa Barahi (1917–1993)
- جوانی کا جوہر دکھانا پڑے گاتمہیں تیر کی زد پر آنا پڑے گاVafa Barahi (1917–1993)
- شب وصل کیوں ہیں رلانے کی باتیںکرو کچھ تو ہنسنے ہنسانے کی باتیںVafa Barahi (1917–1993)
- قسم کھاتا ہوں میں ہندوستاں کی شان و شوکت کیقسم کھاتا ہوں ہمت کی دلیری کی شجاعت کیVafa Barahi (1917–1993)