Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. اس طرح محبت میں دل پہ حکمرانی ہےدل نہیں مرا گویا ان کی راجدھانی ہےKaif Bhopali (1917–1991)
  2. اللہ ی کس کا ماتم ہے وہ زلف جو بکھری جاتی ہےآنکھیں ہے کہ بھیگی جاتی ہیں دنیا ہے کہ ڈوبی جاتی ہےKaif Bhopali (1917–1991)
  3. بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہےمیرے کسی پہلو میں قضا ہے کہ نہیں ہےKaif Bhopali (1917–1991)
  4. تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلےترا حسن کچھ نہیں تھا مری شاعری سے پہلےKaif Bhopali (1917–1991)
  5. تم سے نہ مل کے خوش ہیں وہ دعویٰ کدھر گیادو روز میں گلاب سا چہرہ اتر گیاKaif Bhopali (1917–1991)
  6. تھوڑا سا عکس چاند کے پیکر میں ڈال دےتو آ کے جان رات کے منظر میں ڈال دےKaif Bhopali (1917–1991)
  7. تیرا چہرہ صبح کا تارا لگتا ہےصبح کا تارا کتنا پیارا لگتا ہےKaif Bhopali (1917–1991)
  8. تیرا چہرہ کتنا سہانا لگتا ہےتیرے آگے چاند پرانا لگتا ہےKaif Bhopali (1917–1991)
  9. جب ہمیں مسجد جانا پڑا ہےراہ میں اک مے خانہ پڑا ہےKaif Bhopali (1917–1991)
  10. جسم پر باقی یہ سر ہے کیا کروںدست قاتل بے ہنر ہے کیا کروںKaif Bhopali (1917–1991)
  11. جھوم کے جب رندوں نے پلا دیشیخ نے چپکے چپکے دعا دیKaif Bhopali (1917–1991)
  12. خانقاہ میں صوفی منہ چھپائے بیٹھا ہےغالباً زمانے سے مات کھائے بیٹھا ہےKaif Bhopali (1917–1991)
  13. داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملےہم کو تحفے یہ تمہیں دوست بنانے سے ملےKaif Bhopali (1917–1991)
  14. در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئیپھر یہ بارش میری تنہائی چرانے آئیKaif Bhopali (1917–1991)
  15. دوستو اب تم نہ دیکھو گے یہ دنختم ہیں ہم پر ستم آرائیاںKaif Bhopali (1917–1991)
  16. سلام اس پر اگر ایسا کوئی فن کار ہو جائےسیاہی خون بن جائے قلم تلوار ہو جائےKaif Bhopali (1917–1991)
  17. کام یہی ہے شام سویرےتیری گلی کے سو سو پھیرےKaif Bhopali (1917–1991)
  18. کٹیا میں کون آئے گا اس تیرگی کے ساتھاب یہ کواڑ بند کرو خامشی کے ساتھKaif Bhopali (1917–1991)
  19. کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگامیرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگاKaif Bhopali (1917–1991)
  20. گردش ارض و سماوات نے جینے نہ دیاکٹ گیا دن تو ہمیں رات نے جینے نہ دیاKaif Bhopali (1917–1991)
  21. نہ آیا مزہ شب کی تنہائیوں میںسحر ہو گئی چند انگڑائیوں میںKaif Bhopali (1917–1991)
  22. ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاںتہمتیں بد نامیاں رسوائیاںKaif Bhopali (1917–1991)
  23. ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعوے داروں سےشفق سے چاندنی راتوں سے پھولوں سے ستاروں سےKaif Bhopali (1917–1991)
  24. ہم کو دوانہ جان کے کیا کیا ظلم نہ ڈھایا لوگوں نےدین چھڑایا دھرم چھڑایا دیس چھڑایا لوگوں نےKaif Bhopali (1917–1991)
  25. یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیںہمارے عہد میں مکاریاں نہیں چلتیںKaif Bhopali (1917–1991)
  26. اس نے یہ کہہ کر پھیر دیا خطخون سے کیوں تحریر نہیں ہےKaif Bhopali (1917–1991)
  27. چار جانب دیکھ کر سچ بولئےآدمی پھرتے ہیں سرکاری بہتKaif Bhopali (1917–1991)
  28. میرے دل نے دیکھا ہے یوں بھی ان کو الجھن میںبار بار کمرے میں بار بار آنگن میںKaif Bhopali (1917–1991)
  29. مے کشو آگے بڑھو تشنہ لبو آگے بڑھواپنا حق مانگا نہیں جاتا ہے چھینا جائے ہےKaif Bhopali (1917–1991)
  30. وہ دن بھی ہائے کیا دن تھے جب اپنا بھی تعلق تھادشہرے سے دوالی سے بسنتوں سے بہاروں سےKaif Bhopali (1917–1991)
  31. پڑی جب کسی کی نگاہ محبتملی اہل الفت کو راہ محبتVafa Barahi (1917–1993)
  32. پہلے تو جانچتا ہوں تمہاری نظر کو میںپھر دیکھتا ہوں غور سے اپنے جگر کو میںVafa Barahi (1917–1993)
  33. تاب نظر کی قید ہے سخت حریم ذات میںدیکھوں کسی کو ہر گھڑی بزم تصورات میںVafa Barahi (1917–1993)
  34. حقیقت سے جو آشنا ہو گیاقیود ہوس سے رہا ہو گیاVafa Barahi (1917–1993)
  35. دل بیتاب کا آنا ستم ہےتڑپ کر پھر مچل جانا ستم ہےVafa Barahi (1917–1993)
  36. راہ الفت کی آن باقی ہےکچھ مٹی کچھ تکان باقی ہےVafa Barahi (1917–1993)
  37. رخ آرزو پر حجاب محبتکھلا اور اس سے شباب محبتVafa Barahi (1917–1993)
  38. سنو تم غور سے تھوڑی سی ہے یہ داستاں میرینہیں چلتی بیان شوق پر ہرگز زباں میریVafa Barahi (1917–1993)
  39. مرنے کی آرزو میں مجھے پیچ و تاب ہےاب زندگی بھی باعث صد اضطراب ہےVafa Barahi (1917–1993)
  40. نظر کو وقف جمال کر کے نہ ذکر کر لطف زندگی کاحصول مقصد جہاں میں مشکل یہاں ہوا کون کب کسی کاVafa Barahi (1917–1993)
  41. نگاہ شرمگیں سحر آفریں معلوم ہوتی ہےیہ دشمن ہے مگر دشمن نہیں معلوم ہوتی ہےVafa Barahi (1917–1993)
  42. وہی حادثوں کے قصے وہی موت کی کہانیابھی دسترس سے باہر ہے شعور زندگانیVafa Barahi (1917–1993)
  43. ہنس کے پردہ جو اٹھاتا تو گلستاں ہوتااور ہی رنگ جہاں تجھ سے نمایاں ہوتاVafa Barahi (1917–1993)
  44. یہ شب فرقت میں رنگ گردش ایام تھاصبح کا تارا جسے سمجھا چراغ شام تھاVafa Barahi (1917–1993)
  45. اک جا رہی ہے مالن پھولوں کا ہار لے کرگلشن کا حسن لے کر دل کا قرار لے کرVafa Barahi (1917–1993)
  46. اک کہارن جا رہی تھی ہاتھ میں گاگر لئےزیر لب کچھ گنگناتی کچھ نظر نیچی کیےVafa Barahi (1917–1993)
  47. بہار در بہار ہےچمن میں یہ پکار ہےVafa Barahi (1917–1993)
  48. جوانی کا جوہر دکھانا پڑے گاتمہیں تیر کی زد پر آنا پڑے گاVafa Barahi (1917–1993)
  49. شب وصل کیوں ہیں رلانے کی باتیںکرو کچھ تو ہنسنے ہنسانے کی باتیںVafa Barahi (1917–1993)
  50. قسم کھاتا ہوں میں ہندوستاں کی شان و شوکت کیقسم کھاتا ہوں ہمت کی دلیری کی شجاعت کیVafa Barahi (1917–1993)