Poetry
Poet
Meter
- کچھ خبر اے ہند والو ہے کہ تم ہو بے خبرکر رہا ہے ظلم ظالم قوم کے ہر فرد پرVafa Barahi (1917–1993)
- کہو یہ مغنی سے گائے چلا جانوائے مسرت سنائے چلا جاVafa Barahi (1917–1993)
- لگی آگ دل کی بجھائیں گے کیوں کرطبیعت کو رستے پہ لائیں گے کیوں کرVafa Barahi (1917–1993)
- پلا اے گروہ سخنوراں کوئی شعر تر گل تازہ رسیہ بہار میں بھی خموشیاں نہ سر جنوں نہ پئے ہوسJafar Tahir (1917–1977)
- پھر وہی قتل محبت زدگاں ہے کہ جو تھارسن و دار کا عالم میں سماں ہے کہ جو تھاJafar Tahir (1917–1977)
- تشنہ لبوں کی نذر کو سوغات چاہئےتیرے نثار تھوڑی سی برسات چاہئےJafar Tahir (1917–1977)
- چھیڑ کر تذکرۂ دور جوانی رویارات یاروں کو سنا کر میں کہانی رویاJafar Tahir (1917–1977)
- دونوں ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے بھاری پتھرمارنے آئے ہیں عیسیٰ کو حواری پتھرJafar Tahir (1917–1977)
- عرصۂ ظلمت حیات کٹےہم نفس مسکرا کہ رات کٹےJafar Tahir (1917–1977)
- غم دوراں غم جاناں غم جاں ہے کہ نہیںدل ستاں سلسلۂ غم زدگاں ہے کہ نہیںJafar Tahir (1917–1977)
- کوئے حرم سے نکلی ہے کوئے بتاں کی راہہائے کہاں پہ آ کے ملی ہے کہاں کی راہJafar Tahir (1917–1977)
- کہنے کو تو کیا کیا نہ دل زار میں آئےہر بات کہاں قالب اظہار میں آئےJafar Tahir (1917–1977)
- نشے میں چشم ناز جو ہنستی نظر پڑیتصویر ہوشیاری و مستی نظر پڑیJafar Tahir (1917–1977)
- ہر شے جہاں کی گرد و غبار خیال ہےآشوب گاہ دہر میں جینا محال ہےJafar Tahir (1917–1977)
- یہ اور بات کہ یہ سحر بیش و کم پہ چلاسیاہ رات کا جادو مگر نہ ہم پہ چلاJafar Tahir (1917–1977)
- یہ تمنا تھی کہ ہم اتنے سخنور ہوتےاک غزل کہتے تو آباد کئی گھر ہوتےJafar Tahir (1917–1977)
- یہ تو نہیں کہ ہم پہ ستم ہی کبھی نہ تھےاتنا ضرور تھا کہ وہ نا گفتنی نہ تھےJafar Tahir (1917–1977)
- طاہرؔ خدا کی راہ میں دشواریاں سہیعشق بتاں میں کون سی آسانیاں رہیںJafar Tahir (1917–1977)
- آواز دے رہی ہے یے کس کی نظر مجھےشاید ملے کنارہ وہیں ڈوب کر مجھےQamar Jalalabadi (1917–2003)
- اک حسین لا جواب دیکھا ہےرات کو آفتاب دیکھا ہےQamar Jalalabadi (1917–2003)
- با خبر تھا اک نظر میں دو جہاں لے جائے گامیری جاں بن کر وہ اک دن میری جاں لے جائے گاQamar Jalalabadi (1917–2003)
- تیرے خوابوں میں محبت کی دہائی دوں گاجب کوئی اور نہ ہوگا تو دکھائی دوں گاQamar Jalalabadi (1917–2003)
- چھوٹی سی بے رخی پہ شکایت کی بات ہےاور وہ بھی اس لئے کہ محبت کی بات ہےQamar Jalalabadi (1917–2003)
- محبت زندہ رہتی ہے محبت مر نہیں سکتیاجی انسان کیا یہ تو خدا سے ڈر نہیں سکتیQamar Jalalabadi (1917–2003)
- وہ ستم گر ہے خیالات سمجھنے والامجھ سے پہلے مرے جذبات سمجھنے والاQamar Jalalabadi (1917–2003)
- ہاں ان کے دلوں سے یہ پوچھو ارمانوں پہ کیا گزری ہےاوروں کو پلاتے رہتے ہیں اور خود پیاسے رہ جاتے ہیںQamar Jalalabadi (1917–2003)
- یا رب ترے کرم سے یہ سودا کریں گے ہمدنیا میں پی کے خلد میں توبہ کریں گے ہمQamar Jalalabadi (1917–2003)
- راہ میں ان سے ملاقات ہو گئیجس سے ڈرتے تھے وہی بات ہو گئیQamar Jalalabadi (1917–2003)
- کچھ تو ہے بات جو آتی ہے قضا رک رک کےزندگی قرض ہے قسطوں میں ادا ہوتی ہےQamar Jalalabadi (1917–2003)
- مرے خدا مجھے تھوڑی سی زندگی دے دےاداس میرے جنازے سے جا رہا ہے کوئیQamar Jalalabadi (1917–2003)
- اب میں ہوں آپ ایک تماشا بنا ہواگزرا یہ کون میری طرف دیکھتا ہواJagan Nath Azad (1918–2004)
- اتنا بھی شور تو نہ غم سینہ چاک کرعشق اک لطیف شعلہ ہے اس کو نہ خاک کرJagan Nath Azad (1918–2004)
- اک نظر ہی دیکھا تھا شوق نے شباب ان کادن کو یاد ہے ان کی رات کو ہے خواب ان کاJagan Nath Azad (1918–2004)
- اوج کمال شعر ہے حمد و ثنا گریمجھ کو سکھا گئی ہے یہی کچھ سخنوریJagan Nath Azad (1918–2004)
- اے دل ناداں متاع کم نگاہی پر نہ جااور بھی کچھ دیکھ جسموں کی ادا ہی پر نہ جاJagan Nath Azad (1918–2004)
- پھر لوٹ کر گئے نہ کبھی دشت و در سے ہمنکلے بس ایک بار کچھ اس طرح گھر سے ہمJagan Nath Azad (1918–2004)
- تمام عمر مرے دل کو یہ غرور رہاکہ ایک لمحے کو یہ بھی ترے حضور رہاJagan Nath Azad (1918–2004)
- تیرا خیال ہے دل حیراں لیے ہوئےیا ذرہ آفتاب کا ساماں لیے ہوئےJagan Nath Azad (1918–2004)
- جب اپنے نغمے نہ اپنی زباں تک آئےترے حضور ہم آ کر بہت ہی پچھتائےJagan Nath Azad (1918–2004)
- جلوہ ترا اس طرح سے ناکام نہ ہوتاہم طور پہ ہوتے تو یہ انجام نہ ہوتاJagan Nath Azad (1918–2004)
- خیال یار جب آتا ہے بیتابانہ آتا ہےکہ جیسے شمع کی جانب کوئی پروانہ آتا ہےJagan Nath Azad (1918–2004)
- دل کا جہان تیرا چہک کر سنور گیاجلوہ ترا نظر سے جو دل تک اتر گیاJagan Nath Azad (1918–2004)
- کب اس میں شک مجھے ہے جو لذت ہے قال میںلیکن وہ بات اس میں کہاں ہے جو حال میںJagan Nath Azad (1918–2004)
- کوئی اظہار غم دل کا بہانہ بھی نہیںہو بہانہ بھی جو کوئی تو زمانہ بھی نہیںJagan Nath Azad (1918–2004)
- مری چشم تماشا اب جہاں ہےتجلی کارواں در کارواں ہےJagan Nath Azad (1918–2004)
- مری عمر رواں ہے اور میں ہوںیہ جنس رائیگاں ہے اور میں ہوںJagan Nath Azad (1918–2004)
- ممکن نہیں کہ بزم طرب پھر سجا سکوںاب یہ بھی ہے بہت کہ تمہیں یاد آ سکوںJagan Nath Azad (1918–2004)
- میں دل میں ان کی یاد کے طوفاں کو پال کرلایا ہوں ایک موج تغزل نکال کرJagan Nath Azad (1918–2004)
- نشے میں ہوں مگر آلودۂ شراب نہیںخراب ہوں مگر اتنا بھی میں خراب نہیںJagan Nath Azad (1918–2004)
- یوں اک سبق مہر و وفا چھوڑ گئے ہمہر راہ میں نقش کف پا چھوڑ گئے ہمJagan Nath Azad (1918–2004)