Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. کچھ خبر اے ہند والو ہے کہ تم ہو بے خبرکر رہا ہے ظلم ظالم قوم کے ہر فرد پرVafa Barahi (1917–1993)
  2. کہو یہ مغنی سے گائے چلا جانوائے مسرت سنائے چلا جاVafa Barahi (1917–1993)
  3. لگی آگ دل کی بجھائیں گے کیوں کرطبیعت کو رستے پہ لائیں گے کیوں کرVafa Barahi (1917–1993)
  4. پلا اے گروہ سخنوراں کوئی شعر تر گل تازہ رسیہ بہار میں بھی خموشیاں نہ سر جنوں نہ پئے ہوسJafar Tahir (1917–1977)
  5. پھر وہی قتل محبت زدگاں ہے کہ جو تھارسن و دار کا عالم میں سماں ہے کہ جو تھاJafar Tahir (1917–1977)
  6. تشنہ لبوں کی نذر کو سوغات چاہئےتیرے نثار تھوڑی سی برسات چاہئےJafar Tahir (1917–1977)
  7. چھیڑ کر تذکرۂ دور جوانی رویارات یاروں کو سنا کر میں کہانی رویاJafar Tahir (1917–1977)
  8. دونوں ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے بھاری پتھرمارنے آئے ہیں عیسیٰ کو حواری پتھرJafar Tahir (1917–1977)
  9. عرصۂ ظلمت حیات کٹےہم نفس مسکرا کہ رات کٹےJafar Tahir (1917–1977)
  10. غم دوراں غم جاناں غم جاں ہے کہ نہیںدل ستاں سلسلۂ‌ غم زدگاں ہے کہ نہیںJafar Tahir (1917–1977)
  11. کوئے حرم سے نکلی ہے کوئے بتاں کی راہہائے کہاں پہ آ کے ملی ہے کہاں کی راہJafar Tahir (1917–1977)
  12. کہنے کو تو کیا کیا نہ دل زار میں آئےہر بات کہاں قالب‌‌ اظہار میں آئےJafar Tahir (1917–1977)
  13. نشے میں چشم ناز جو ہنستی نظر پڑیتصویر ہوشیاری و مستی نظر پڑیJafar Tahir (1917–1977)
  14. ہر شے جہاں کی گرد و غبار خیال ہےآشوب گاہ دہر میں جینا محال ہےJafar Tahir (1917–1977)
  15. یہ اور بات کہ یہ سحر بیش و کم پہ چلاسیاہ رات کا جادو مگر نہ ہم پہ چلاJafar Tahir (1917–1977)
  16. یہ تمنا تھی کہ ہم اتنے سخنور ہوتےاک غزل کہتے تو آباد کئی گھر ہوتےJafar Tahir (1917–1977)
  17. یہ تو نہیں کہ ہم پہ ستم ہی کبھی نہ تھےاتنا ضرور تھا کہ وہ نا گفتنی نہ تھےJafar Tahir (1917–1977)
  18. طاہرؔ خدا کی راہ میں دشواریاں سہیعشق بتاں میں کون سی آسانیاں رہیںJafar Tahir (1917–1977)
  19. آواز دے رہی ہے یے کس کی نظر مجھےشاید ملے کنارہ وہیں ڈوب کر مجھےQamar Jalalabadi (1917–2003)
  20. اک حسین لا جواب دیکھا ہےرات کو آفتاب دیکھا ہےQamar Jalalabadi (1917–2003)
  21. با خبر تھا اک نظر میں دو جہاں لے جائے گامیری جاں بن کر وہ اک دن میری جاں لے جائے گاQamar Jalalabadi (1917–2003)
  22. تیرے خوابوں میں محبت کی دہائی دوں گاجب کوئی اور نہ ہوگا تو دکھائی دوں گاQamar Jalalabadi (1917–2003)
  23. چھوٹی سی بے رخی پہ شکایت کی بات ہےاور وہ بھی اس لئے کہ محبت کی بات ہےQamar Jalalabadi (1917–2003)
  24. محبت زندہ رہتی ہے محبت مر نہیں سکتیاجی انسان کیا یہ تو خدا سے ڈر نہیں سکتیQamar Jalalabadi (1917–2003)
  25. وہ ستم گر ہے خیالات سمجھنے والامجھ سے پہلے مرے جذبات سمجھنے والاQamar Jalalabadi (1917–2003)
  26. ہاں ان کے دلوں سے یہ پوچھو ارمانوں پہ کیا گزری ہےاوروں کو پلاتے رہتے ہیں اور خود پیاسے رہ جاتے ہیںQamar Jalalabadi (1917–2003)
  27. یا رب ترے کرم سے یہ سودا کریں گے ہمدنیا میں پی کے خلد میں توبہ کریں گے ہمQamar Jalalabadi (1917–2003)
  28. راہ میں ان سے ملاقات ہو گئیجس سے ڈرتے تھے وہی بات ہو گئیQamar Jalalabadi (1917–2003)
  29. کچھ تو ہے بات جو آتی ہے قضا رک رک کےزندگی قرض ہے قسطوں میں ادا ہوتی ہےQamar Jalalabadi (1917–2003)
  30. مرے خدا مجھے تھوڑی سی زندگی دے دےاداس میرے جنازے سے جا رہا ہے کوئیQamar Jalalabadi (1917–2003)
  31. اب میں ہوں آپ ایک تماشا بنا ہواگزرا یہ کون میری طرف دیکھتا ہواJagan Nath Azad (1918–2004)
  32. اتنا بھی شور تو نہ غم سینہ چاک کرعشق اک لطیف شعلہ ہے اس کو نہ خاک کرJagan Nath Azad (1918–2004)
  33. اک نظر ہی دیکھا تھا شوق نے شباب ان کادن کو یاد ہے ان کی رات کو ہے خواب ان کاJagan Nath Azad (1918–2004)
  34. اوج کمال شعر ہے حمد و ثنا گریمجھ کو سکھا گئی ہے یہی کچھ سخنوریJagan Nath Azad (1918–2004)
  35. اے دل ناداں متاع کم نگاہی پر نہ جااور بھی کچھ دیکھ جسموں کی ادا ہی پر نہ جاJagan Nath Azad (1918–2004)
  36. پھر لوٹ کر گئے نہ کبھی دشت و در سے ہمنکلے بس ایک بار کچھ اس طرح گھر سے ہمJagan Nath Azad (1918–2004)
  37. تمام عمر مرے دل کو یہ غرور رہاکہ ایک لمحے کو یہ بھی ترے حضور رہاJagan Nath Azad (1918–2004)
  38. تیرا خیال ہے دل حیراں لیے ہوئےیا ذرہ آفتاب کا ساماں لیے ہوئےJagan Nath Azad (1918–2004)
  39. جب اپنے نغمے نہ اپنی زباں تک آئےترے حضور ہم آ کر بہت ہی پچھتائےJagan Nath Azad (1918–2004)
  40. جلوہ ترا اس طرح سے ناکام نہ ہوتاہم طور پہ ہوتے تو یہ انجام نہ ہوتاJagan Nath Azad (1918–2004)
  41. خیال یار جب آتا ہے بیتابانہ آتا ہےکہ جیسے شمع کی جانب کوئی پروانہ آتا ہےJagan Nath Azad (1918–2004)
  42. دل کا جہان تیرا چہک کر سنور گیاجلوہ ترا نظر سے جو دل تک اتر گیاJagan Nath Azad (1918–2004)
  43. کب اس میں شک مجھے ہے جو لذت ہے قال میںلیکن وہ بات اس میں کہاں ہے جو حال میںJagan Nath Azad (1918–2004)
  44. کوئی اظہار غم دل کا بہانہ بھی نہیںہو بہانہ بھی جو کوئی تو زمانہ بھی نہیںJagan Nath Azad (1918–2004)
  45. مری چشم تماشا اب جہاں ہےتجلی کارواں در کارواں ہےJagan Nath Azad (1918–2004)
  46. مری عمر رواں ہے اور میں ہوںیہ جنس رائیگاں ہے اور میں ہوںJagan Nath Azad (1918–2004)
  47. ممکن نہیں کہ بزم طرب پھر سجا سکوںاب یہ بھی ہے بہت کہ تمہیں یاد آ سکوںJagan Nath Azad (1918–2004)
  48. میں دل میں ان کی یاد کے طوفاں کو پال کرلایا ہوں ایک موج تغزل نکال کرJagan Nath Azad (1918–2004)
  49. نشے میں ہوں مگر آلودۂ شراب نہیںخراب ہوں مگر اتنا بھی میں خراب نہیںJagan Nath Azad (1918–2004)
  50. یوں اک سبق مہر و وفا چھوڑ گئے ہمہر راہ میں نقش کف پا چھوڑ گئے ہمJagan Nath Azad (1918–2004)