قسم کھاتا ہوں میں ہندوستاں کی شان و شوکت کی
Vafa Barahi (1917–1993)قسم کھاتا ہوں میں ہندوستاں کی شان و شوکت کی
قسم کھاتا ہوں ہمت کی دلیری کی شجاعت کی
قسم کھاتا ہوں اے بھارت تری اگلی حکایت کی
قسم کھاتا ہوں اے غیرت تری پرجوش جرأت کی
کہ اپنی عظمت خفتہ کو نیزوں سے جگا دوں گا
مزہ بے جا جسارت کا حریفوں کو چکھا دوں گا
غضب کی بجلیاں بن کر مخالف کو جلا دوں گا
نئی دنیا نیا عالم نئی بستی بسا دوں گا
قسم کھاتا ہوں بھارت کے جوانوں کی جوانی کی
قسم کھاتا ہوں میں صبح وطن کی شادمانی کی
قسم کھاتا ہوں میں فتح و ظفر کی کامرانی کی
قسم کھاتا ہوں میں گنگ و جمن کی بھی روانی کی
سپاہی سورما بن کر ابھی میداں میں جاتا ہوں
کمر میں تیغ ہندی ہاتھ میں نیزہ اٹھاتا ہوں
کماں کو کھینچتا ہوں بان ارجن کا چلاتا ہوں
غرض یوں دشمنوں کے خون کی ندی بہاتا ہوں