نظر کو وقف جمال کر کے نہ ذکر کر لطف زندگی کا

Vafa Barahi (1917–1993)

نظر کو وقف جمال کر کے نہ ذکر کر لطف زندگی کا

حصول مقصد جہاں میں مشکل یہاں ہوا کون کب کسی کا

اسی کی اب تک نوائے رنگیں بنی ہوئی ہے حیات انساں

سکوت پیہم کے بعد تو نے جو ساز چھیڑا تھا زندگی کا

جنون فطرت بھی پل رہا تھا نقوش حسرت ابھر رہے تھے

نوید الفت کو سن کے چونکے کرم تھا شاید یہ بے خودی کا

کبھی نہ آنکھوں سے اشک نکلے کبھی نہ شکوہ زباں پہ آیا

یقین ہے تم تڑپ اٹھوگے کہوں گا جب حال بے بسی کا

اسی کے سننے کی ہے تمنا وفاؔ اسی کی مجھے ہوس ہے

نوائے الفت کے ساتھ اس نے جو ساز چھیڑا تھا زندگی کا